
رندیپ سرجے والا / سوشل میڈیا
کانگریس کے راجیہ سبھا رکن رندیپ سنگھ سرجے والا نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے پر حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہوئے تجارتی معاہدہ میں ہندوستانی کسانوں، انرجی سیکورٹی اور ڈیجیٹل فریڈم کی قربانی دی گئی ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران کانگریس کے سینئر لیڈر نے ’آتم نربھر بھارت‘ (خود کفیل ہندوستان) کے نعرے پر ہی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یو ایس ڈیل کے خدشات کے درمیان ہندوستان ’امریکہ نربھر‘ (امریکہ پر منحصر) بن رہا ہے۔ اس تجارتی معاہدے میں مودی حکومت نے کسانوں اور زرعی زمین کے مالکان کی قربانی دی ہے۔
Published: undefined
رندیپ سرجے والا نے ڈیجیٹل فریڈم اور ڈیٹا پرائیویسی پر بھی سنگین سوال کھڑے کیے ہیں۔ ہندوستانی مفادات کے تحفظ کو مضبوط کرنے کے بجائے ایک مضبوط حکومت نے ہندوستان کی آزادی اور ڈیٹا پرائیویسی سے سمجھوتہ کیا ہے۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ’’یہ ایک مضبوط سرکار ہے یا ایک کمزور سرکار ہے؟ کیا آتم نربھر بھارت (خود کفیل ہندوستان) ہے یا امریکہ نربھر (امریکہ پر منحصر) ہندوستان ہے؟‘‘
Published: undefined
کانگریس لیڈر نے کہا کہ مجھے یہ جان کر افسوس ہوا کہ جب ہمارے وزیر خارجہ سے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہوئے تجارتی معاہدہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ معاملہ دوسرے محکمہ کا ہے۔ جب ہمارے وزیر خارجہ کو ہندوستان اور امریکہ کے درمیان عبوری تجارتی معاہدے کی سمجھ اور معلومات کی کمی ہے تو مجھ سے ایسے جواب سے مطمئن ہونے کی امید کیسے کی جا سکتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ تجارتی معاہدہ امریکی پراسیس شدہ پھلوں اور اضافی مصنوعات کے لیے مقامی بازار کھول کر ہندوستانیوں کی روزی روٹی کو تباہ کر دے گی۔
Published: undefined
راجیہ سبھا رکن رندیپ سرجے والا کے مطابق 334 ملین ڈالر کی موجودہ کارٹن امپورٹ (کپاس کی درآمد) سے گھریلو قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے پوچھا کہ کیا اس میں دودھ، گیہوں اور ڈیری مصنوعات ’زیرو ٹیرف کنسیشنل‘ میں شامل ہیں؟ قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے عبوری تجارتی معاہدہ کے لیے ایک فریم ورک کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ہندوستان امریکی صنعتی سامان اور خشک میوہ جات سمیت کئی مصنوعات پر ٹیرف ختم کرنے یا کم کرنے پر راضی ہو گیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined