
سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس
نئی دہلی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور مغربی بنگال حکومت کے درمیان جاری کھینچ تان کے دوران ہفتہ کو ایک اہم پیش رفت سامنے آئی، جب ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں کیویٹ درخواست داخل کر دی۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ آئی پیک سے جڑے معاملے میں اگر کوئی بھی درخواست یا اپیل دائر کی جائے تو عدالت مغربی بنگال حکومت کا موقف سنے بغیر کوئی یکطرفہ حکم صادر نہ کرے۔
Published: undefined
ریاستی حکومت کی جانب سے داخل کی گئی کیویٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں کسی بھی فریق کو یکطرفہ فائدہ پہنچانے والا حکم مناسب نہیں ہوگا، اور تمام متعلقہ فریقین کو سننا ناگزیر ہے۔ حکومت کا یہ قدم ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اس معاملے کو لے کر سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے۔
ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت کو اندیشہ تھا کہ ای ڈی عدالت عظمیٰ میں فوری راحت حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، اسی لیے پیشگی طور پر کیویٹ داخل کی گئی۔
Published: undefined
دوسری جانب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ بھی اس پورے معاملے میں اپنی قانونی حکمت عملی پر غور و خوض کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ای ڈی مختلف قانونی راستوں کا جائزہ لے رہی ہے، جن میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنا بھی شامل ہے۔ تاہم، حتمی فیصلہ کرنے سے قبل ای ڈی تمام قانونی پہلوؤں اور ممکنہ نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔
اس سے قبل انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے جمعہ کو ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا۔ ای ڈی نے عدالت کو بتایا تھا کہ اس کی جاری جانچ میں دانستہ طور پر رکاوٹیں پیدا کی گئیں، جس سے تفتیش متاثر ہوئی۔ ای ڈی کی جانب سے دائر درخواست میں اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کرانے کی مانگ کی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ایجنسی نے عدالت سے اس سلسلے میں مقدمہ درج کرنے کی اجازت بھی طلب کی۔
Published: undefined
ای ڈی نے عدالت کو یہ بھی آگاہ کیا کہ جمعرات کو ہونے والی جانچ کے دوران مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی مبینہ طور پر چند اہم دستاویزات اور معلومات اپنے ساتھ لے گئیں۔ قابل ذکر ہے کہ جمعرات کو آئی پیک کے دفتر اور اس کے شریک بانی پرتیک جین کی رہائش گاہ پر ای ڈی کی کارروائی کے دوران وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ریاستی انتظامیہ اور پولیس کے سینئر افسران کے ہمراہ پہلے پرتیک جین کے گھر اور بعد ازاں آئی پیک کے دفتر پہنچی تھیں۔ اس دوران ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے کچھ فائلیں اور الیکٹرانک دستاویزات نکلوا کر اپنی گاڑی میں رکھوائیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined