قومی خبریں

نئے سال میں وزارت داخلہ نے جیل میں نسلی تفریق کو کیا ختم، ’جیل مینوئل ایکٹ‘ میں ہوئی ترمیم

ماڈل جیل خانہ جات اور اصلاحی خدمات ایکٹ 2023 کے متفرق سیکشن میں سیکشن 55(اے) کی شکل میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں جو جیلوں اور اصلاحی اداروں میں نسلی بنیاد پر امتیازی سلوک کو روکتی ہیں۔

جیل، علامتی تصویر آئی اے این ایس
جیل، علامتی تصویر آئی اے این ایس 

وزارت داخلہ نے ہندوستانی جیلوں میں نسلی تفریق کو روکنے کے لیے جیل مینوئل ایکٹ میں تبدیلی کی ہے۔ وزارت نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جیلوں میں نسلی تفریق کو ختم کرنے اور ’عادتاً مجرم‘ کی موجودہ تعریف کو بدلنے کے لیے ماڈل جیل مینوئل 2016، ماڈل جیل اور اصلاحی خدمات ایکٹ 2023 میں ترمیم کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ تمام ہدایات پر سختی سے تعمیل کو یقینی بنائیں۔

Published: undefined

تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سکریٹریوں کو بھیجے گئے خط میں وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ جیل افسران کو لازمی طور پر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ نسلی بنیاد پر قیدیوں کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک، درجہ بندی اور علیحدگی نہ ہو۔ ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ جیلوں میں کسی بھی قیدی کو اگر کوئی کام کرنے کو کہا جائے یا کسی ڈیوٹی پر مامور کیا جائے تو ان کی ذات کی بنیاد پر کوئی تفریق نہ کی جائے۔ ماڈل جیل خانہ جات اور اصلاحی خدمات ایکٹ 2023 کے متفرق سیکشن میں سیکشن 55(اے) کی شکل میں کچھ تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں جو جیلوں اور اصلاحی اداروں میں نسلی بنیاد پر امتیازی سلوک کو روکتی ہیں۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندر چور نے ہندوستانی جیلوں میں نسلی بنیاد پر ہونے والی تفریق کو 3 اکتوبر 2024 کے اپنے فیصلے میں روک لگا دی تھی۔ سپریم کورٹ نے 10 ریاستوں کے جیل مینوئل میں شامل ایسے قوانین کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ان میں ترمیم کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس وقت اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ سبھی لوگ برابر پیدا ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ اگر جیل رجسٹر میں کہیں بھی قیدیوں کی ذات کا کالم ہو تو اسے مٹا دیا جائے۔ اس سے جیلوں میں قیدیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined