قومی خبریں

چار ہفتوں میں ہندوستان کے زرمبادلہ ذخائر 51.1 ارب ڈالر گھٹے، 1998 کے بعد سب سے بڑی گراوٹ: اجے ماکن

اجے ماکن کے مطابق، ہندوستان کے زرمبادلہ ذخائر میں چار ہفتوں کے دوران 51.1 ارب ڈالر کی ریکارڈ کمی ہوئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 1998 کے بعد یہ سب سے بڑی چار ہفتہ وار گراوٹ ہے

<div class="paragraphs"><p>کانگریس کے قومی خزانچی اجے ماکن / تصویر ویڈیو گریب</p></div>

کانگریس کے قومی خزانچی اجے ماکن / تصویر ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: ہندوستان کے زرمبادلہ ذخائر میں چار ہفتوں کے دوران 51.1 ارب ڈالر کی ریکارڈ گراوٹ ہوئی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اجے ماکن نے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ستمبر 1998 میں ہفتہ وار اعداد و شمار کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد سے ڈالر کے لحاظ سے یہ چار ہفتوں میں زرمبادلہ ذخائر میں سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔

اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ آر بی آئی نے جمعہ، 9 اکتوبر 2026 کو زرمبادلہ ذخائر کے ہفتہ وار اعداد و شمار جاری کیے۔ ان کے مطابق، مختلف خبروں میں ہر ہفتے ذخائر میں ہونے والی گراوٹ کی رپورٹ تو شائع کی گئی، لیکن اس بات کو نمایاں نہیں کیا گیا کہ مسلسل چار ہفتوں کی مجموعی گراوٹ نے ڈالر کے لحاظ سے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

ماکن کے مطابق، 2 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے چار ہفتوں میں ہندوستان کے زرمبادلہ ذخائر میں ہر ہفتے کمی درج کی گئی۔ پہلے ہفتے میں 4.924 ارب ڈالر، دوسرے ہفتے میں 14.881 ارب ڈالر، تیسرے ہفتے میں 18.343 ارب ڈالر اور چوتھے ہفتے میں 12.952 ارب ڈالر کی گراوٹ ہوئی۔

ان اعداد و شمار کے مطابق، چار ہفتوں کے دوران زرمبادلہ ذخائر میں مجموعی طور پر 51.1 ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔ ماکن نے بتایا کہ ہندوستانی روپے میں آر بی آئی کی جانب سے درج کردہ قدر کے حساب سے یہ رقم 3,51,362 کروڑ روپے بنتی ہے۔

اجے ماکن نے اپنی پوسٹ میں زرمبادلہ ذخائر کے ایک اہم حصے، یعنی غیر ملکی کرنسی اثاثوں (فارن کرنسی ایسیٹس) میں ہونے والی کمی کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، مذکورہ چار ہفتوں کے دوران ان اثاثوں میں 43.421 ارب ڈالر کی گراوٹ درج کی گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ آر بی آئی کی اس سلسلے میں دستیاب ہفتہ وار سیریز میں ڈالر کے لحاظ سے یہ چار ہفتوں کی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔

غیر ملکی کرنسی اثاثے ہندوستان کے زرمبادلہ ذخائر کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔ ان میں ہونے والی تبدیلیوں پر مالیاتی منڈیوں، درآمدات کی ادائیگیوں اور روپے کی قدر سے متعلق بحث کے دوران خاص طور پر نظر رکھی جاتی ہے۔ کانگریس لیڈر نے مسلسل چار ہفتوں تک زرمبادلہ ذخائر میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ چار ہفتے، چار مسلسل گراوٹیں اور موجودہ حکومت کے دور میں قائم ہونے والا ڈالر کے لحاظ سے ایک ریکارڈ۔

ماکن نے اپنی پوسٹ کے آخر میں یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ اگلی پوسٹ میں ان ڈالرز کے بارے میں تفصیلات پیش کریں گے جنہیں فروخت کرنے کا وعدہ آر بی آئی پہلے ہی کر چکا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں حکومت سے متعلق ایک سوال اٹھانے کی بات بھی کہی۔ تاہم، زرمبادلہ ذخائر میں کمی کی وجوہات اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات کا تعین کرنے کے لیے آر بی آئی کے مکمل اعداد و شمار، اثاثوں کی مختلف اقسام میں تبدیلی اور دیگر متعلقہ عوامل کا جائزہ ضروری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔