’سُکھنا جھیل کو اور کتنا سکھاؤ گے؟‘، اراولی معاملہ پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کا تلخ سوال
سپریم کورٹ نے چنڈی گڑھ کی تاریخی سُکھنا جھیل کی حالت زار پر ہریانہ حکومت کو متنبہ کیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی بنچ نے بلڈر مافیا اور افسران کی ملی بھگت سے جھیل کو ہوئے نقصان پر فکر ظاہر کی

سپریم کورٹ میں آج اراولی معاملہ پر سماعت کی گئی۔ اس دوران چیف جسٹس آف انڈیا نے چنڈی گڑھ کی سُکھنا جھیل کے خشک ہونے پر اپنی شدید فکر کا اظہار کیا۔ انھوں نے سخت انداز اختیار کرتے ہوئے انتظامیہ سے سوال کیا کہ ’سُکھنا جھیل کو اور کتنا سکھاؤ گے؟‘ عدالت عظمیٰ نے سُکھنا جھیل کے خشک ہونے کو ناجائز تعمیرات سے جوڑ کر دیکھا۔
سپریم کورٹ نے چنڈی گڑھ کی تاریخی سُکھنا جھیل کی حالت زار پر ہریانہ حکومت کو سخت تنبیہ کی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی بنچ نے بلڈر مافیا اور افسران کی ملی بھگت سے جھیل کو ہوئے نقصان پر فکر ظاہر کی۔ عدالت نے ماحولیات سے منسلک ٹی این گودابرمن معاملہ میں یہ تبصرہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے گزشتہ غلطیوں کو نہ دہرانے کی ہدایت دی ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ نے ہریانہ حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افسران اور بلڈر مافیا کی ملی بھگت سے سُکھنا جھیل پوری طرح سے برباد ہو گئی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی کہا کہ ’’افسران کی ملی بھگت سے بلڈر مافیا انتہائی سرگرم ہیں، آپ سب سُکھنا جھیل کو کتنا خشک کر دیں گے، آپ نے جھیل کو پوری طرح سے برباد کر دیا ہے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ سُکھنا جھیل چنڈی گڑھ میں شیوالک پہاڑیوں کے نشیب میں موجود ہے۔ یہ ایک مشہور جھیل ہے، جسے ہر کوئی دیکھنا چاہتا ہے اور وہاں جانا چاہتا ہے۔ ایک طرح سے یہ جھیل چنڈی گڑھ کی شناخت ہے۔ گزشتہ کچھ وقت سے اس کی حالت دگر گوں ہے۔ اس کے آس پاس کے علاقے پر قبضہ ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اس پر فکر ظاہر کی ہے۔ عدالت کا یہ تلخ تبصرہ نہ صرف حکومت کے لیے ہے، بلکہ مقامی انتظامیہ کے لیے بھی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔