قومی خبریں

ای ڈی افسران کے خلاف ایف آئی آر کا معاملہ، جھارکھنڈ حکومت پر 8 ہزار روپے جرمانہ

جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے ای ڈی کے سابق افسران کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست پر جواب کے لیے مہلت مانگنے پر ریاستی حکومت پر جرمانہ عائد کیا، اس سے پہلے ہیمنت سورین پر بھی جرمانہ لگ چکا ہے

<div class="paragraphs"><p>جھارکھنڈ ہائی کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>

جھارکھنڈ ہائی کورٹ / آئی اے این ایس

 

رانچی: جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے سابق افسران کے خلاف ایس سی، ایس ٹی ایکٹ کے تحت درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران ریاستی حکومت پر آٹھ ہزار روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔ حکومت نے جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت مانگا تھا۔ عدالت نے جرمانے کی رقم جھارکھنڈ اسٹیٹ لیگل سروسز اتھارٹی (جھالسا) کے اکاؤنٹ میں جمع کرانے کی ہدایت دی۔

پیر کو سماعت کے دوران حکومت نے جواب داخل کرنے کے لیے مہلت طلب کی، جس پر عدالت نے آٹھ ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔ گزشتہ سماعت میں سابق وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے جواب کے لیے چار ہفتے کا وقت مانگا تھا۔ عدالت نے انہیں مہلت دیتے ہوئے دس ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس طرح وقت مانگنے پر حکومت اور سورین، دونوں پر جرمانہ لگ چکا ہے۔

یہ درخواست ای ڈی کے سابق افسران کپل راج، دیورت جھا اور دیگر نے دائر کی ہے۔ انہوں نے سورین کی شکایت پر درج ایف آئی آر منسوخ کرنے اور پولیس کارروائی روکنے کی استدعا کی ہے۔ ای ڈی کی طرف سے سینئر وکیل امیت کمار داس اور وکیل سوربھ کمار نے پیروی کی۔

معاملہ 31 جنوری 2024 کو درج ایف آئی آر سے متعلق ہے۔ اس روز سورین نے رانچی کے ایس سی، ایس ٹی تھانے میں ای ڈی کے اس وقت کے افسران کپل راج، دیورت جھا، انوپم کمار، امن پٹیل اور دیگر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔

شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ ای ڈی افسران نے سورین کو 29 سے 31 جنوری 2024 تک رانچی میں رہنے کو کہا تھا۔ اسی دوران ان کی غیر موجودگی میں دہلی کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی، جس کی انہیں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ سورین نے اسے ذہنی اور سماجی ہراسانی قرار دیا تھا۔

انہوں نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ میڈیا کے ذریعے گمراہ کن باتیں پھیلا کر ان کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے بعد ای ڈی افسران نے ہائی کورٹ سے رجوع کرکے ایف آئی آر منسوخ کرنے اور پولیس کارروائی روکنے کی درخواست کی۔

ہائی کورٹ نے پہلے افسران کو جاری پولیس نوٹس اور مزید کارروائی پر روک لگاتے ہوئے ریاستی حکومت سے جواب طلب کیا تھا۔ تازہ سماعت میں حکومت کی جانب سے مہلت مانگنے پر جرمانہ عائد کیا گیا۔ حکومت کو جواب داخل کرنا ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔