’اب کبھی کسی احتجاج میں نہیں جاؤں گا‘، بامبے ہائی کورٹ میں بولے بالی ووڈ اداکار عمران خان

عدالت نے عمران خان سے کہا کہ ’آپ او سی آئی کارڈ ہولڈر ہیں اور ہندوستانی شہری کی طرح برتاؤ نہیں کر سکتے۔ ایس آئی آر پر آپ کو کچھ بولنے کا حق نہیں ہے۔ آپ کو احتجاج میں حصہ لینے کا بھی کوئی حق نہیں تھا۔‘

<div class="paragraphs"><p>بالی ووڈ اداکار عمران خان، ویڈیو گریب</p></div>
i

بالی ووڈ اداکار عمران خان کو ہندوستان چھوڑنے کا نوٹس ملا تھا۔ فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (ایف آر آر او) کے ’لیو انڈیا نوٹس‘ کے خلاف بامبے ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اس دوران اداکار عمران خان نے عدالت سے وعدہ کیا ہے کہ وہ مستقبل میں کسی بھی احتجاج میں شامل نہیں ہوں گے۔ چیف جسٹس ایم سی ترپاٹھی اور جسٹس ادوَیت سیٹھنا کی بنچ نے گزشتہ ہفتہ ہی اس نوٹس پر روک لگا دی تھی۔ سماعت کے دوران عمران خان کی جانب سے پیش سینئر وکیل وینکٹیش دھونڈ نے عرضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اداکار کا کسی بھی احتجاجی تنظیم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ ’’مجھ سے نہ تو کوئی پوچھ تاچھ ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی سمن بھیجا گیا ہے۔ تمام دفعات ضمانتی ہیں۔‘‘

ریاستی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے۔ ایف آر آر او کی جانب سے پیش ایڈیشنل سالیسٹر جنرل انل سنگھ نے عدالت سے کہا کہ ان کے پاس کافی ثبوت موجود ہیں، جسے وہ عدالت میں پیش کر سکتے ہیں۔ انل سنگھ نے مزید کہا کہ ’’عرضی گزار کہتے ہیں کہ احتجاج سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن سوشل میڈیا پر ان کی پوسٹ اور اپلوڈ مواد کو دیکھیے۔ انہوں نے ایک انٹرویو بھی دیا ہے، جسے انہوں نے عرضی میں نہیں سونپا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کے لاکھوں فالوورز ہیں۔‘‘


عمران خان کی جانب سے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ’’میرے پاس امریکی پاسپورٹ اور او سی آئی کارڈ کی فوٹو کاپی موجود ہے۔ میں امریکہ میں پیدا ہوا تھا، اس لیے وہاں کی شہریت رکھتا ہوں۔ لیکن میری پوری زندگی یہیں گزری ہے۔ پہلے میرے پاس پی آئی او کارڈ تھا۔ میں بچپن سے یہیں رہا ہوں، یہیں شادی کی اور بالی ووڈ فلموں میں کام کیا۔‘‘ وکیل نے مزید کہا کہ ’’احتجاج کرنے والی تنظیم میں گاندھی جی کے ایک خاندان کے فرد سمیت کئی لوگ شامل تھے۔ میں عدالت کو تحریری طور پر یقین دہانی کرانے کے لیے تیار ہوں کہ آئندہ کسی بھی احتجاجی مظاہرے میں میں حصہ نہیں لوں گا۔‘‘

دوسری جانب اس معاملے پر بنچ نے کہا کہ ’’الزامات انتہائی سنگین ہیں۔ آپ او سی آئی کارڈ ہولڈر ہیں اور ہندوستانی شہری کی طرح برتاؤ نہیں کر سکتے۔ ایس آئی آر کے معاملے پر آپ کو کچھ بولنے کا حق نہیں ہے۔ آپ کو احتجاج میں حصہ لینے کا بھی کوئی حق نہیں تھا۔‘‘ عدالت نے سوال کیا کہ ’’آپ بچپن سے یہیں رہ رہے ہیں اور بالی ووڈ اسٹار بھی بن چکے ہیں، تو پھر ہندوستانی شہریت کیوں قبول نہیں کر لیتے؟‘‘ وکیل دھونڈ نے کہا کہ وہ اس معاملے پر ہدایات حاصل کریں گے، تاہم عدالت میں تحریری یقین دہانی (انڈرٹیکنگ) دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ عدالت نے بھی ہدایت دی کہ او سی آئی کارڈ ہولڈر ہونے کے ناطے انہیں عدالت میں تحریری یقین دہانی جمع کرانی ہوگی۔