مجوزہ حلقہ بندی پر شمال-جنوب ٹکراؤ تیز
خواتین ریزرویشن کے لئے لوک سبھا میں 307 نئی نشستیں شامل کی جائیں گی، اور ان کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہوگی تاکہ ’ایک شخص، ایک ووٹ، ایک قدر‘ کے اصول کو نافذ کیا جا سکے۔

ملک میں مجوزہ حلقہ بندی (ڈیلیمٹیشن) کے معاملے پر سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ خاص طور پر شمالی اور جنوبی ہندوستان کے درمیان پارلیمانی نمائندگی کے سوال پر اختلافات گہرے ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ ایک طرف مرکزی حکومت لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کرکے 2029 سے خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے کی تیاری کر رہی ہے، تو دوسری جانب جنوبی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ اس عمل سے ان کا سیاسی اثر و رسوخ کمزور پڑ سکتا ہے۔
یہ پورا تنازع دراصل خواتین ریزرویشن بل سے جڑا ہوا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہدف مقرر کیا ہے کہ 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے خواتین کو 33 فیصد نمائندگی دی جائے۔ اس مقصد کے لیے حکومت لوک سبھا کی کل نشستوں کو موجودہ 543 سے بڑھا کر تقریباً 850 کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جن میں سے 815 نشستیں ریاستوں اور 35 مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے مختص ہوں گی۔ اسی تناظر میں 14 اپریل 2026 کو حکومت نے تین اہم بلوں کے مسودے اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ شیئر کیےہیں۔ آئین (131واں ترمیمی) بل 2026، (حلقہ بندی) پریسیمن بل 2026 اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے متعلق بل۔ ان بلوں کو 16 سے 18 اپریل کے خصوصی اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
مجوزہ منصوبے کے مطابق لوک سبھا میں 307 نئی نشستیں شامل کی جائیں گی، اور ان کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہوگی تاکہ ’ایک شخص، ایک ووٹ، ایک قدر‘ کے اصول کو نافذ کیا جا سکے۔ لیکن یہی نکتہ تنازع کی جڑ بن گیا ہے، کیونکہ سوال یہ ہے کہ کس ریاست کو کتنی نشستیں ملیں گی اور کس کی نمائندگی کم ہو جائے گی۔
تمل ناڈو، تلنگانہ، کیرالہ، کرناٹک اور آندھرا پردیش جیسی جنوبی ریاستیں اس تجویز کی شدید مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ انہوں نے آبادی پر قابو پانے کے لیے مؤثر پالیسیاں اپنائیں اور کامیابی حاصل کی، لیکن اب اسی کامیابی کی “سزا” انہیں کم نشستوں کی صورت میں دی جا رہی ہے۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے تو عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھروں پر سیاہ جھنڈے لہرا کر احتجاج کریں، اور خبردار کیا ہے کہ اگر ریاست کے ساتھ ناانصافی ہوئی تو بڑے پیمانے پر تحریک چلائی جائے گی۔
تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر اس مسئلے پر کل جماعتی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف آبادی کی بنیاد پر نشستوں میں اضافہ وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرے گا اور جنوبی ریاستوں کے ساتھ ناانصافی کا سبب بنے گا۔ دوسری جانب آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے تمام سیاسی جماعتوں سے خواتین ریزرویشن بل کی حمایت کی اپیل کی ہے اور اسے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔
ہندوستان میں اب تک تین بار حلقہ بندی ہو چکی ہے، آخری بار 1973 میں 1971 کی مردم شماری کی بنیاد پر لوک سبھا کی نشستوں کو 522 سے بڑھا کر 543 کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 1976 میں 42ویں آئینی ترمیم کے ذریعے نشستوں کی تعداد کو منجمد کر دیا گیا تھا تاکہ وہ ریاستیں جو آبادی پر قابو پا رہی ہیں، نقصان سے بچ سکیں۔
حلقہ بندی کی بنیاد بنیادی طور پر آبادی ہوتی ہے۔ جن ریاستوں کی آبادی میں زیادہ اضافہ ہوا ہے، جیسے اتر پردیش، بہار، راجستھان اور مدھیہ پردیش، انہیں زیادہ نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ جنوبی ریاستوں کا کہنا ہے کہ ان کی آبادی نسبتاً مستحکم رہی ہے، اس لیے نئی تقسیم میں ان کی نمائندگی کم ہو جائے گی۔ کچھ اندازوں کے مطابق اتر پردیش کی نشستیں 120 سے بڑھ کر 140 تک جا سکتی ہیں، جبکہ تمل ناڈو کی نشستیں تقریباً 50 یا 51 کے آس پاس رہ سکتی ہیں، جس سے اس کا مجموعی حصہ کم ہو جائے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔