
مغربی ایشیا میں امریکہ۔اسرائیل تنازع کو 5 ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزرچکا ہے۔ اس دوران دونوں ممالک کی افواج لگاتار ایران کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنارہی ہیں وہیں ایران اپنی پوری طاقت کے ساتھ دفاعی کارروائی میں مصروف ہے۔ اسی دوران اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے ایران اور لبنان میں بڑے پیمانے پرفوجی آپریشن کرتے ہوئے 200 سے زائد ایرانی اور لبنان میں 140 حزب اللہ کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ آپریشن اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیتوں اور دفاعی نیٹ ورک تباہ کرنے کے مقصد سے شروع کیا گیا تھا۔
Published: undefined
اسی طرح آئی ڈی ایف نے ایران کے اندر کئی اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جس میں آئی آر جی سی کا فضائی دفاعی نظام بھی شامل بتایاگیا ہے۔ اس کے علاوہ طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری، ذخیرہ اندوزی اور ترقی سے متعلق مقامات پر بھی حملے کی تصدیق کی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ایران کے مضبوط میزائل سسٹم کے سامنے بے بس آئی ڈی ایف اب اس کے حامیوں کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بناکر دباؤ بنانے کی کوشش کررہی ہے۔
Published: undefined
لبنان میں آئی ڈی ایف نے بنیادی طور پر حزب اللہ کی اعلیٰ قیادت اور خصوصی دستوں کے خلاف فضائی حملے کیے ہیں۔ لبنان میں نشانہ بنائے گئے مقامات میں حزب اللہ کا تربیتی سینٹر اور کئی ہتھیاروں کے ذخیرہ اور لانچنگ سائٹس شامل ہیں۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق حزب اللہ کے رضوان فورس کے ہیڈکوارٹر پر حملے کی وجہ سے گروپ کے کمانڈ ڈھانچے کو جھٹکا لگا ہے۔
Published: undefined
وہیں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں سے ایران کے صنعتی اڈے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی اسٹیل کی پیداواری صلاحیت کا 70 فیصد تباہ ہو گیا ہے، جس کا مقصد آئی آر جی سی کو فنڈنگ کے ذرائع اور بڑی مقدار میں ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت دونوں سے محروم کرنا ہے۔
Published: undefined
وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس کارروائی کو ایک شاندار کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کی حکومت کو کچلنا جاری رکھیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی اور امریکی افواج کے درمیان مکمل ہم آہنگی سے ایران کو کچل دیا جائے گا۔ نیتن یاہو نے زور دے کر کہا کہ ایرانی حکومت اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہے جبکہ اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined