کولکاتا: احتجاج کے حق اور مزاحمت کی زندہ تاریخ...جواہر سرکار
کولکاتا کی تاریخ احتجاج، سیاسی جدوجہد اور مزاحمت سے عبارت ہے۔ سودیشی تحریک سے سنگور، نندی گرام اور حالیہ مظاہروں تک، بنگال کی احتجاجی ثقافت نے حکومتوں کے فیصلوں اور اقتدار کی سیاست کو مسلسل متاثر کیا

کولکاتا میں 1960 کی دہائی عوامی غصے اور بے چینی کا دور تھی۔ نکسل وادی تشدد شہر تک پہنچ چکا تھا۔ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب کئی کئی جلوس سڑکوں پر نہ نکلتے ہوں اور ٹریفک کا نظام درہم برہم نہ ہو جاتا ہو۔ مشین گنوں سے لیس مستعد جوانوں سے بھرے فوجی ٹرک آہستہ آہستہ گشت کرتے تھے۔ گلیوں سے وقتاً فوقتاً نعرے بلند ہوتے اور منتخب حکومتیں اپنا اقتدار برقرار رکھنے میں ناکام رہتی تھیں۔
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ شہری بے چینی اس شہر کی سرشت میں شامل ہے۔ انیسویں صدی کا کولکاتا محض برطانوی ہندوستان کا دارالحکومت نہیں تھا، بلکہ ہندو قدامت پسندی اور مغربی تعلیم کے درمیان، نیز قدیم روایات اور آزادی، مساوات و اخوت جیسے نئے تصورات کے مابین کشمکش کا میدان بھی تھا۔ بڑی تعداد میں چھاپہ خانے قائم ہوئے، جہاں انگریزی، بنگالی، ہندی اور دوسری ہندوستانی زبانوں میں کتابیں، کتابچے اور نظریاتی پمفلٹ شائع کیے گئے۔ ان تحریروں نے نئے خیالات کو تعلیم یافتہ طبقے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
1818 کے اوائل ہی میں راجہ رام موہن رائے جیسے ترقی پسند رہنماؤں نے اخبارات کے ذریعے مروجہ نظام کو چیلنج کرنا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے نوآبادیاتی اقتدار کے حامیوں اور طاقتور ہندو قدامت پسند حلقوں، دونوں کے خلاف جدوجہد کی۔ عیسائی مشنریوں نے ہندو مذہب کی فرسودہ رسومات پر سخت تنقید کی، جس سے معاشرے میں کشیدگی بڑھ گئی۔ اسی دوران درسی کتابوں کی کمیٹیاں، کتب خانے، ادبی انجمنیں، اصلاحی تنظیمیں اور سیاسی اجتماعات تیزی سے وجود میں آئے۔ تعلیم یافتہ بنگالی معاشرے نے درخواستوں، عوامی جلسوں اور صحافت کے ذریعے حکومتی پالیسیوں کو چیلنج کرنا سیکھ لیا۔
اس نئی سیاسی ثقافت کا نمایاں مظاہرہ 1905 میں ہوا، جب وائسرائے لارڈ کرزن نے تقسیمِ بنگال کا اعلان کیا۔ اس فیصلے کے خلاف بنگالی عوام سڑکوں پر اتر آئے۔ ان میں رابندر ناتھ ٹیگور بھی شامل تھے، جو اپنے ترغیبی گیتوں کے ذریعے لوگوں کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ 7 اگست 1905 کو کولکاتا کے ٹاؤن ہال سے سودیشی تحریک کا باضابطہ آغاز ہوا۔ دوسری جانب بنارس میں انڈین نیشنل کانگریس نے برطانوی کپڑوں اور اشیا کے بائیکاٹ کی اپیل کی۔
چند ہی ہفتوں میں کولکاتا بائیکاٹ، دھرنوں، عوامی جلسوں اور جلوسوں سے گونج اٹھا۔ 16 اکتوبر کو، جو تقسیمِ بنگال کے نفاذ کی مجوزہ تاریخ تھی، یومِ سوگ منایا گیا۔ جلد ہی واضح ہو گیا کہ یہ ریلیاں محض انگریز مخالف مظاہرے نہیں تھیں، بلکہ سیاست، ثقافت، ادب، موسیقی، تعلیم، تجارت اور عوامی سطح پر منظم جدوجہد کو یکجا کرکے سماجی اتحاد پیدا کرنے کا ایک نیا طریقہ تھیں۔ یہی امتزاج بنگال کی سیاسی زندگی اور عوامی تحریکوں کی پہچان بن گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سڑکوں کے تناسب کے لحاظ سے آج کولکاتا دنیا کے ان شہروں میں شمار ہوتا ہے جہاں سڑکوں کی گنجائش نسبتاً کم ہے۔ کئی دہائیوں کی بے ہنگم شہری ترقی نے آبادی کا دباؤ بڑھایا اور راستے تنگ ہوتے گئے۔ تاہم، اس صورت حال نے عوامی مظاہروں کی روایت کو کبھی نہیں روکا۔ چھوٹے چھوٹے جلوس شہر کے مختلف حصوں سے مرکزی علاقے کی طرف بڑھتے، راستے میں تقاریر سنتے اور نئے لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرتے جاتے تھے۔ میدان میں شہید مینار کے آس پاس کا کھلا علاقہ اور قریب واقع وسیع بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ بڑے عوامی مظاہروں کے قدرتی مراکز بن گئے۔ بے قابو ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے اکثر گھڑسوار پولیس تعینات کی جاتی تھی۔
آزادی کے بعد بھی احتجاج کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ جولائی 1953 میں ٹرام کے کرایے میں محض ایک پیسے کا اضافہ ہوا تو برطانوی ملکیت والی کولکاتا ٹرام ویز کمپنی کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ احتجاج پورا ایک ماہ جاری رہا۔ پولیس کارروائی کے جواب میں کئی ٹراموں کو آگ لگا دی گئی۔ جب ٹرام ملازمین بھی تحریک میں شامل ہوئے تو حکومت کرایوں میں اضافے پر نظرثانی کرنے کے لیے مجبور ہو گئی۔ آج بھی بینکوں اور ڈاک خانوں کے ملازمین، حتیٰ کہ اساتذہ بھی اکثر احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کئی دہائیوں تک بائیں بازو کی مزدور یونینیں باقاعدگی سے اپنے حامیوں کو دفاتر چھوڑ کر سڑکوں پر نکلنے اور ’مِچل‘ یعنی جلوس میں شامل ہونے کی اپیل کرتی رہیں۔
1954 میں ثانوی اسکولوں کے اساتذہ نے دس روزہ ہڑتال کی۔ پولیس فائرنگ میں پانچ افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ بالآخر عوامی دباؤ کے آگے حکومت کو اساتذہ کے مطالبات تسلیم کرنا پڑے۔ 1959 میں کمیونسٹوں نے غذائی اجناس کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف تحریک چلائی، جس میں اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ بھی شامل ہوئے۔ 31 اگست کو وسطی کولکاتا میں ایک بڑے مظاہرے پر گولیاں چلائی گئیں۔ اندازہ ہے کہ اس واقعے میں 50 سے 100 افراد ہلاک ہوئے۔ 1966 کی غذائی تحریک اس سے بھی زیادہ وسیع تھی، جب عوامی تقسیم کے نظام کی ناکامیوں کے خلاف احتجاج اضلاع اور دیہات تک پھیل گیا۔
1967 میں بائیں بازو کی جماعتیں اقتدار میں آئیں، لیکن 25 مئی کو سلی گوڑی کے قریب نکسل باڑی گاؤں میں کسانوں کے ایک اجتماع پر پولیس فائرنگ نے مارکس وادی تحریک میں پھوٹ ڈال دی۔ اس واقعے کے بعد ایک دھڑا الگ ہو گیا اور اس مسلح بغاوت نے جنم لیا جسے نکسل وادی تحریک کہا جاتا ہے۔ جہاں مرکزی دھارے کی سیاست پہلے ہی جلوسوں اور عوامی جلسوں سے جڑی ہوئی تھی، وہیں نکسل واد نے طبقاتی دشمنوں کے خاتمے پر زور دیا۔ تشدد اور ہلاکتیں معمول بن گئیں۔ نکسل وادی بائیں بازو کی جماعتوں اور کانگریس، دونوں سے لڑ رہے تھے۔ طلبہ سیاست نے غیر معمولی طاقت حاصل کی، جبکہ بائیں بازو کی جماعتوں نے اپنے 34 سالہ دورِ حکومت میں احتجاج کو مرکزی دھارے کی سیاست کا حصہ بنا کر اسے ادارہ جاتی شکل دے دی۔
21 جولائی 1993 کو پولیس نے ممتا بنرجی کی قیادت میں یوتھ کانگریس کے کارکنوں کے احتجاجی مارچ پر فائرنگ کی، جس میں 13 کارکن ہلاک ہو گئے۔ کانگریس پر ضرورت سے زیادہ کمزور موقف اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ممتا بنرجی نے پارٹی چھوڑ دی اور ترنمول کانگریس قائم کی۔ اگلے 16 برس تک وہ سڑکوں پر جدوجہد کرنے والی ایک جارحانہ اور متحرک رہنما کے طور پر اپنی شناخت بناتی رہیں۔ جولائی 2006 میں ان کی پارٹی نے سنگور میں ٹاٹا کی مجوزہ کار فیکٹری کے لیے زمین کے حصول کے خلاف تحریک شروع کی۔
دسمبر 2006 میں ممتا بنرجی کی 26 روزہ بھوک ہڑتال نے قومی سطح پر توجہ حاصل کی۔ نندی گرام میں زمین کے حصول کے خلاف احتجاج کے دوران 14 مارچ 2007 کو پولیس فائرنگ میں 14 افراد ہلاک ہوئے۔ اسے وہ فیصلہ کن موڑ سمجھا جاتا ہے جس نے چار سال بعد ترنمول کانگریس کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کی۔ سنگور اور نندی گرام کی تحریکوں میں دانش وروں، ادیبوں اور فن کاروں نے کسانوں، مزدوروں اور طلبہ کے شانہ بشانہ جدوجہد کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنگال میں احتجاج کی ثقافت بائیں محاذ کے طویل دورِ اقتدار میں بھی زندہ رہی اور بالآخر اسی نے بائیں بازو کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں کردار ادا کیا۔
2014 میں مرکز میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس کی بنگال یونٹ، مرکزی حکومت کی فعال حمایت سے، ریاست کی سب سے جارحانہ اپوزیشن بن کر ابھری۔ مرکزی ایجنسیوں نے ممتا حکومت کے بدعنوان وزرا اور رہنماؤں کے خلاف کارروائی تیز کی، لیکن اگست 2024 میں آر جی کر میڈیکل کالج میں ایک نوجوان خاتون ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کے واقعے نے حالات کا رخ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
پورا کولکاتا سڑکوں پر نکل آیا۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے کے ساتھ اداکار، موسیقار، فٹ بال کے شائقین، رکشہ ڈرائیور اور گِگ ورکرز بھی احتجاج میں شریک ہوئے۔ اس عوامی غصے نے 2026 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی غیر متوقع کامیابی میں بھی ممکنہ طور پر کردار ادا کیا ہوگا۔ اس صورت حال کی ستم ظریفی دیکھیے کہ 9 ستمبر 2026 کو بی جے پی کے وزیر اعلیٰ نے خود زعفرانی جماعت کے کارکنوں کے اس احتجاج کی قیادت کی، جو فلسطین کی حمایت اور کشمیر کی ’آزادی‘ کا مطالبہ کرنے والے جادوپور یونیورسٹی کے طلبہ کے خلاف کیا گیا تھا۔
احتجاج اور سیاسی تشدد واقعی بنگال کی تاریخی اور سیاسی ثقافت میں گہرائی تک رچے بسے ہیں۔ تاہم، بنگالی عوام ایسے لوگ نہیں ہیں جو ہر وقت احتجاج ہی کرتے رہتے ہوں۔ بنگال نے سیاسی استحکام کے طویل ادوار بھی دیکھے ہیں، اور وہاں احتجاج کی ثقافت کا بڑا حصہ مسلح انقلابی جدوجہد کے بجائے انتخابی اور ادارہ جاتی راستوں سے وابستہ رہا ہے۔ اسی ماحول نے شاعروں، ادیبوں، سائنس دانوں، مفکروں، ماہرینِ معاشیات، فلمی شخصیات اور میڈیا کے نمایاں ناموں کو جنم دیا۔ عوامی مسائل سے دوری اختیار کرنے والوں کو بھی اس معاشرے نے مسترد کیا۔ لیکن ماضی کی طرح آج بھی بنگال میں سماجی بے اطمینانی کو منظم عوامی احتجاج میں تبدیل ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔
(مضمون نگار جواہر سرکار سابق بیوروکریٹ اور راجیہ سبھا کے سابق رکن ہیں)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
