
کانگریس صدر کھڑگے اور راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia
ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کے خلاف کانگریس نے 24 فروری کو مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں ’کسان مہاپنچایت‘ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مہاپنچایت میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کے ساتھ ساتھ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے بھی شریک ہوں گے۔ ہزاروں کسانوں کی موجودگی اس مہاپنچایت کی اہمیت واضح کرے گی اور سبھی مل کر مودی حکومت کے کسان مخالف تجارتی معاہدہ کی حقیقت کو سامنے لائیں گے۔
Published: undefined
کانگریس کے ریاستی انچارج ہریش چودھری نے اس مہاپنچایت کی اہمیت کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’تاریخ گواہ ہے، 1965 اور 1971 کی دہائی میں امریکہ کے ذریعہ اجناس کی فراہمی روکے جانے سے ملک کی حالت انتہائی خراب ہو گئی تھی۔ اس کے بعد سبز انقلاب کے ذریعہ ہندوستان خود کفیل بنا۔‘‘ انھوں نے متنبہ کیا کہ مجوزہ تجارتی معاہدہ سے ملک میں پھر سے ویسے ہی خطرناک حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔
Published: undefined
ہریش چودھری کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ سویابین کی درآمد ہوئی تو ملک کے کسان اور چھوٹے کاروباریوں پر زبردست منفی اثر پڑے گا۔ کپاس کے معاملہ میں ہندوستان خود کفیل ہے، پھر بھی اگر امریکہ سے کپاس کی برآمدگی ہوئی تو ہندوستانی کسانوں کی آمدنی اور صارفیت پر براہ راست اثر پڑے گا۔ کانگریس لیڈر نے اعلان کیا کہ 24 فروری سے بھوپال سے عوامی بیداری اور تحریک کی ابتدا کی جائے گی، اور پورے ملک میں لوگوں کو بیدار کیا جائے گا۔
Published: undefined
مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے بھی اس معاملہ میں اہم جانکاریاں میڈیا کو دیں۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کی ریڑھ زراعت ہے۔ آزادی کے بعد کبھی بھی بیرون ملکی طاقتوں کو زراعت میں مداخلت کا موقع نہیں دیا گیا، لیکن مودی حکومت کی آمد کے بعد لگاتار زرعی شعبہ کو بیرون ملکی طاقتوں کے حوالہ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ پی ایم مودی نے ہندوستانی کسانوں کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کر دیا ہے۔ یہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کسانوں کی بے عزتی ہے۔ ایسے میں مدھیہ پردیش کا کسان خاموش نہیں بیٹھے گا۔ یہ کسان تحریک کی ابتدا ہے، جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ کسان تحریک کی شروعات بدھنی میں کسان چوپال سے ہوگی اور ودیشا سے کسان پدیاترا شروع کی جائے گی۔ حزب اختلاف کے قائد امنگ سنگھار نے اس تحریک کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ ہوا تجارتی معاہدہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس طرح کے ’سرینڈر‘ کے پیچھے کئی مشتبہ کہانیاں ہو سکتی ہیں۔ امریکہ نے پاکستان کو کھلی حمایت دی ہے اور مودی حکومت ہمارے دشمنوں کے ساتھ دوستی نبھا رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ میں تیار مصنوعات ہندوستان میں فروخت کرنے کی تیاری ہے، جبکہ ملک کا کسان ابھی تک خوشحال نہیں ہوا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined