قومی خبریں

’کیش اسکینڈل‘ معاملہ: جسٹس یشونت ورما کے خلاف تحقیقات کے لیے تشکیل کمیٹی میں ردوبدل

کیش اسکینڈل مارچ 2025 میں ہوا تھا۔ ہولی کے موقع پر جسٹس یشونت ورما کی دہلی واقع سرکاری رہائش گاہ میں آگ لگ گئی تھی۔ آگ بجھانے کے دوران فائر بریگیڈ کو جلے ہوئے اور نیم جلے ہوئے نوٹوں کے بنڈل ملے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>جسٹس یشونت ورما، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

جسٹس یشونت ورما، تصویر سوشل میڈیا

 

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے جسٹس یشونت ورما کے خلاف ’کیش اسکینڈل‘ اور بدعنوانی کے الزامات کی جانچ کرنے والی کمیٹی میں بڑی تبدیلی کی ہے۔ خبر کے مطابق لوک سبھا اسپیکر کی طرف سے تشکیل دی گئی کمیٹی 6 مارچ سے سرگرم ہو جائے گی۔ اس کا مقصد الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس یشونت ورما کو ہٹانے کے مطالبے کے پیچھے کی وجوہات کی تحقیقات کرنا ہے۔

Published: undefined

لوک سبھا اسپیکر کی جانب سے تشکیل دی گئی سہ رکنی کمیٹی میں جسٹس اروند کمار(سپریم کورٹ)، جسٹس چندر شیکھر ( بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس) اور کرناٹک ہائی کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ بی وی اچاریہ شامل ہیں۔ یہ سنسنی خیز کیش اسکینڈل گزشتہ سال مارچ میں دہلی واقع جسٹس یشونت ورما کی سرکاری رہائش گاہ سے جلی ہوئی نقدی ملنے سے متعلق ہے۔ اس وقت جسٹس یشونت ورما دہلی ہائی کورٹ میں تعینات تھے۔ اس معاملے کے منظر عام پر آنے سے عدالت کے ساتھ ساتھ سیاسی حلقوں میں طوفان کھڑا کھڑا ہوگیا تھا۔ جسٹس ورما کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبات کے درمیان الہ آباد ہائی کورٹ منتقل کر دیا گیا تھا۔

Published: undefined

معاملے میں اب لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے بدھ کے روز جسٹس یشونت ورما کے خلاف تحقیقات کرنے والی 3 رکنی کمیٹی میں بڑی تبدیلی کی ہے۔ یہ کمیٹی ’کیش اسکینڈل‘ سے متعلق الزامات کی جانچ کر رہی ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے سب سے پہلی کمیٹی گزشتہ سال اگست میں بنائی گئی تھی لیکن اب اس کمیٹی میں ایک نئے رکن کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی اس لیے ہوئی ہے کیونکہ پرانی ​​کمیٹی کے ایک رکن جسٹس منیندر موہن شریواستو 6 مارچ کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ اب نئی کمیٹی ہی اس معاملے کی جانچ آگے بڑھائے گی اور رپوٹ پیش کرے گی۔

Published: undefined

کیش اسکینڈل مارچ 2025 میں ہوا تھا۔ ہولی کے موقع پر جسٹس یشونت ورما کی دہلی واقع سرکاری رہائش گاہ میں آگ لگ گئی تھی۔ آگ بجھانے کے دوران فائر بریگیڈ کو جلے ہوئے اور نیم جلے ہوئے نوٹوں کے بنڈل ملے تھے۔ نقدی کی مالیت لاکھوں یا کروڑ بتائی گئی تھی لیکن اس کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا۔ جسٹس یشونت ورما اس وقت بھوپال میں تھے اور انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ کیش ان کا نہیں ہے۔ جس کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے انہیں ان کی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا اور تحقیقات شروع کر دیں۔ بعد میں انہیں الہ آباد ہائی کورٹ منتقل کر دیا گیا۔ یہ اسکینڈل بدعنوانی کے الزامات سے وابستہ ہیں اور عدلیہ کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔ فی الحال تفتیش جاری ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined