ووٹ چوری کے معاملہ پر اب چیف جسٹس سے ملیں گے راہل گاندھی اور کھڑگے، پیر کو ملاقات کے لیے مانگا وقت
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی نے ووٹ چوری کے الزامات پر چیف جسٹس سوریہ کانت سے پیر کو ملاقات کا وقت مانگا ہے۔ اپوزیشن انتخابی بے ضابطگیوں پر مداخلت کی درخواست کرے گی

نئی دہلی: ووٹ چوری کے الزامات اور انتخابی فہرستوں میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کے درمیان کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اب ملک کے چیف جسٹس سوریہ کانت سے ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنماؤں نے اس سلسلے میں خط لکھ کر ملاقات کا وقت مانگا ہے۔ اپوزیشن رہنما پیر کو شام 4 سے 5 بجے کے درمیان چیف جسٹس سے ملاقات کر کے انہیں موجودہ حالات سے آگاہ کرنے اور معاملے میں مداخلت کی درخواست کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
کھڑگے نے اتوار کو بنگلورو میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اور راہل گاندھی نے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’کل ہم چیف جسٹس سے ملنے جا رہے ہیں۔ میں نے خط لکھا ہے اور راہل گاندھی نے بھی خط لکھا ہے۔ ہم نے شام 4 سے 5 بجے کے درمیان ملاقات کا وقت مانگا ہے۔ اس دوران ہم انہیں حالات سے آگاہ کریں گے۔‘‘ کانگریس صدر نے کہا کہ اپوزیشن چیف جسٹس سے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کرے گی۔ ان کے مطابق، وہ اپنی بات رکھیں گے اور چیف جسٹس سے اس سلسلے میں توجہ دینے کی اپیل کریں گے۔
کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر ملک میں افراتفری کا ماحول پیدا کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اپوزیشن اس کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
انہوں نے ہفتے کے روز دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مظاہرین کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر پولیس اہلکاروں کی تعیناتی اور لوگوں کو حراست میں لیا جانا ظاہر کرتا ہے کہ حکومت نوجوانوں کی تحریک سے خوف زدہ ہے۔ کھڑگے کے مطابق، احتجاج کے دوران سڑکیں بند کی گئیں، مواصلاتی خدمات متاثر ہوئیں، ہوائی اڈے تک رسائی محدود کی گئی اور موبائل نیٹ ورک بھی بند کر دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دوران تقریباً 32 ہزار پولیس اہلکار اور 7,500 سی آر پی ایف اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ملک میں جمہوریت کو پُرامن طریقے سے کام نہیں کرنے دینا چاہتی۔ کھڑگے نے کہا کہ اپوزیشن جمہوریت اور شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
ووٹ چوری کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج گزشتہ کئی دنوں سے جاری ہے۔ اپوزیشن جماعتیں وزیر اعظم اور بی جے پی پر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
منگل کو اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن تک مارچ نکالنے کی کوشش کی تھی، لیکن انہیں راستے میں روک دیا گیا۔ اس کے بعد راہل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن رہنماؤں نے جنتر منتر جانے کی کوشش کی، تاہم انہیں وہاں بھی جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
راہل گاندھی کی قیادت میں جمعہ کو اپوزیشن کے ایک وفد نے صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹ چوری کے الزامات اور انتخابی عمل سے متعلق شکایات پیش کیں۔ اب اپوزیشن رہنما چیف جسٹس سے ملاقات کر کے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کرنے جا رہے ہیں۔
ہفتے کو احتجاج کے دوران اپوزیشن کے کئی رہنماؤں اور کارکنوں سمیت 7,000 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ احتجاج کے پیش نظر دہلی کے بعض علاقوں میں میٹرو اور ٹرین خدمات پر پابندیاں لگائی گئیں اور کچھ حصوں میں انٹرنیٹ خدمات بھی معطل کی گئیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
