اناؤ معاملہ: متاثرہ کے والد کی حراست میں موت کیس میں کلدیپ سنگھ سینگر کی سزا بڑھانے کی مانگ، 19 فروری کو سماعت

اناؤ کیس میں متاثرہ نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دے کر کلدیپ سنگھ سینگر کی سزا بڑھانے کی مانگ کی ہے۔ والد کی حراست میں موت کے معاملے میں 19 فروری کو سماعت مقرر ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: اناؤ واقعہ میں متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ متاثرہ نے اپنے والد کی پولیس حراست میں موت کے مقدمے میں مجرم قرار دیے گئے سابق رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کی سزا میں اضافہ کرنے کی اپیل دائر کی ہے۔ عدالت اس درخواست پر 19 فروری کو سماعت کرے گی۔

نچلی عدالت نے متاثرہ کے والد کی موت کے معاملے میں سینگر کو غیر ارادی قتل کا قصوروار ٹھہراتے ہوئے 10 سال قید کی سزا سنائی تھی اور ان پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ خاندان کے واحد کفیل کی موت جیسے سنگین معاملے میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جا سکتی۔


تاہم متاثرہ فریق کا مؤقف ہے کہ دی گئی سزا جرم کی شدت کے مطابق نہیں ہے اور اسے بڑھایا جانا چاہیے۔ اسی بنیاد پر دہلی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ہے۔

اس سے قبل سینگر نے ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا لیکن 9 فروری کو سپریم کورٹ نے سماعت سے انکار کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کو ہدایت دی کہ مقدمے کی کارروائی 3 ماہ کے اندر مکمل کی جائے۔

سینگر کے وکیل نے عدالت عظمیٰ میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ 9 سال سات ماہ کی سزا کاٹ چکے ہیں جبکہ مجموعی سزا دس سال ہے۔ اس کے باوجود ہائی کورٹ نے انہیں ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ مرکزی جانچ بیورو کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت میں کہا تھا کہ سینگر عصمت دری کے مقدمے میں عمر قید کی سزا بھی بھگت رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اناؤ عصمت دری مقدمہ اور متاثرہ کے والد کی حراستی موت کا مقدمہ، دونوں کی عدالتی کارروائیاں الگ الگ سطح پر جاری ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔