ابو سلیم کی 25 سال قید کی سزا مکمل، پھر بھی سپریم کورٹ نے راحت دینے سے کیا انکار!

ابو سلیم کے وکیل نے بتایا کہ انھیں 11 نومبر 2005 کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس پر سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا وکیل چھوٹ کو جوڑ کر 25 سال کا شمار کر رہے ہیں؟

ابو سلیم، تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

ممبئی میں 1993 کے دوران پیش آئے بم دھماکوں کے قصوروار گینگسٹر ابو سلیم کو سپریم کورٹ نے قید سے فی الحال آزاد کیے جانے پر روک لگا دی ہے۔ سپریم کورٹ نے سلیم کی رِہائی سے متعلق عرضی خارج کر دی۔ جسٹس وکرم ناتھ اور سندیپ مہتا کی بنچ نے کہا کہ ناسک جیل سے ملے دستاویز کے مطابق ہائی کورٹ معاملہ کی سماعت کرے گا۔ ہائی کورٹ کو جلد سماعت کی ہدایت دینے سے بھی سپریم کورٹ نے منع کر دیا۔

دراصل ابو سلیم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے 25 سال کی سزا پوری کر لی ہے، اس لیے جیل سے رِہائی کی اجازت دی جائے۔ وکیل نے بتایا کہ سلیم کو 11 نومبر 2005 کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس پر سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا وکیل چھوٹ (رمیشن) کو جوڑ کر 25 سال کا شمار کر رہے ہیں؟ ’بار اینڈ بنچ‘ کی رپورٹ کے مطابق سینئر ایڈووکیٹ رشی ملہوترا نے کہا کہ ابو سلیم کو 10 ماہ سے ناجائز طریقے سے حراست میں رکھا گیا ہے، اس کی سزا 25 سال سے زیادہ نہیں ہو سکتی ہے، اور ہائی کورٹ اس کا کیس نہیں سن رہا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ 25 سال کو لے کر جو کنفیوژن ہے، وہ صرف ریاضی کی غلطی ہے، اور کچھ نہیں۔ انھوں نے سپریم کورٹ سے گزارش کی کہ ہائی کورٹ میں آئی جی پی کا حلف نامہ ہے، اسے بھی دیکھنا چاہیے۔


توجہ طلب ہے کہ ابو سلیم کو طویل قانونی لڑائی کے بعد 11 نومبر 2005 کو پرتگال سے حوالہ کیا گیا تھا۔ ہندوستان اور پرتگال کے درمیان حوالگی سمجھوتہ کے تحت سلیم کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی اسے 25 سال سے زیادہ قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

ابو سلیم کو 2002 میں پرتگال میں فرضی پاسپورٹ معاملہ میں گرفتار کیا گیا تھا اور ہندوستان نے اس کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ جب پرتگال نے ابو سلیم کو ہندوستان کے حوالہ کیا، تو یہ شرط رکھی تھی کہ ہندوستان ابو سلیم کو پھانسی کی سزا نہیں دے گا، اور نہ ہی 25 سال سے زیادہ کی جیل ہوگی۔ ہندوستان کی یقین دہانی کے بعد پرتگال کی عدالت نے فروری 2004 میں حوالگی کو منظوری دی۔ 11 نومبر 2005 کو ابو سلیم پرتگال سے ہندوستان لایا گیا۔ یہ یقین دہانی اس لیے اہم تھی کیونکہ پرتگال میں موت کی سزا نہیں ہے اور قید کی زیادہ سے زیادہ مدت محدود ہوتی ہے۔ اسی لیے پرتگال نے ہندوستان سے اسی طرح کی شرطوں پر ہی حوالگی کو منظوری دی تھی۔