ہمارے مستقبل کو بازار مت بنائیے...جے دیپ ہاردیکر
پیپر لیک اور بھرتیوں میں تاخیر کے خلاف نوجوان سڑکوں پر ہیں، ان کا مطالبہ ہے کہ سرکاری ملازمتوں کا نظام شفاف بنایا جائے تاکہ غریب خاندانوں کا مستقبل اور برسوں کی محنت بازار کی نذر ہونے سے بچ سکے

گاندھی جینتی، 2 اکتوبر کو جب ملک بھر کی توجہ دہلی کے جنتر منتر اور ممبئی کے شیواجی پارک میں ہونے والے مظاہروں پر مرکوز تھی، اسی وقت سرکاری ملازمتوں کے مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے سیکڑوں نوجوان مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (ایم پی ایس سی) کے خلاف پونے کی سڑکوں پر اتر آئے۔ یہ احتجاج کسی سیاسی جماعت کی اپیل پر نہیں، بلکہ نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی کے نتیجے میں خودبخود شروع ہوا تھا۔
سماجوادی رہنما اور مجاہد آزادی ایس ایم جوشی کے نام سے موسوم پونے کے تاریخی پل پر دھرنا دینے والے ان نوجوانوں کے لیے ایم پی ایس سی کی مسلسل ناکامیوں کا مطلب اپنی زندگی کے قیمتی ترین برسوں کا ضیاع ہے۔ اس کا مطلب اس رقم کا نقصان بھی ہے، جسے خرچ کرنے کی ان کے خاندانوں میں استطاعت نہیں تھی۔ اس سے بھی بڑھ کر، یہ اس اعتماد کے ٹوٹنے کا معاملہ ہے جو نسلوں سے ہندوستان میں سماجی ترقی کی بنیاد رہا ہے، یعنی محنت سے پڑھائی کرو، ایمانداری سے مقابلہ کرو اور کامیابی حاصل کرو۔
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران امیدواروں کو سوالیہ پرچوں میں غلطیوں، پیپر لیک کے الزامات، سائبر سکیورٹی میں نقب زنی، امتحانات کی تاریخوں میں بار بار تبدیلی، امتحانی پیٹرن میں ردوبدل، آسامیوں سے متعلق تنازعات، جانچ میں بے ضابطگیوں اور بالآخر ایک ثابت شدہ پیپر لیک کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں بھرتی کا پورا عمل منسوخ کرنا پڑا۔
کمیشن کے مسائل کو بنیادی طور پر تین زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ثابت شدہ بے ضابطگیاں جن پر کارروائی ہوئی، مخصوص امتحانات میں دھاندلی کے الزامات، اور انتظامی ناکامیاں، جن میں امتحانات ملتوی ہونا، آسامیوں کی تعداد میں کمی، جانچ سے متعلق تنازعات اور اعداد و شمار کی چوری شامل ہیں۔
مہاراشٹر میں 23 خصوصی عدالتوں میں سماعت کے لیے امتحانی دھاندلی کے 203 زیر التوا مقدمات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں سب سے پرانا معاملہ 2002 کا ہے، جس میں پولیس سب انسپکٹر سمیت مختلف عہدوں کے لیے ایم پی ایس سی کے امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات شامل ہیں۔
موجودہ احتجاج تقریباً ایک کلومیٹر کے دائرے میں تین الگ الگ مقامات سے شروع ہوا۔ طلبہ تین مختلف مطالبات کے ساتھ میدان میں ہیں۔ ایک گروپ ایم پی ایس سی کے چیئرمین وویک بھیمَن وار کی برطرفی چاہتا ہے۔ دوسرا گروپ معروضی سوالات کے بجائے تشریحی سوالیہ پرچوں اور جانچ میں زیادہ شفافیت کا مطالبہ کر رہا ہے، جب کہ تیسرا گروپ معروضی سوالات پر مبنی امتحانی نظام دوبارہ نافذ کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔
احتجاج میں شامل افراد کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں، حکمراں بی جے پی کی قیادت والی حکومت کے بعض حلقوں اور سی جے پی کی جانب سے بھی طلبہ کو حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ حکومت نے بہتر متبادل تلاش کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جسے دسمبر 2026 میں اپنی رپورٹ پیش کرنی ہے۔
پونے میں مسابقتی امتحانات کی تیاری سے وابستہ معیشت کا بڑا انحصار چھوٹے شہروں اور دیہی اضلاع سے آنے والے نوجوانوں پر ہے۔ ان میں سے بیشتر طویل عرصے سے زرعی بحران اور بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہزاروں امیدوار خشک سالی سے متاثرہ مراٹھواڑہ، کسانوں کی خودکشیوں کے مسئلے سے دوچار ودربھ، مغربی مہاراشٹر کے بنجر علاقوں اور دوسرے چھوٹے قصبوں سے آتے ہیں۔ پونے ایک بڑا تعلیمی مرکز ہونے اور دہلی کے مقابلے میں نسبتاً سستا ہونے کی وجہ سے ان نوجوانوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔
کولہاپور کے علاقے رادھانگری کے رہنے والے 24 سالہ وویکانند ماروتی پاٹل ایک کسان کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے کالج کے زمانے ہی سے ایم پی ایس سی کی تیاری شروع کر دی تھی۔ وہ کہتے ہیں، ’’ہم غریب خاندانوں اور کسانوں کے بچے ہیں، جو مشکل حالات کا مقابلہ کرکے گاؤں سے یہاں آئے ہیں۔ ہم ملازمتیں خریدنے کے لیے 50 لاکھ روپے نہیں دے سکتے۔ ہمارے مستقبل کو بازار مت بنائیے۔‘‘ احتجاجی مقام پر وویکانند اپنی طنزیہ گفتگو اور حس مزاح کی وجہ سے نمایاں چہرہ بن چکے ہیں۔ وہ اپنی تقریروں میں افلاطون اور ارسطو سے لے کر سنت گیانیشور اور سنت تکارام تک کا حوالہ دیتے ہیں، لیکن آخرکار طلبہ کی روزمرہ مشکلات پر واپس آ جاتے ہیں۔
احتجاج میں موجود بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’جب ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کی خرید و فروخت ہوئی اور سیاسی جماعتیں توڑی گئیں، تب ہمیں کوئی فرق نہیں پڑا۔ لیکن جب امتحان کا پرچہ لیک ہوا تو ایسا لگا جیسے ہمارے سروں پر آسمان ٹوٹ پڑا ہو۔‘‘ پونے میں امتحانات کی تیاری کا خرچ نوجوانوں کی کمر توڑ رہا ہے۔ طلبہ الگ کمرے لینے کے بجائے صرف بستر کرائے پر لیتے ہیں، کئی افراد ایک ساتھ رہتے ہیں، سستے میس اور ٹفن سینٹروں میں کھانا کھاتے ہیں اور بھیڑ بھری لائبریریوں میں گھنٹوں بیٹھ کر پڑھائی کرتے ہیں۔ انہیں ہر کتاب، ٹیسٹ سیریز اور کوچنگ کلاس پر ہونے والے اخراجات کا حساب رکھنا پڑتا ہے۔
پونے کے مطالعاتی مراکز سے متعلق 2023 کی ایک رپورٹ میں کولہاپور کے ایک امیدوار کا ذکر کیا گیا تھا، جو شیواجی نگر میں دو افراد کے ساتھ رہائش کے لیے ہر ماہ 6,000 روپے ادا کرتا تھا۔ نئی عمارت میں تین افراد کے ایک کمرے کا کرایہ 10,500 روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ ایک پرانے سروے کے مطابق، ایم پی ایس سی کے تقریباً نصف امیدوار دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ امتحان کی تیاری پر ان کا اندازاً سالانہ اوسط خرچ 1.19 لاکھ روپے تھا۔ کوچنگ کی فیس چند ہزار روپے سے لے کر ایک لاکھ روپے سے زیادہ تک پہنچ جاتی ہے۔ پونے کا ایک کوچنگ سینٹر ایم پی ایس سی کے ابتدائی اور اہم امتحانات کی ٹیسٹ سیریز سمیت تقریباً 90,000 روپے وصول کرتا ہے۔
تیاری میں گزرنے والا ہر اضافی سال والدین کو مزید قرض لینے پر مجبور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی امتحان کئی ماہ کے لیے ملتوی ہو جاتا ہے تو اس کا اثر خاندانوں پر کسی معاشی صدمے سے کم نہیں ہوتا۔ ہندوستان کے سرکاری ملازمتوں کے بھرتی نظام میں ایک سنگین تضاد موجود ہے: بھرتی کا عمل جتنا غیر یقینی ہوتا جاتا ہے، امیدوار اتنے ہی طویل عرصے تک امتحانات کی تیاری کے کاروبار میں پھنسے رہتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ امتحان میں کامیابی کا اعتماد کمزور پڑتا جاتا ہے، جب کہ کوچنگ کا کاروبار مزید پھلتا پھولتا ہے۔
پونے میں اس دباؤ کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ ماہ دھاراشیو کے ایک 28 سالہ امیدوار اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے۔ پولیس کو ایک خودکشی کا نوٹ ملا، جس میں تقریباً ڈھائی لاکھ روپے کے قرض کا ذکر تھا۔ ان کی موت کو براہ راست صرف امتحانی نظام سے جوڑنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ ایسے معاملات کے پس منظر میں کئی پیچیدہ عوامل ہوتے ہیں۔ تاہم، اس واقعے نے اس شدید معاشی اور ذہنی دباؤ کو ضرور نمایاں کر دیا، جس کے سائے میں بیشتر امیدوار زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ موجودہ احتجاج کی سنگینی کو اسی پس منظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ایم پی ایس سی سے متعلق حالیہ تنازعات مسلسل بڑھتے رہے ہیں۔ (تفصیلات جدول میں دیکھیے۔) بڑھتے دباؤ کے درمیان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ امتحانات آف لائن منعقد کیے جائیں گے اور کمیشن کے سکریٹری مہندر ہرپالکر کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے آئندہ تین برسوں کے دوران بڑے پیمانے پر بھرتیاں کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ اس میں ریٹائرمنٹ کے نتیجے میں خالی ہونے والی اسامیاں بھی شامل ہوں گی۔
اس سے پہلے طلبہ کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کے بعد حکومت نے چھ اقدامات کا یقین دلایا تھا۔ ان میں آف لائن امتحانات، ضرورت پڑنے پر آئین کے آرٹیکل 317 کے تحت متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی، دستاویزات بار بار جمع کرانے کی ضرورت ختم کرنے کے لیے سنگل کارڈ نظام اور تین برسوں کی خالی آسامیوں کو یکجا کرنا شامل تھا۔ ان یقین دہانیوں کے بعد طلبہ نے 2 اکتوبر کو ہونے والا احتجاج عارضی طور پر روک دیا تھا، لیکن وعدوں پر عمل درآمد کا یقین نہ ہونے کے باعث وہ دوبارہ احتجاج پر مجبور ہو گئے۔
سرکاری ملازمتوں کے امتحانات کا بحران صرف مہاراشٹر تک محدود نہیں ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا، جب مدھیہ پردیش کا ویاپم گھوٹالا بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آیا تھا۔ کرناٹک میں امیدوار اسی طرح کے مسائل کے خلاف کرناٹک پبلک سروس کمیشن میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جھارکھنڈ میں بھی ہزاروں امیدواروں نے جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن اور جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن کے زیر اہتمام امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ اسی سال نیٹ سے متعلق تنازعات نے ملک کے سب سے بڑے مسابقتی امتحانی نظام کی ساکھ کو قومی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔
ہندوستان کے نچلے اور متوسط طبقے کے لیے سرکاری ملازمت محض روزگار کا ذریعہ نہیں، بلکہ سماجی وقار اور معاشی تحفظ کی علامت بھی ہے۔ دیہی مہاراشٹر کے خاندانوں کے لیے اس کا مطلب گھر کے کسی فرد کی پہلی مستقل تنخواہ ہے، جو موسمی اتار چڑھاؤ اور معاشی بحرانوں سے بے نیاز آمدنی کا یقین دلاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری ملازمتوں کے لیے غیر معمولی مقابلہ دیکھنے کو ملتا ہے۔
اس کا اندازہ ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے:
گروپ سی مشترکہ ابتدائی امتحان، 2026: 5,700 آسامیوں کے لیے 10.86 لاکھ درخواستیں۔
ڈرگ انسپکٹر بھرتی، 2026: 154 آسامیوں کے لیے 44,500 امیدوار۔
ریاستی خدمات کا امتحان، 2025: 385 آسامیوں کے لیے 1.75 لاکھ امیدوار۔
مسابقتی امتحانات ایک طرح کی لاٹری بن چکے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ امیدواروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس پورے عمل کو منصفانہ سمجھیں۔ معاشی طور پر پسماندہ علاقوں سے آنے والے طلبہ کو ایسے امیدواروں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے، جنہیں بہتر تعلیمی وسائل اور مالی سہولتیں میسر ہوتی ہیں۔ پیپر لیک، امتحانات کے التوا اور بھرتیوں میں تاخیر سے اس نظام کی شفافیت اور انصاف کی بنیادیں کمزور پڑنے لگتی ہیں۔
احتجاج میں شدت آنے کے ساتھ ہی سیاسی جماعتیں اور شہری تنظیمیں بھی میدان میں اتر آئی ہیں۔ راہل گاندھی نے ایم پی ایس سی کی قیادت کے خلاف کارروائی اور سرکاری محکموں میں ہزاروں خالی آسامیوں کو فوری طور پر پُر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شردچندر پوار) کے رکن اسمبلی روہت پوار پہلے ہی دن سے احتجاجی مقام پر موجود ہیں۔ شرد پوار نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے بات کی ہے، جب کہ راج ٹھاکرے نے بھی احتجاجی مقام کا دورہ کیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما احتجاج کے الگ الگ مقامات پر پہنچ رہے ہیں۔
دوسری جانب، پولیس نے تین مقامات پر 68 مظاہرین کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ ان نوٹسوں میں کہا گیا ہے کہ احتجاج کے لیے اجازت نہیں لی گئی تھی۔ طلبہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو وہ احتجاج کو مزید تیز کرتے ہوئے سڑکیں جام کریں گے۔
یہ احتجاج صرف امتحانی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ نہیں، بلکہ اس اعتماد کی بحالی کی جدوجہد بھی ہے جو نوجوانوں کو محنت اور قابلیت کے ذریعے بہتر مستقبل حاصل کرنے کی امید دیتا ہے۔ جب برسوں کی محنت کے باوجود امتحانات کی شفافیت اور بھرتیوں کے منصفانہ ہونے کی ضمانت نہ رہے تو نقصان صرف امیدواروں کا نہیں ہوتا، بلکہ اس نظام کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے جس پر لاکھوں خاندان اپنے مستقبل کی امیدیں قائم کرتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
