ہماچل پردیش: ریاست یا قیمتی رئیل اسٹیٹ کا ٹکڑا؟...ابھے شکلا

ہماچل پردیش میں دفعہ 118 کی قانونی خامیوں اور رعایتوں نے زمین کے دلالوں اور بلڈروں کے لیے راستے کھول دیے ہیں۔ بے قابو تعمیرات سے پہاڑوں کی ہریالی، مقامی ثقافت اور باشندوں کے حقوق خطرے میں ہیں

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

ہماچل پردیش میں بے قابو تعمیرات کے موضوع پر میرے ایک حالیہ بلاگ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک باشعور قاری نے تبصرہ کیا کہ انہوں نے ریاست میں فروخت کے لیے دستیاب جائیدادوں کی آن لائن تفصیلات کھنگالی تھیں۔ یہ دیکھ کر انہیں گہرا صدمہ ہوا کہ صرف شملہ سے نارکنڈا کے درمیان، تقریباً 90 کلومیٹر کے علاقے میں، 23,450 جائیدادوں کی فروخت، کرایے یا لیز کے اشتہارات موجود تھے۔

یہ تسلیم کر لینے کے باوجود کہ ان میں سے کچھ اشتہارات بار بار شائع ہوئے ہوں گے، یہ اعداد و شمار ایک تلخ حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں، جس پر پالیسی سازوں کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ناقص پالیسیاں، دور اندیشی کا فقدان اور بنیادی معاشی حقائق سے ناواقفیت ہماچل کو ایک ایسی قیمتی رئیل اسٹیٹ میں تبدیل کر رہی ہے، جس پر قبضہ کرنے کے لیے نظام کی خامیوں سے فائدہ اٹھانے والا کوئی بھی دولت مند اور بااثر شخص آزاد ہے۔

لیکن پہلے اس مسئلے کا پس منظر سمجھنا ضروری ہے۔ ہماچل میں زمین ایک انتہائی نایاب اور قیمتی اثاثہ ہے۔ ریاست کے مجموعی 55.67 لاکھ ہیکٹر جغرافیائی رقبے میں سے 15 فیصد سے بھی کم، یعنی تقریباً 8 لاکھ ہیکٹر زمین ہی قابل استعمال ہے۔ باقی رقبے کا بڑا حصہ جنگلات، ناقابل استعمال زمین اور ان پتھریلی پہاڑیوں پر مشتمل ہے جہاں درختوں کی نشوونما کی حد سے اوپر کچھ نہیں اگتا۔ حقیقی معنوں میں زیرِ کاشت رقبہ تو محض 5.25 لاکھ ہیکٹر کے آس پاس ہے۔

یہاں زراعت کا زیادہ تر انحصار گزارے کی کھیتی پر ہے۔ اوسط زرعی جوَت کا رقبہ 0.94 ہیکٹر ہے، جب کہ پنجاب میں یہ 3.64 ہیکٹر ہے۔ ریاست کی مجموعی قابل کاشت زمین کا 89 فیصد حصہ چھوٹے اور معمولی درجے کے کسانوں کے پاس ہے۔ صنعتیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور ہماچل ملک میں بے روزگاری کی بلند شرح والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان حالات میں، جیسا کہ نرمنیو چوہان اور دویانشو ٹھاکر نے 8 مارچ 2026 کو ’دی وائر‘ میں شائع اپنے مضمون میں واضح کیا تھا، ہماچل میں زمین محض خرید و فروخت کی کوئی چیز نہیں، بلکہ عزت، روزگار، خودمختاری اور سماجی تحفظ کی بنیاد ہے۔


ہماچل پردیش کے پہلے وزیر اعلیٰ وائی ایس پرمار اس حساس معاملے کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے تھے۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے کہ ریاست کے باشندے بیرونی دولت مندوں اور استحصالی عناصر کے ہاتھوں اپنی زمین سے محروم نہ ہوں۔ اسی مقصد کے تحت 1972 میں ہماچل پردیش ٹیننسی اینڈ لینڈ ریفارمز ایکٹ نافذ کیا گیا، جس کی دفعہ 118 غیر ہماچلی باشندوں کے ریاست میں زمین خریدنے پر سخت پابندیاں عائد کرتی ہے۔ بیرونی افراد صرف حکومت کی پیشگی اجازت سے ہی زمین خرید سکتے ہیں۔

بدقسمتی سے، بعد کے وزرائے اعلیٰ میں وہ دور اندیشی نظر نہیں آئی۔ انہوں نے قانون میں اتنی رعایتیں اور راستے پیدا کر دیے کہ آج کوئی چالاک وکیل یا خریدار مختلف مقاصد کے لیے ریاست میں بڑی مقدار میں زمین حاصل کر سکتا ہے۔ شملہ اور نارکنڈا کے درمیان جائیدادوں سے متعلق اعداد و شمار اس سرگرمی کے وسیع پیمانے کی نشان دہی کرتے ہیں۔ صرف گزشتہ تین برسوں میں 1,494 منظوریوں کا اجرا کیا گیا ہے، لیکن یہ تو اصل مسئلے کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس کی پوری وسعت کہیں زیادہ تشویش ناک ہے۔

بیرونی افراد کی جانب سے زمین کی حقیقی خریداری اور منتقلی کا حجم سرکاری طور پر ظاہر کی گئی منظوریوں سے کئی گنا زیادہ ہو سکتا ہے۔ دفعہ 118 کے تحت دی گئی مختلف رعایتوں کے باعث کسانوں کی سوسائٹیوں، شہری علاقوں کے فلیٹوں، لیز پر حاصل کیے گئے مکانات یا فلیٹوں اور رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی (ریرا) سے منظور شدہ بلڈر منصوبوں کے لیے سرکاری اجازت کی ضرورت نہیں رہتی۔ درحقیقت یہی رعایتیں قانونی راستے بن گئی ہیں، جن سے فائدہ اٹھا کر زمین کے مافیا اور بلڈر ریاست میں اپنے قدم جما رہے ہیں۔

قانونی پابندیوں سے بچنے کے لیے بے نامی طریقے سے زمین کی منتقلی بھی بڑے پیمانے پر کی جا رہی ہے۔ شمالی ہندوستان کے شہروں اور بڑے شہری مراکز میں رہنے کے حالات خراب ہونے کے ساتھ، خصوصاً کووڈ وبا کے بعد، اتراکھنڈ اور ہماچل جیسی ریاستوں میں دوسرا گھر بنانے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے۔ اس رجحان کا سب سے تباہ کن اثر دیہی ہماچل اور وہاں کے اصل باشندوں پر پڑ رہا ہے۔


زمین کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔ اچانک بڑی رقم حاصل کرنے کی کشش میں پھنس کر ہماچل کے زمین مالکان اپنی آبائی جائیداد سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کی زمینوں پر ہوٹل، ہوم اسٹے، بلڈر منصوبے اور ریزورٹ تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ اس عمل سے پہاڑوں کی قدرتی ساخت بدل رہی ہے، ہریالی کی جگہ کنکریٹ لے رہا ہے، آبادی کا تناسب متاثر ہو رہا ہے اور مقامی ثقافت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اتراکھنڈ کے خالی ہوتے بھوتیا گاؤں اس خطرے کی ایک مثال ہیں۔

یہ معاملہ محض پہاڑوں کے ارضیاتی نظام تک محدود نہیں، بلکہ پوری ریاست کے وجود اور اس کی بنیادی شناخت کا سوال بن چکا ہے۔ ریاست کے پالیسی سازوں کو زمین کی اس بے لگام منتقلی کے دور رس نتائج کا جائزہ لینا ہوگا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دفعہ 118 پر نظرثانی کی جائے اور اسے مزید سخت بنایا جائے۔

اس دفعہ کے تحت دیہی علاقوں میں ہوٹلوں اور ریزورٹس کی تعمیر کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، کیونکہ یہ دیہی خطوں کو بھی اسی طرح تباہ کر رہے ہیں جس طرح شہری علاقوں کو نقصان پہنچا چکے ہیں۔ تیرتھن وادی، جلوڑی درے سے جِبھی تک کا راستہ، کبھی پُرسکون رہنے والا بڑوگ اور مشوبرا سے نالدیہرا تک کا علاقہ اس بات کی واضح مثالیں ہیں کہ کس طرح اس پُرسکون ریاست کو کثیر منزلہ عمارتوں کے کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

رئیل اسٹیٹ کی ترقی، ہاؤسنگ سوسائٹیوں، کثیر منزلہ اپارٹمنٹ عمارتوں اور ولاز کی تعمیر کے لیے دفعہ 118 کے تحت منظوری دینے پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیے۔ قانون میں موجود تمام رعایتوں کا ازسرنو جائزہ لیا جانا چاہیے، بالخصوص ریرا کے تحت منظور شدہ منصوبوں، فلیٹوں کی خریداری اور لیز سے متعلق چھوٹ کا۔


قانون میں مزید سخت دفعات شامل کرنا بھی ضروری ہے۔ مثال کے طور پر، بااثر اور دولت مند بیرونی افراد اور بلڈروں کے استحصال سے بچانے کے لیے درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں کی زمین کی خریداری پر مکمل پابندی ہونی چاہیے، جیسا کہ اتراکھنڈ میں ہے۔ اسی طرح، حکومت سے منظور شدہ مخصوص منصوبوں کے علاوہ، ریاست میں زمین خریدنے کے خواہش مند غیر ہماچلی افراد کے لیے یہ لازمی ہونا چاہیے کہ وہ ملازمت، کاروبار یا خاندانی تعلقات کی بنیاد پر ریاست سے اپنے طویل مدتی تعلق کا ثبوت پیش کریں۔

بلاشبہ، ان اقدامات کی راہ میں قانونی اور سیاسی رکاوٹیں سامنے آئیں گی۔ بعض پنچایتیں مخالفت کریں گی، کیونکہ پابندیوں کے نتیجے میں زمین کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔ زمین کے دلالوں اور رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کے زیر اثر رہنے والے سیاست دان بھی مزاحمت کریں گے۔ بلڈر اور جائیدادوں کی خرید و فروخت کرنے والوں کی لابی سرگرم ہو جائے گی۔ بڑے شہروں کے وہ بااثر افراد بھی اس کی مخالفت کریں گے جو وہاں کی آلودگی اور بدنظمی سے فرار حاصل کرکے پہاڑوں میں اپنا نجی ٹھکانہ بنانا چاہتے ہیں۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ ہماچل پردیش ہائی کورٹ نے اس معاملے کی سنگینی کو سمجھا ہے۔ ایک حالیہ حکم میں عدالت نے بڑوگ کی ہریالی کو تباہ کرکے وہاں کنکریٹ کا جنگل کھڑا کرنے پر ریاستی حکومت کی سخت سرزنش کی ہے۔ عدالت نے دفعہ 118 کے تحت دی گئی منظوریوں، تعمیراتی منصوبوں کی اجازت اور نجی زمینوں پر کاٹے گئے درختوں کی مکمل تفصیلات طلب کی ہیں۔ اس نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر معاملے کی سی بی آئی تحقیقات کا حکم دینے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔

جو لوگ ہماچل اور وہاں کے باشندوں سے محبت کرتے ہیں، وہ یقیناً عدالتی حکم کا خیر مقدم کریں گے اور امید کریں گے کہ یہ اس سمت میں اٹھائے جانے والے متعدد ضروری اقدامات کا محض آغاز ثابت ہوگا۔ اب حکومت کو اس معاملے پر سیاست کرنے اور منافع کمانے کی سوچ ترک کرنا ہوگی۔ اسے سمجھنا ہوگا کہ یہ پہاڑوں اور ان کے باشندوں کے وجود کا سوال ہے۔ اس ریاست کو محض ایک وسیع ریزورٹ یا بند احاطوں پر مشتمل رہائشی سوسائٹی میں تبدیل کرنے کی کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔

(مضمون نگار ابھے شکلا ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر ہیں۔ یہ ان کے بلاگ پر شائع مضمون کی ترمیم شدہ شکل ہے)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔