قومی خبریں

چین جا رہے شِپ سے لاپتہ ہو گیا ہندوستان کا مرچنٹ نیوی آفیسر، 2 فروری کو ہوئی تھی اہل خانہ سے آخری بار بات

لاپتہ نیوی افسر سارتھک کی ماں کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے اوڈیشہ حکومت کو ای میل بھیج کر اپنے بیٹے کو بچانے اور اسے بحفاظت گھر واپس لانے کی گزارش کی ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>لاپتہ نیوی آفیسر&nbsp;سارتھک مہاپاترا، تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ&nbsp;@rasmitasahoo76</p></div>

لاپتہ نیوی آفیسر سارتھک مہاپاترا، تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ @rasmitasahoo76

 

اوڈیشہ میں بھدرک ضلع کے ایک مرچنٹ نیوی آفیسر ماریشس کے پاس ایک جہاز پر ڈیوٹی کے دوران لاپتہ ہو گیا ہے۔ مرچنٹ نیوی یہاں سے 3 فروری کو لاپتہ ہوا تھا۔ آفیسر کے لاپتہ ہونےکے بعد خاندان کے لوگوں نے مرکزی اور ریاستی حکومت سے فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔ لاپتہ نیوی آفیسر کی شناخت سارتھک مہاپاترا کے طور پر ہوئی ہے، یہ بھدرک ضلع کے کیسپور کے رہنے والے ہیں۔ سارتھک جولائی 2025 سے ایک پرائیویٹ شپنگ کمپنی میں کام کر رہے ہیں۔

Published: undefined

سارتھک کی ماں رشمیتا مہاپاترا کے مطابق جہاز چین سے افریقہ گیا تھا اور سنگاپور ہوتے ہوئے چین لوٹ رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سارتھک نے 2 فروری کو مجھ سے اور خاندان کے دیگر ممبران اور دوستوں سے بات کی تھی۔ ہم اس کے لاپتہ ہونے سے بہت دکھی ہیں، مرکزی اور ریاستی حکومت سے فوری مداخلت کی گزارش کرتے ہیں۔ لاپتہ نیوی افسر سارتھک کی ماں کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے اوڈیشہ حکومت کو ای میل بھیج کر اپنے بیٹے کو بچانے اور اسے بحفاظت گھر واپس لانے کی گزارش کی ہے۔‘‘

Published: undefined

متاثرہ کی ماں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کر وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، شپنگ کے ڈائریکٹر جنرل اور وزارت خارجہ سے بھی مدد کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’’ایک ماں کے طور پر میں شفاف تحقیقات، سی سی ٹی وی فوٹیج تک رسائی، اس کے پرائیویٹ سامان کی معلومات اور مسلسل سرکاری اپڈیٹس کی درخواست کرتی ہوں۔‘‘ ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ پر اوڈیشہ حکومت کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ سارتھک کی ماں نے اس مسئلہ کو نئی دہلی میں متعلقہ افسران کے سامنے اٹھایا ہے، اور ان سے واقعہ کی تحقیقات کرنے کی گزارش کی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined