ہریانہ: خون میں نشے کی گولیاں گھول کر انجکشن لے رہے ہیں نوجوان، سرسہ ضلع کے ایک گاؤں کی خوفناک کہانی
اوٹو گاؤں کے رہنے والے بوٹا سنگھ نے بتایا کہ نشے کی لت میں گاؤں کے کئی نوجوان پھنسے تھے، جس کا انکشاف کووڈ کے بعد ہوا۔ اب تک ’میڈیکل نشے‘ کے سبب 35 سے زائد نوجوانوں کی موت ہو چکی ہے۔

ہریانہ میں نشہ اب صرف عادت نہیں بلکہ ایک ایسا زخم بن چکا ہے جسے سسٹم کی لاپرواہی اور سماج کی خاموشی نے خطرناک شکل دے دی ہے۔ حالات اس قدر بدتر ہو چکے ہیں کہ نوجوان نشے کے لیے انسانیت کی آخری حدیں بھی پار کر رہے ہیں۔ پہلے اپنی نسوں سے خون نکالتے ہیں پھر اس میں گلابی گولیاں گھولتے ہیں اور پھر اسی زہر کو واپس جسم میں داخل کر لیتے ہیں۔ یہ کوئی فلمی کہانی نہیں ہے بلکہ سرسہ ضلع کے رانیاں حلقے کے تقریباً 6 ہزار آبادی والے گاؤں ’اوٹو‘ کی اصلی کہانی ہے۔
اوٹو کے پڑوسی گاؤں ڈھانی پرتاپ کی خاتون سرپنچ کے شوہر سنیل کمار نے بتایا کہ وہ تقریباً 15 سال سے اوٹو گاؤں میں فوٹو اسٹوڈیو چلا رہے ہیں۔ ان کے مطابق صرف اوٹو ہی نہیں بلکہ آس پاس کے کئی گاؤں میں نشے کی لت میں پھنسے نوجوانوں کی دماغی حالت خراب ہونے لگی ہے۔ کئی بار پانی نہ ہونے پر وہ اپنے خون میں نشے کی گولیاں ملا کر انجکشن لگا رہے ہیں۔ گاؤں کے شمشان گھاٹ کے پاس دیر شام یا رات میں اکثر نوجوانوں کو ایسا کرتے دیکھا جاتا ہے۔
اوٹو گاؤں کے رہنے والے بوٹا سنگھ نے بتایا کہ نشے کی لت میں گاؤں کے کئی نوجوان پھنسے تھے، کووڈ-19 کے بعد اس کا انکشاف ہوا۔ دراصل کورونا کے دوران نشہ نہ ملنے کی وجہ سے نوجوانوں کے موت ہونے لگی تھی۔ کووڈ-19 کے بعد سے اب تک ’میڈیکل نشے‘ میں پھنسے 35 سے زائد نوجوانوں کی موت ہو چکی ہے۔ نشے کی دلدل میں پھنسے نوجوانوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں رہ گئی ہے۔ ڈھانی پرتاپ کے سابق سرپنچ ہوشیار سنگھ کے مطابق نشے کی دلدل میں اوٹو سمیت کئی گاؤں کے نوجوان پھنس چکے ہیں۔ گاؤں میں نشے کی وجہ سے مسلسل اموات ہو رہی ہیں۔
اوٹو کے رہنے والے بلاک سمیتی کے رکن گرودیو سنگھ کے مطابق نوجوانوں کو نشے سے دور رکھنے کے لیے مقامی انتظامیہ نے 18-2017 میں گاؤں میں کھیل میدان بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے لیے پنچایت کی جانب سے 2 ایکڑ زمین بھی دستیاب کرائی گئی تھی لیکن اب تک کھیل میدان کا کام نہیں ہوا ہے، اس 2 ایکڑ زمین پر اب کوڑا گھر بنا ہوا ہے۔ اس تعلق سے سی ای او ڈاکٹر سبھاش نے بتایا کہ گاؤں میں کھیل میدان بنانے کا کام زیر عمل ہے، جسے جلد مکمل کر لیا جائے گا۔
گاؤں کے 85 سالہ نوجوان بزرگ مختار نے اپنا درد بیان کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ماہ قبل ہی ان کے چھوٹے پوتے (عمر 19 سال) کی موت نشے کی اوورڈوز کے سبب ہو گئی۔ نشے کا انجکشن اس کے ہاتھ میں پھنسا ہوا ملا تھا۔ ان کا بڑا پوتا راجستھان کے ہنومان گڑھ میں واقع ایک نشہ چھڑانے کے مرکز میں زیر علاج ہے۔ ان کے اہل خانہ نے محنت مزدور کے چھوٹے پوتے پر تقریباً ساڑھے چار لاکھ روپے خرچ کیے پھر بھی اسے بچا نہیں سکے۔
اوٹو گاؤں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 24-23 اکتوبر کو ایک ہی روز میں نشے کی اوورڈوز کے سبب گاؤں کے 2 نوجوانوں کی موت ہو گئی تھی، ان میں 20 سالہ سکھچین اور 19 سالہ وکی شامل ہیں۔ رکن اسملبی ارجن چوٹالہ کا کہنا ہے کہ اسمبلی میں بار بار اس مسئلہ کو اٹھایا ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ’چٹا‘ فروخت کرنے والوں، اسمگلروں اور مافیاؤں کے خلاف سخت کارروائی ہو، سرکاری نشہ چھڑانے کے مراکز کو مضبوط کیا جائے، پروٹوکول فالو ہو اور ضلعی سطح پر مانیٹرنگ کمیٹیاں بنائی جائیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔