موہن بھاگوت کو امریکہ میں ’جوابی مہم‘ کا سامنا، ظہران ممدانی کو بھیجی گئیں پروگرام منسوخ کرنے کی سینکڑوں درخواستیں

مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن ’یو ایس سی آئی آر ایف نے اپنی 2026 کی سالانہ رپورٹ میں آر ایس ایس کے خلاف ہدف بنا کر پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی تھی۔

موہن بھاگوت کی فائل تصویر
i

آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت، جو اس تنظیم کی صد سالہ تقریب کے سلسلے میں عالمی رابطہ مہم کے لیے اپنے 3 ملکی دورے کے پہلے مرحلے میں نیویارک پہنچ چکے ہیں، کو ان کے دورے کی مخالفت کرنے والی ایک مضبوط مہم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بھاگوت کناڈا اور برطانیہ کا بھی دورہ کرنے والے ہیں، جو عوامی رابطہ مہم کا حصہ ہے۔ بھاگوت کے امریکہ پہنچنے سے قبل 1000 سے زائد امریکیوں نے بھاگوت کا امریکہ ویزا منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ سینکڑوں اپیلیں نیویارک کے میئر ظہران ممدانی سے کی گئی ہیں کہ وہ 29 اگست کو میڈیسن اسکوائر گارڈن میں بھاگوت کی ریلی منسوخ کریں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ میں ہندوستانی تارکین وطن کے ایک طبقہ، انڈین امریکن مسلم کونسل، ہندوز فار ہیومن رائٹس اور انڈین اوورسیز کانگریس، یو ایس اے کے علاوہ دیگر تنظیموں نے بھی امریکی پالیسی سازوں، کاروباری اور کمیونٹی رہنماؤں کو آر ایس ایس کے متنازعہ ماضی سے آگاہ کرنے کے لیے ایک مہم شروع کر دی ہے۔


درحقیقت مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن ’یو ایس سی آئی آر ایف، جو دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی نگرانی کے لیے امریکی کانگریس کے ذریعہ قائم کیا گیا ایک آزاد 2 جماعتی کمیشن ہے، نے اپنی 2026 کی سالانہ رپورٹ میں آر ایس ایس کے خلاف ہدف بنا کر پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی تھی۔ اس نے امریکہ میں موجود اثاثے منجمد کرنے اور ذمہ دار افراد کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگانے کی سفارش کی تھی۔ انڈین اوورسیز کانگریس نے ایک بیان میں کہا کہ ’’امریکی اداروں کو یہ سوال کرنا چاہیے کہ جس تنظیم کے خلاف یو ایس سی آئی آر ایف کی جانب سے ایسی غیر معمولی سفارش کی گئی ہے، اسے بیک وقت امریکہ میں پلیٹ فارم، سیاسی رسائی اور قانونی حیثیت کیوں فراہم کی جا رہی ہے۔‘‘

امریکی کانگریس کے لیے ڈیموکریٹک سوشلسٹ کی حیثیت سے انتخاب لڑنے والی کشاما ساونت نے ہفتہ کے روز بھاگوت کے پروگرام کو منسوخ کرنے میں نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی ناکامی پر مایوسی کا اظہار کیا۔ ممدانی نے کہا تھا کہ اگرچہ انہیں ایک سیکولر اور جامع ہندوستان پر فخر ہے، جہاں ان کی والدہ کا خاندان اب بھی رہتا ہے، لیکن ان کے پاس کسی پرائیویٹ ریلی کو منسوخ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔


ساونت نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’سیئٹل سٹی کونسل میں واحد سوشلسٹ کی حیثیت سے اپنی ایک دہائی کے دوران میں نے اپنے عہدے کا استعمال ایسی تحریکیں بنانے کے لیے کیا جن کے ذریعے مودی اور بی جے پی-آر ایس ایس کے مسلم مخالف، غریب مخالف شہریت قوانین کی مذمت کرنے والی ملک کی پہلی قرارداد منظور کرائی گئی۔ میں نے جنوبی ایشیا سے باہر ذات پات کی بنیاد پر امتیاز پر پہلی اور واحد پابندی بھی حاصل کی۔ مودی حکومت مجھ سے بدلہ لے رہی ہے اور مجھے اپنی والدہ اور خاندان سے ملنے کے لیے ہندوستان کا دورہ کرنے کا ویزا دینے سے انکار کر رہی ہے۔‘‘

امریکہ میں کئی گروپوں نے اس ہندو تنظیم کے مذہبی اقلیتوں کے خلاف ’انتہائی تشدد اور عدم برداشت کے اعمال‘ میں ملوث ہونے کو اجاگر کیا ہے۔ 2002 کے گجرات قتل عام کے دوران بھاگوت بھی آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری تھے۔ ہیومن رائٹس واچ نے آر ایس ایس کو ان گروپوں میں شامل کیا جنہیں مسلم مخالف تشدد کے لیے ’سب سے زیادہ براہ راست ذمہ دار‘ قرار دیا گیا تھا، جس میں تقریباً 2,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ آئی اے ایم سی کے صدر محمد جواد نے کہا کہ ’’موہن بھاگوت ہند نژاد امریکیوں کی نمائندگی نہیں کرتے اور میڈیسن اسکوائر گارڈن کو انہیں اس طرح پیش نہیں کرنا چاہیے جیسے وہ ان کی نمائندگی کرتے ہوں۔‘‘


ساونت نے اس دورے کی مخالفت میں سخت موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’’بی جے پی-آر ایس ایس کے لیڈران اور ہندوستان میں ارب پتی طبقے نے نسل کشی و نسل پرستی پر مبنی اسرائیلی ریاست کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے ہیں۔ اسرائیلی پیگاسس اسپائی ویئر کا استعمال ہندوستانی کارکنوں، سرکاری عہدیداروں اور آزاد صحافیوں کی حیرت انگیز حد تک نگرانی کے لیے کیا گیا ہے۔ اپنے میئر کے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے پروگرام منسوخ کرنے اور بھاگوت اور آر ایس ایس کی مذمت کرنے سے انکار کر کے ممدانی ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر مظلوم برادریوں اور فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے میں ناکام ہو رہے ہیں۔‘‘

انڈین اوورسیز کانگریس، یو ایس اے نے ایک بیان میں آر ایس ایس سربراہ کے امریکی دورے اور آر ایس ایس کو امریکیوں کے سامنے ’عالمگیر یکجہتی‘ کو فروغ دینے والی ایک بے ضرر ثقافتی تنظیم کے طور پر پیش کرنے کی بڑھتی ہوئی کوشش پر تشویش کا اظہار کیا۔ آئی او سی نے اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہ ’’ہماری تنقید ہندو مذہب یا ہندوؤں کے خلاف نہیں بلکہ مذہبی شناخت کو سیاسی ہتھیار بنانے کے خلاف ہے۔‘‘ انھوں نے 1999 میں آسٹریلوی عیسائی مذہبی رہنما گراہم اسٹینز کے قتل کا حوالہ بھی دیا۔


یہ کہتے ہوئے کہ امریکہ کو ہندوستان کی مذہبی تقسیم درآمد کرنے کے لیے ایک اور میدان جنگ نہیں بننا چاہیے، آئی او سی یو ایس اے کے بیان میں ہندوستانی امریکی برادری کے کچھ اراکین کی جانب سے امریکہ میں اکثریت پسند نظریات کو فروغ دینے کی طرف اشارہ کیا گیا، جبکہ وہ امریکی آئینی نظام کی جانب سے ضمانت دی گئی آزادیوں اور تحفظات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انڈین اوورسیز کانگریس، یو ایس اے کے نائب چیئرمین جارج ابراہم نے نظریاتی تنازعات کو امریکہ میں درآمد کرنے کے خلاف خبردار کیا۔ ابراہم نے کہا کہ ’’ہمیں مذہبی نفرت کی سیاست کو اپنی تارکین وطن برادری میں جڑ پکڑنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ یہ ہمارے مندروں، چرچوں، مساجد، گردواروں، انجمنوں، محلوں اور آخرکار ہمارے بچوں کو تقسیم کر دے گی۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہمارے سیاسی اختلافات خواہ کچھ بھی ہوں، ہند نژاد امریکی برادری کو ان گروپوں کے لیے بیرون ملک میدان جنگ نہیں بننا چاہیے جو مذہبی بنیادوں پر ہندوستان کو پولرائز کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔