بنگلہ دیش میں خسرے کا کہر، مزید 3 بچوں کی موت، ہلاکتوں کی تعداد 588 تک پہنچ گئی

بنگلہ دیش میں خسرے اور اس سے ملتی جلتی علامات کے باعث مزید 3 بچوں کی موت کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 588 ہو گئی۔ مارچ سے اب تک 72 ہزار سے زائد مشتبہ معاملات سامنے آ چکے ہیں

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں خسرے اور اس سے ملتی جلتی علامات کے باعث بچوں کی اموات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید تین بچوں کی جان چلی گئی، جس کے بعد اس وبا اور اس سے مشابہ علامات کے نتیجے میں ہونے والی مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 588 تک پہنچ گئی ہے۔ صحت حکام کے مطابق صورت حال پر قابو پانے کے لیے نگرانی، ٹیکہ کاری اور علاج کے اقدامات میں تیزی لائی جا رہی ہے، تاہم متاثرہ علاقوں میں بیماری کا پھیلاؤ اب بھی تشویش کا سبب بنا ہوا ہے۔

صحت خدمات کے ڈائریکٹوریٹ جنرل کی جانب سے جاری تازہ طبی بلیٹن کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 1,134 نئے مشتبہ معاملات رپورٹ ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی 15 مارچ سے اب تک سامنے آنے والے مشتبہ مریضوں کی مجموعی تعداد 72,070 ہو گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچوں کے علاج اور بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے طبی مراکز کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک خسرے سے 90 بچوں کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خسرے سے ملتی جلتی علامات کے باعث 498 بچوں نے جان گنوائی۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیماری کی شدت نے ملک کے صحت عامہ کے نظام پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔


صحت بلیٹن میں بتایا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 45 مشتبہ مریضوں کی نشاندہی ہوئی، جس کے بعد اس مخصوص زمرے کے مریضوں کی تعداد 9,094 تک پہنچ گئی۔ دوسری جانب 15 مارچ سے اب تک بیماری جیسی علامات میں مبتلا 57,902 بچوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا، جن میں سے 53,722 صحت یاب ہو کر گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔

حکام کے مطابق حالیہ مشتبہ اموات سلہٹ، میمن سنگھ اور کھلنا اضلاع میں درج کی گئیں۔ ان علاقوں میں طبی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کیا جا سکے۔

خسرے کے بڑھتے ہوئے معاملات کے درمیان ملک کے صحت نظام کی کارکردگی بھی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹیکہ کاری سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلی اور ویکسین کی فراہمی کے عمل میں تاخیر نے صورت حال کو مزید سنگین بنا دیا۔ ماہرین نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر معمول کی ٹیکہ کاری متاثر ہوئی تو بڑے پیمانے پر وبا پھوٹ سکتی ہے۔

ادھر حکومت نے آنے والے مانسون موسم کے دوران ڈینگو جیسے مچھر سے پھیلنے والے امراض کے خدشات کے پیش نظر بھی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ وزیر صحت سردار محمد سخاوت حسین نے کہا ہے کہ ملک بھر کے اپ ضلع صحت مراکز میں ڈینگو کارنر قائم کیے جا رہے ہیں اور طبی عملے کو خصوصی تربیت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ ممکنہ وبائی صورت حال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔