
گجرات کے نوجوان پاٹیدار رہنما ہاردک پٹیل پر ہفتہ کے روز دیر شام گئے مدھیہ پردیش کے اجین ضلع میں سیاہی پھینک دی گئی۔ سیاہی پھینکنے والے شخص کو وہاں موجود لوگوں نے پکڑ لیا اور پٹائی کی۔ بعد میں اسے پولس کے حوالے کر دیا گیا۔ سیاہی پھینکنے والے نوجوان کا نام ملند گوجر ہے اور اسے مہاسبھا نامی تنظیم کا رکن قرار دیا جا رہا ہے۔
معلومات کے مطابق پاٹیدار رہنما اور پٹیل نونرمان سینا کے قومی صدر ہاردک پٹیل اجین کے میگھدوت ہوٹل پہنچے تھے۔ وہاں ان کے اعزاز میں استقبالیہ پروگرام چل رہا تھا تبھی ملند گوجر نامی نوجوان نے ان پر سیاہی پھینک دی۔ سیاہی آس پاس موجود لوگوں پر بھی گری۔
ہارکد پٹیل نے سیاہی پھینکنے کا الزام بی جے پی پر عائد کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ میں کہا، ’’ مجھ پر سیاہی پھینک کر بی جے پی کارکنان نے اجین میں میرا استقبال کیا۔ سیاہی پھینکنے والے کو ہم نے معاف کردیا۔ ہماری لڑائی جاری ہے ۔ گولیوں سے نہیں ڈرتا تو سیاہی سے کیسے ڈروں گا۔ میرے ساتھ ’وائی ‘ سیکیورٹی ہے ، میرے جیسے آدمی کی اگر سلامتی نہیں ہے تو عوام کا کیا کیا حال ہوتا ہوگا۔‘‘
قبل ازیں ہفتہ کی صبح نیمچ میں اس وقت کافی سیاسی رسہ کشی دیکھنے کو ملی جب ہاردک پٹیل نے بتایا کہ ضلع میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ اس بات پر ہاردک پٹیل کافی ناراض ہوئے۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بی جے پی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر نشانا لگایا۔ ہردک پٹیل 6 اپریل جمعہ کی دوپہر ادے پور سے نیمچ آئے تھے اور کسان تحریک میں ہلاک ہوئے کسانوں کے اہلخانہ سے تعزیت کرنے گئے تھے۔
ہفتہ کی صبح انہیں نیمچ کے سی آر پی ایف چوراہے پر نصب سردار پٹیل کے مجسمہ پر مالا پیش کرنی تھی لیکن انہیں معلوم چلا کہ ضلع انتظامیہ نے 6 اپریل کو ضلع میں دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا ہے اور جس کے سبب کسی پروگرام کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔