
آئی اے این ایس
نئی دہلی: پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو نے ہندوستانی پیسے کے بیرونِ ملک جانے، غیر ملکی فنڈنگ پر نگرانی اور فارن کنٹریبیوشن ریگولیشن ایکٹ (ایف سی آر اے) سے متعلق مرکزی حکومت سے کئی سوالات کیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو سب سے پہلے یہ واضح کرنا چاہیے کہ ہندوستان کا کتنا پیسہ بیرونِ ملک جا رہا ہے۔
اکھلیش یادو نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ بیرونِ ملک سے ہندوستان میں فنڈ لانے پر مختلف پابندیاں عائد ہیں، لیکن ہندوستانی پیسے کے بیرونِ ملک جانے کے معاملے میں اتنی روک ٹوک دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت بیرونِ ملک منتقل ہونے والے ہندوستانی سرمائے پر کب روک لگائے گی۔
ایس پی سربراہ نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اقتدار میں آنے کے بعد امیر اور بڑے لوگوں کے ’اچھے دن‘ آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستانی پیسہ بڑی مقدار میں بیرونِ ملک جا رہا ہے تو حکومت کو اس بارے میں واضح جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے ایف سی آر اے کے استعمال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کہیں یہ قانون اقلیتوں کو پریشان کرنے یا دہشت گردی اور ٹیرر فنڈنگ کے خلاف سخت کارروائی کا پیغام دینے تک محدود تو نہیں ہو گیا ہے۔
اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان کا بڑی مقدار میں پیسہ پہلے ہی بیرونِ ملک جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس معاملے میں شفافیت کے ساتھ اعداد و شمار سامنے رکھنے چاہئیں۔ ان کے مطابق ایف سی آر اے سمیت مختلف معاملات پر پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
ایس پی کے رکن پارلیمنٹ رام گوپال یادو نے بھی ایف سی آر اے کے معاملے پر حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کسی موضوع پر کچھ کرنا چاہتی ہے تو اس کے راستے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی۔ انہوں نے ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے ووٹنگ والے دن کی رات ہی نافذ کر دیا گیا تھا۔
ایف سی آر اے بل پر رام گوپال یادو نے کہا کہ اس معاملے میں ماہرین کی جانب سے مختلف تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق اپوزیشن اور حکومت کی جانب سے الگ الگ باتیں کہی جا رہی ہیں، لیکن انہیں پورا معاملہ درست نہیں لگ رہا۔
ایس پی کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے بھی ایف سی آر اے بل پر حکومت سے وضاحت طلب کی۔ انہوں نے حکومت سے شفافیت برقرار رکھنے اور قانون و ضوابط کو تمام تنظیموں پر یکساں طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایف سی آر اے اور مختلف این جی اوز کے تحت رجسٹرڈ املاک کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس سے لوگوں میں خوف کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔
ڈمپل یادو نے سوال اٹھایا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) ایک رجسٹرڈ تنظیم ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے اور پوری کارروائی میں شفافیت ضروری ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔