قومی خبریں

ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ کا باضابطہ اعلان، وزیر اعظم نریندر مودی نے فوائد واضح کیے

ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ کا اعلان، وزیر اعظم نریندر مودی کے مطابق اس معاہدے سے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی شعبہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>

سوشل میڈیا

 

وزیر اعظم نریندر مودی نے انڈیا انرجی ویک 2026 سے خطاب کے دوران ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے فری ٹریڈ ایگریمنٹ کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان مضبوط شراکت داری کی علامت ہے اور اس کے اثرات طویل مدت میں ہندوستانی صنعت، توانائی کے شعبے اور عام شہریوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ وزیر اعظم کے مطابق یہ سمجھوتہ ہندوستان کی مینوفیکچرنگ صلاحیت کو نئی رفتار دے گا اور سروس سیکٹر کے لیے وسیع مواقع پیدا کرے گا، جس سے روزگار کے نئے امکانات بھی سامنے آئیں گے۔

Published: undefined

خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ آج ہندوستان توانائی کے میدان میں ایک بڑی عالمی معیشت کے طور پر ابھر چکا ہے۔ قابل تجدید توانائی، تیل اور گیس کے شعبوں میں تیز رفتار ترقی نے ہندوستان کو بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط شراکت دار بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ برسوں میں کیے گئے معاشی اور ادارہ جاتی اصلاحات کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہوا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط ہوا ہے۔

وزیر اعظم نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ، ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان پہلے سے موجود تجارتی سمجھوتے کو مزید تقویت دے گا۔ اس کے نتیجے میں یورپ کے ساتھ ہندوستان کا مجموعی تجارتی حجم بڑھے گا اور دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو نئی بلندی ملے گی۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس معاہدے سے سرمایہ کاری، روزگار اور تکنیکی تعاون کے دروازے مزید کھلیں گے۔

Published: undefined

انڈیا انرجی ویک 2026 کا افتتاح گوا میں مرکزی وزیر پٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے کیا۔ اس عالمی پروگرام میں مختلف ممالک کے وزرا، صنعت کے نمایاں رہنما اور پالیسی ماہرین شریک ہوئے۔ اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی سلطان احمد الجابر اور گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت بھی موجود تھے۔

پرمود ساونت نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور توانائی کے شعبے میں وسیع امکانات رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب کے پیش نظر محفوظ اور پائیدار مستقبل کے لیے یہ شعبہ نہایت اہم ہے۔ ہندوستان اس وقت پیٹرولیم مصنوعات برآمد کرنے والے سرفہرست ممالک میں شامل ہے اور ڈیڑھ سو سے زائد ممالک کو برآمدات کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان یہ نیا سمجھوتہ چودہ سو کروڑ ہندوستانیوں اور یورپی شہریوں کے لیے مشترکہ ترقی کے وسیع مواقع لے کر آئے گا اور عالمی معیشت میں تعاون کی ایک مضبوط مثال قائم کرے گا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined