لکھنؤ: ہائی کورٹ میں گھس کر ’دبش‘ دینا پڑا بھاری، 2 داروغہ اور 1 کانسٹیبل معطل، ایف آئی آر بھی درج

سینئرافسران نے دیررات کارروائی کرتے ہوئے داروغہ اور کانسٹیبل کو معطل کردیا گیا۔ وہیں افسران نے واضح کیا کہ ہائی کورٹ جیسے حساس احاطے میں بغیر اجازت یا وارنٹ کے داخل ہونا قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

یوپی پولیس
i
user

قومی آواز بیورو

اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ واقع ہائی کورٹ کے احاطے میں اس وقت ہنگامہ ہوگیا جب گئو اسمگلنگ کے ایک معاملے میں ملزم خاتون کو پکڑنے پہنچے دو داروغہ اور ایک کانسٹیبل نے قواعد کو طاق پر رکھ ایک وکیل کے چیمبر پردھاوا بول دیا۔ پولیس اہلکاروں کی اس کارروائی کی وکلاء نے شدید مخٓالفت کی اور انہیں گھیرلیا۔ اس دوران دیکھتے ہی دیکھتے وہاں حالات خراب ہوگئے اوراس کی اطلاع پولیس کنٹرول روم تک پہنچ گئی۔

اطلاعات کے مطابق کاکوری پولیس اسٹیشن کے داروغہ عثمان خان، ایس ایس آئی لاکھن سنگھ اور کانسٹیبل پشپندر سنگھ کو اطلاع ملی تھی کہ ملزم آمنہ خاتون اپنے وکیل رشتہ دار سے ملنے ہائی کورٹ آئی ہے۔ اس کے بعد تینوں نے ہائی کورٹ میں انٹری پرچی بنوائی اور سیدھے چیمبر نمبر 515، بلاک سی پہنچ گئے۔ جیسے ہی خاتون کو پکڑنے کی کوشش کی گئی، وہاں موجود وکلاء متحد ہو گئے اور پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھائے۔


وکلاء کی مخالفت کے بعد وبھوتی کھنڈ تھانے کی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور حالات کو قابو میں کیا۔ اس موقع پر ایڈوکیٹ سجاد حسین اور ہائی کورٹ کے رجسٹرار (سیکیورٹی) شیلیندر کمار کی طرف سے دائر شکایت کی بنیاد پرتینوں پولیس اہلکاروں کے خلاف جھوٹی اطلاع دینے، مجرمانہ مداخلت، دھوکہ دہی اور دھمکی جیسی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ جس معاملے کا حوالہ دے کر پولیس عدالت میں داخل ہوئی وہ کیس ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے بھی درج نہیں تھا۔

جیسے ہی معاملہ سینئر افسران تک پہنچا، ڈی سی پی ویسٹ وشواجیت سریواستو نے رات دیر گئے کارروائی کرتے ہوئے داروغہ اور کانسٹیبل کو معطل کردیا۔ اس سلسلے میں افسران نے واضح کیا کہ ہائی کورٹ جیسے حساس احاطے میں بغیر اجازت یا وارنٹ کے داخل ہونا قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ وہیں اب سوال یہ بھی اُٹھایا جا رہا ہے کہ اگر پولیس ملزم خاتون کے عدالت سے باہر نکلنے کا انتظار کرتی تو نہ تو ایسا ہنگامہ ہوتا اور نہ ہی وردی پر سوال کھڑے ہوتے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔