ایئر انڈیا کے بعد انڈیگو نے بھی بڑھا دیا فیول سرچارج، 14 مارچ سے مہنگی ہو جائے گی فلائٹ ٹکٹ

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے سبب دنیا بھر میں خام تیل اور طیارہ ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ آئی اے ٹی اے کے جیٹ فیول مانیٹر کے مطابق اس خطہ میں قیمتیں 85 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>انڈیگو / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

گزشتہ دنوں ایئر انڈیا نے ’فیول سرچارج‘ بڑھانے کا اعلان کیا تھا، جس سے ٹکٹ مہنگی ہو گئی، اور اب ہندوستان کی سب سے بڑی ایئر لائن انڈیگو نے بھی گھریلو اور بین الاقوامی پروازوں پر ’فیول سرچارج‘ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اضافہ 14 مارچ 2026 کی رات 12:01 بجے سے نافذ ہوگا۔ کمپنی نے یہ قدم ایندھن کی قیمتوں میں تیز اضافے کے باعث اٹھایا ہے، جو مغربی ایشیا میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے بڑھ گئی ہیں۔

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور ایران سے جڑے تنازعہ کے باعث دنیا بھر میں خام تیل اور ہوائی جہاز کے ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن (آئی اے ٹی اے) کے ’جیٹ فیول مانیٹر‘ کے مطابق اس خطہ میں جیٹ فیول کی قیمتیں 85 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ چونکہ اے ٹی ایف (ایویشن ٹربائن فیول) ایئر لائنز کے لیے سب سے بڑا آپریٹنگ خرچ ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت بڑھنے کا براہ راست اثر ایئر لائنز کی لاگت پر پڑتا ہے۔


بہرحال، انڈیگو نے بتایا کہ نیا فیول چارج ہر سیکٹر (یعنی سفر کے حصہ) کے حساب سے لیا جائے گا اور یہ فاصلے کے مطابق مختلف ہوگا۔ جو جانکاری دی گئی ہے، اس کے مطابق فیول سرچارج کچھ اس طرح ہوگا:

  • گھریلو پروازیں اور ہندوستانی برصغیر: 425 روپے

  • مشرق وسطیٰ: 900 روپے

  • جنوب مشرقی ایشیا اور چین: 1800 روپے

  • افریقہ اور مغربی ایشیا: 1800 روپے

  • یورپ: 2300 روپے

انڈیگو کا کہنا ہے کہ اگر ایندھن کی بڑھی ہوئی قیمتوں کا پورا اثر ٹکٹوں پر ڈال دیا جائے تو بنیادی کرایوں میں کافی اضافہ کرنا پڑے گا۔ فی الحال کمپنی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مسافروں پر اچانک زیادہ بوجھ نہ پڑے، اس لیے محدود فیول سرچارج ہی لگایا جائے۔


واضح رہے کہ انٹر گلوب ایویشن کی ایئر لائن انڈیگو کے بیڑے میں 400 سے زیادہ طیارے شامل ہیں۔ 2025 میں اس ایئرلائن نے تقریباً 12.4 کروڑ مسافروں کو سفر کرایا۔ یہ ایئرلائن اس وقت دنیا بھر میں 135 سے زیادہ مقامات کو جوڑتی ہے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ خام تیل کی قیمتوں پر نظر رکھے گی اور ضرورت پڑنے پر فیول سرچارج میں تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے۔