قومی خبریں

اندرا گاندھی امن ایوارڈ 2025: انسانی حقوق کی افریقی علمبردار گراسا ماشیل کا انتخاب

اندرا گاندھی امن، تخفیفِ اسلحہ اور ترقی ایوارڈ 2025 گراسا ماشیل کو دینے کا اعلان کیا گیا۔ بین الاقوامی جیوری نے انسانی حقوق، تعلیم اور بچوں کے تحفظ کے لیے ان کی عالمی خدمات کو سراہا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: اندرا گاندھی امن، تخفیفِ اسلحہ اور ترقی ایوارڈ 2025 کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی جیوری نے اس سال یہ باوقار اعزاز موزمبیق کی معروف رہنما، سماجی کارکن اور انسانی حقوق کی علمبردار گراسا ماشیل کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جیوری کے مطابق گراسا ماشیل کی پوری زندگی آزادی، انسانی وقار اور کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے وقف رہی ہے، جس نے عالمی سطح پر مثبت اور دیرپا اثرات مرتب کیے ہیں۔

Published: undefined

اس بین الاقوامی جیوری کی صدارت ہندوستان کے سابق قومی سلامتی مشیر اور سابق خارجہ سکریٹری شیوشنکر مینن کر رہے ہیں۔ جیوری نے اپنے بیان میں کہا کہ گراسا ماشیل نے تعلیم، صحت، غذائیت اور سماجی انصاف کے میدان میں غیر معمولی خدمات انجام دیں اور مشکل حالات میں انسانیت کی خدمت کو اپنا نصب العین بنایا۔ ان کی سوچ کا مرکز ایک ایسا معاشرہ رہا ہے جہاں مساوات، انصاف اور مواقع سب کے لیے یکساں ہوں۔

گراسا ماشیل کی پیدائش سترہ اکتوبر انیس سو پینتالیس کو موزمبیق کے ایک دیہی علاقے میں گراسا سیمبینے کے نام سے ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم میتھوڈسٹ مشن اسکولوں میں حاصل کی۔ بعد ازاں انہیں لزبن یونیورسٹی میں جرمن زبان کی تعلیم کے لیے وظیفہ ملا، جہاں ان کے اندر آزادی اور سیاسی شعور نے مضبوط شکل اختیار کی۔ یہی وہ دور تھا جب انہوں نے اپنے ملک کے حالات کو بدلنے کے عزم کے ساتھ عملی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔

Published: undefined

انیس سو تہتر میں وطن واپسی کے بعد وہ موزمبیق لبریشن فرنٹ سے وابستہ ہوئیں اور آزادی کی تحریک میں سرگرم کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے تدریس کے شعبے میں بھی خدمات انجام دیں۔ انیس سو پچھتر میں موزمبیق کی آزادی کے بعد وہ ملک کی پہلی وزیرِ تعلیم و ثقافت مقرر ہوئیں۔ ان کے دور میں تعلیمی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات ہوئیں اور ابتدائی و ثانوی تعلیم میں طلبہ کی شمولیت میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ ملا۔

انیس سو نوے کی دہائی میں گراسا ماشیل نے بین الاقوامی سطح پر کام کا آغاز کیا۔ اقوامِ متحدہ نے انہیں مسلح تنازعات کے بچوں پر اثرات سے متعلق ایک اہم مطالعے کی قیادت سونپی۔ انیس سو چھیانوے میں شائع ہونے والی رپورٹ نے جنگی علاقوں میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے عالمی پالیسیوں کو نئی سمت دی۔ اسی نمایاں کردار کے اعتراف میں انہیں متعدد عالمی اعزازات سے نوازا گیا۔

Published: undefined

حالیہ برسوں میں انہوں نے سماجی تبدیلی، خواتین کے معاشی استحکام اور بچوں کی فلاح پر خصوصی توجہ دی۔ انیس سو دس میں قائم کیے گئے گراسا ماشیل ٹرسٹ کے ذریعے وہ گڈ گورننس، غذائی تحفظ اور مساوات کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں۔ جیوری نے کہا کہ ان کی مسلسل جدوجہد اور انسان دوست قیادت نے لاکھوں افراد کو امید، وقار اور بہتر مستقبل کا راستہ دکھایا، اسی لیے انہیں یہ اعزاز دیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined