گنگا بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیر اعظم طارق رحمن کا لے گی امتحان... اشوک سوین
گنگا آبی معاہدہ دسمبر میں ختم ہو رہا ہے۔ پنی کے بدلے ہوئے بہاؤ نے شرطوں پر بات چیت کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے دو تہائی اکثریت سے انتخاب جیتنے اور طارق رحمن کے وزیر اعظم بننے کے ساتھ ملک میں تقریباً 35 برسوں میں پہلی بار کوئی مرد حکومت کا سربراہ بنا ہے۔ انتخابی نتائج 15 برس سے زیادہ عرصہ سے شیخ حسینہ اور عوامی لیگ کے غلبہ والے سیاسی نظام میں دراڑ دکھاتے ہیں۔ اب اس حکومت سے امیدیں بہت زیادہ ہیں، یعنی نئے وزیر اعظم پر بہت زیادہ دباؤ ہے۔ داخلی طور پر طارق رحمن کو اس قانون و انتظام کو درست کرنا ہے جس میں پولیس پر بری طرح سیاسی رنگ چڑھ چکا ہے۔ سرکاری اداروں میں عوام کا اعتماد بھی دوبارہ قائم کرنا ہے اور خستہ حال معیشت کو پٹری پر بھی لانا ہے۔
طارق رحمن کو جلد ہی آئین میں بھی اصلاحات کرنی ہوں گی، لیکن ان کی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے اپوزیشن جماعت اسلامی اور نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کی مخالفت کے بعد مجوزہ آئینی اصلاحی کونسل کے رکن کے طور پر کام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ نو منتخب بی این پی اراکین پارلیمنٹ کا استدلال ہے کہ کونسل کو موجودہ آئین میں شامل نہیں کیا گیا ہے، اور ایسے کسی بھی ادارے یا اصلاحات کو پہلے پارلیمانی عمل کے ذریعے قانونی طور پر منظور کیا جانا چاہیے۔
ملک سے باہر طارق رحمن کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنے اہم اور طاقتور پڑوسی ہندوستان کے ساتھ تعلقات ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے حل طلب سیاسی اور ساختیاتی مسائل ان کے وزارت عظمیٰ کے ابتدائی برسوں کی سمت متعین کریں گے۔ سب سے بڑی مشکل شیخ حسینہ کی ہندوستان میں موجودگی کو لے کر ہے۔ حسینہ کے سیاسی زوال اور بنگلہ دیش میں انہیں سزائے موت سنائے جانے کے بعد ہندوستان میں انہیں پناہ ملتے رہنا علامتی ہونے کے ساتھ ساتھ عملی رکاوٹ بھی بن جاتا ہے۔ حسینہ کی حوالگی پر زور دینا بنگلہ دیش میں ایک مقبول مطالبہ ہو سکتا ہے، لیکن سفارتی طور پر یہ بے سود ہوگا۔ خاص طور پر تاریخی ذمہ داریوں کی وجہ سے ہندوستان کے انہیں حوالے کرنے کی توقع کم ہے۔ ایک زیادہ عملی منظرنامہ، جسے دونوں فریق خاموشی سے قبول کر لیں، یہ ہو سکتا ہے کہ حسینہ سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں کے ساتھ ہندوستان میں رہیں۔ لیکن اگر اس حساس مسئلہ کو باضابطہ معاہدے کے بجائے پس پردہ اتفاق رائے سے نمٹایا جاتا ہے، تو بھی یہ باہمی عدم اعتماد کا سبب بنا رہے گا۔
بنگلہ دیش اور ہندوستان تعلقات کا اس سے بڑا امتحان کچھ اور ہے۔ 1996 میں دستخط شدہ 30 سالہ گنگا آبی تقسیم معاہدہ دسمبر 2026 میں ختم ہو جائے گا۔ یہ معاہدہ مغربی بنگال میں فرخہ بیراج سے خشک موسم (جنوری تا مئی) میں پانی کی تقسیم کو منظم کرتا ہے۔ اگر یہ معاہدہ ختم ہو جاتا ہے تو سال کے اس نازک عرصہ میں بنگلہ دیش میں پانی کی شدید قلت ہو جائے گی۔ اس لیے معاہدے کے باضابطہ طور پر ختم ہونے تک اس موضوع کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس معاملہ میں کسی بھی بحران سے بچنے کے لیے پہلے ہی اتفاق بنانا ہوگا۔
بنگلہ دیش کے لیے اس سے بڑھ کر کچھ بھی داؤ پر نہیں۔ گنگا اس کے لیے شہ رگ ہے، جو ملک کے جنوب مغرب کے بڑے حصوں میں زراعت، ماہی گیری، آبی نقل و حمل، ماحولیاتی نظام اور روزگار کو برقرار رکھتی ہے۔ 1975 میں فرخہ بیراج کے مکمل ہو کر فعال ہونے کے بعد سے ہی خشک موسم میں پانی کے بہاؤ میں کمی کے باعث پہلے ہی پیداوار میں کمی، حیاتیاتی تنوع کا نقصان اور سماجی و معاشی دباؤ موجود ہے۔ یہ اثر مسلسل بڑھتا ہوا اور ساختی نوعیت کا ہے۔ پانی کی دستیابی میں مزید کمی یا اس کی دستیابی کے حوالے سے طویل مدتی غیر یقینی صورتحال بنگلہ دیش میں تشویش بڑھائے گی اور کمزور دیہی معیشت پر دباؤ ڈالے گی۔
ہندوستان کے لیے، خاص طور پر مودی حکومت کے لیے، اس کی شرائط پر دوبارہ گفت و شنید کرنا سیاسی طور پر مشکل ہے۔ بنگلہ دیش کے ساتھ پانی کی تقسیم باضابطہ طور پر دوطرفہ معاملہ ہے، لیکن درحقیقت یہ ہندوستان کی وفاقی سیاست سے گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔ فرخہ بیراج مغربی بنگال میں ہے اور بالائی حصے سے پانی کے اخراج کو متاثر کرنے والے کسی بھی معاہدے میں اس کا بڑا کردار ہے۔ بنگلہ دیش جس طرح کی آبی تقسیم کو منصفانہ سمجھتا ہے، اس کے لیے مغربی بنگال حکومت کی رضامندی حاصل کرنا پہلے بھی آسان نہیں رہا، اور موجودہ سیاسی حالات میں، جب ریاستی اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں، یہ اور بھی مشکل ہو سکتا ہے۔
ایک اور پہلو بھی ہے۔ مودی حکومت کی عادت ہے کہ وہ علاقائی آبی تعاون کے بجائے داخلی قلیل مدتی سیاسی فائدوں کو ترجیح دیتی ہے۔ خاص طور پر اگر اسے لگے کہ پڑوسی ممالک کو رعایت نہ دینے سے ریاستوں میں انتخابی فائدہ مل سکتا ہے۔ گنگا کی بدلتی آبی نوعیت کو دیکھتے ہوئے مستقبل کی بات چیت مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ سرحد کے دونوں جانب آبادی میں اضافہ اور ترقی کے باعث پانی کی طلب تیزی سے بڑھی ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی نے گنگا کے بہاؤ کے حوالے سے نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ بدلتے مانسون کے پیٹرن، بارش میں اضافہ، ہمالیہ میں گلیشیئرز کا پیچھے ہٹنا اور بار بار آنے والے شدید موسمی واقعات... یہ سب دریا کے بہاؤ کو بدل رہے ہیں۔
1996 کے گنگا آبی معاہدے نے 1949 سے 1988 تک کے اوسط بہاؤ کی بنیاد پر ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پانی تقسیم کیا تھا۔ تب سے گنگا میں پانی کا بہاؤ نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ آئی آئی ٹی گاندھی نگر کے محققین کی ایک حالیہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1980 کے بعد سے سندھ طاس میں سالانہ آبی بہاؤ 8 فیصد بڑھا ہے، جبکہ گنگا طاس میں 17 فیصد کمی آئی ہے۔ پہلے کی گفت و شنید اور 1996 کے معاہدے کی بنیاد بننے والے بہاؤ کو آج جوں کا توں قبول نہیں کیا جا سکتا۔
بنگلہ دیش کے نقطۂ نظر سے یہ ایک پرانی تشویش کو مزید تقویت دیتا ہے۔ 1996 کے معاہدے کو ایک سفارتی کامیابی سمجھا گیا تھا، لیکن اس وقت کا معاہدہ سیاسی سوچ کے تحت طے ہوا تھا۔ دونوں ممالک کو پرانے بہاؤ کے اعداد و شمار سے جڑے تقسیم کے فارمولے میں باندھتے ہوئے، معاہدے نے موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنائے جانے والا ایک طاس پر مبنی فریم ورک تیار نہیں کیا۔ جیسے جیسے موسمیاتی دباؤ بڑھے گا، یہ فارمولہ بوجھ بن جائے گا، جس سے بنگلہ دیش کے زیریں حصے میں ایسے خطرات پیدا ہوں گے جن کے پیدا ہونے میں اس کا کوئی کردار نہیں۔
اس راستے پر چلتے ہوئے طارق رحمن کو اسٹریٹجک وضاحت، سیاسی ہمت اور سفارتی مہارت کی ضرورت ہوگی۔ شیخ حسینہ کے برعکس وہ ساختی اختلافات کو حل کرنے کے لیے نئی دہلی کے ساتھ ذاتی ہم آہنگی یا نظریاتی ہم آہنگی پر مبنی اعتماد پر انحصار نہیں کر سکتے۔ ان کی حکومت کو بنگلہ دیش کے آبی تحفظ سے متعلق خدشات کو مضبوط لیکن مثبت انداز میں پیش کرنا ہوگا اور ایسا کرتے ہوئے قوم پرستانہ اشتعال سے بچنا ہوگا اور ساتھ ہی ایسے بندوبست کو قبول کرنے سے بھی انکار کرنا ہوگا جو کمزوری کو برقرار رکھے۔ سیاسی طور پر طارق رحمن کے لیے 1996 میں شیخ حسینہ کے ذریعہ طے شدہ معاہدے سے کم فائدہ مند سمجھوتہ قبول کرنا خود کشی کے مترادف ہوگا۔
گنگا طاس میں طویل مدتی آبی تحفظ ڈاٹا کے تبادلے، مشترکہ نگرانی، لچکدار تقسیم کے نظام اور آبی نظم و نسق کے لیے تعاون پر مبنی رویے پر منحصر ہے۔ کیا مودی حکومت، جو اکثر طویل مدتی علاقائی استحکام اور قومی مفاد کے بجائے داخلی قلیل مدتی سیاسی فائدوں کے لیے زیادہ پرعزم دکھائی دیتی ہے، اس سمت آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے، یہ ایک کھلا سوال ہے۔
موجودہ آبی معاہدوں پر نظرثانی کرنے یا انہیں ہتھیار بنانے کی دھمکیاں ہندوستان کے وسیع تر علاقائی طرز عمل کا حصہ بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں جہاں سندھ طاس معاہدہ معطل کیا جا چکا ہے، نئی دہلی کو گنگا کے لیے زیادہ تعاون پر مبنی اور قابل قبول فریم ورک اپنانے پر آمادہ کرنا بہت مشکل ہوگا۔ پھر بھی ایسا نہ کرنے کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ مذاکرات میں ناکامی نہ صرف بنگلہ دیش-ہندوستان تعلقات کو نقصان پہنچائے گی بلکہ جنوبی ایشیا کے علاقائی استحکام کو بھی کمزور کرے گی۔
گنگا آبی تقسیم معاہدے پر دوبارہ مذاکرات، طارق رحمن کے وزیر اعظم کی حیثیت سے ابتدائی دور میں خارجہ پالیسی کا سب سے اہم امتحان ہوگا۔ تجارت یا خیر سگالی کے علامتی اشاروں سے کہیں بڑھ کر، یہ ظاہر کرے گا کہ کیا وہ ہندوستان کے ساتھ قابل عمل تعلقات برقرار رکھتے ہوئے بنگلہ دیش کے مفادات کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ یہ ہندوستان کے لیے بھی ایک آزمائش ہوگی کہ کیا وہ ایک ذمہ دار علاقائی طاقت کے طور پر کام کرنے کی خواہش رکھتا ہے یا پھر ایک ضدی بالائی دھارے کے غلبہ پسند کی طرح برتاؤ کرتا ہے!
(مضمون نگار سویڈن کی اُپسالا یونیورسٹی میں امن و تنازعہ تحقیق کے پروفیسر اور بین الاقوامی آبی تعاون پر یونیسکو چیئر ہیں)
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔