’پہلے ثبوت دکھائیے‘، عمران خان نے ممبئی پولیس کی رپورٹ پر اٹھائے سوال
عمران خان نے کہا ہے کہ اگر ان کی ’اوورسیز سٹیزن شپ آف انڈیا‘ رجسٹریشن منسوخ کرنے جیسی بڑی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے، تو پہلے وہ تمام دستاویزات اور ثبوت دکھائے جائیں۔
بالی ووڈ اداکار عمران خان ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ ان کی شہریت کے حوالے سے تنازعہ جاری ہے۔ عمران نے 17 اکتوبر کو ’فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس‘ (ایف آر آر او) کی جانب سے جاری کیے گئے وجہ بتاؤ نوٹس کا جواب دے دیا ہے۔ لیکن اس جواب میں انہوں نے صرف اپنا موقف پیش نہیں کیا، بلکہ افسران سے کئی سوالات بھی کیے ہیں۔ عمران خان نے کہا ہے کہ اگر ان کی ’اوورسیز سٹیزن شپ آف انڈیا‘ (او سی آئی) رجسٹریشن منسوخ کرنے جیسی بڑی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے، تو پہلے انہیں وہ تمام دستاویزات اور ثبوت دکھائے جائیں، جس کی بنیاد پر یہ قدم اٹھانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ عمران خان کا سیدھا سوال ہے کہ جب تک انہیں یہ پتہ ہی نہیں ہوگا کہ ان کے خلاف معاملہ کس بنیاد پر بنایا گیا ہے، تب تک وہ اپنا دفاع کیسے کریں گے؟
ایم جی ایم لیگل کے ذریعے داخل کیے گئے جواب میں عمران خان نے قواعد کا حوالہ دیا ہے، اور کہا ہے کہ کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے اسے صرف کارروائی کی وجہ بتانا کافی نہیں ہے۔ افسران کو ان ثبوتوں اور دستاویزات کی جانکاری بھی دینی چاہیے، جس کی بنیاد پر انہوں نے کوئی رائے قائم کی ہے۔ عمران کے مطابق متعلقہ شخص کو پوری معلومات فراہم کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ الزامات کو سمجھ سکے، ان کا جواب دے سکے اور ضرورت پڑنے پر ان پر سوالات بھی اٹھا سکے۔ ایسے میں عمران خان چاہتے ہیں کہ ایف آر آر او ان کے سامنے پورا معاملہ پیش کرے، نہ کہ نامکمل معلومات کی بنیاد پر ان سے جواب طلب کرتا رہے۔
اس معاملے میں عمران خان نے ممبئی پولیس کی رپورٹ کا بھی خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے جن دستاویزات یا دیگر مواد کی بنیاد پر رپورٹ تیار کی ہے، وہ مکمل طور پر فراہم نہیں کی گئی۔ اپنے جواب میں انہوں نے کہا کہ ممبئی پولیس کی جانب سے اس معاملے میں جمع کرائی گئی رپورٹ سمیت ضروری مواد انہیں نہیں دیا گیا ہے۔ عمران خان کی دلیل ہے کہ اگر اسی رپورٹ یا دیگر دستاویزات کی بنیاد پر ان کا او سی آئی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی ممکنہ کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے، تو انہیں بھی ان دستاویزات کو دیکھنے کا پورا موقع ملنا چاہیے۔ آخر یہ معاملہ ان کے حقوق سے متعلق ہے، اس لیے وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ افسران کے پاس ان کے خلاف کیا جانکاری موجود ہے۔
عمران نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ پورے معاملے میں ان کا موقف جاننے کی کوشش تک نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق ایف آئی آر درج ہونے کے سلسلے میں ممبئی پولیس نے ان کا بیان ریکارڈ کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ عمران کا کہنا ہے کہ اگر پولیس نے اس معاملے میں کوئی رپورٹ تیار کرکے ایف آر آر او کو بھیجی ہے، تو اس میں ان کا موقف بھی شامل ہونا چاہیے تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ کسی بھی معاملے میں غیر جانب دارانہ فیصلہ کرنے کے لیے سبھی فریق کی بات سننا ضروری ہے۔ اگر ایک فریق کی معلومات کی بنیاد پر رپورٹ تیار کی جاتی ہے اور دوسرے فریق کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا، تو اس طریقۂ کار پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
