کامیابیوں کو ہمیشہ یاد رکھوں گا، ناکامیوں کو بھی کھلے دل سے قبول کرتا ہوں: گوتم گمبھیر

گوتم گمبھیر نے کہا کہ ’’میرا ماننا ہے کہ جس ملک کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم مضبوط ہوتی ہے، وہی ملک کرکٹ میں مضبوط ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ریڈ بال کرکٹ اب بھی ہماری ترجیح ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>گوتم گمبھیر، ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے اپنی 2 سالہ مدت کار پر بات کرتے ہوئے گوتم گمبھیر نے کہا کہ وہ تمام فارمیٹس میں ملی کامیابیوں کو تو یاد رکھتے ہی ہیں، ساتھ ہی اپنی ناکامیوں کو بھی کھلے دل سے قبول کرتے ہیں۔ جولائی 2024 میں شروع ہوئی گوتم گمبھیر کی مدت کار میں ہندوستان نے 2025 چمپئنز ٹرافی اور مینز ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 جیتا، لیکن آسٹریلیا کے خلاف غیر ملکی سرزمین پر اور گھریلو میدان پر نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں شکست کا سامنا بھی کیا۔

گوتم گمبھیر نے ’جیو اسٹار‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ 2 سال پلک جھپکتے ہی نہیں گزرے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں نے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ میری اپنی ناکامیاں اور کامیابیاں رہی ہیں۔ پھر بھی، میرا ہمیشہ سے ماننا رہا ہے کہ جب آپ ایسی ذمہ داری لیتے ہیں تو اتار چڑھاؤ تو آتے ہی ہیں۔ خواہ ٹیسٹ کرکٹ ہو، ونڈے کرکٹ ہو یا ٹی-20 کرکٹ۔ ہاں، مجھے کامیابی ملی ہے جسے میں ہمیشہ یاد رکھوں گا، لیکن مجھے ناکامیاں بھی ملی ہیں، جنہیں میں کھلے دل سے قبول کرتا ہوں۔‘‘


روہت شرما، وراٹ کوہلی اور روی چندرن اشون جیسے سینئر میچ ونر کھلاڑیوں کے جانے کے بعد ٹیسٹ ٹیم میں ہونے والی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے گمبھیر نے موجودہ کپتان شبھمن گل کی قیادت میں مستقبل کے لیے ایک مضبوط ’کور ٹیم‘ (بنیادی ٹیم) تیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف گھریلو میدان پر وائٹ بال میچوں کے بعد ہندوستان کو نیوزی لینڈ میں ملٹی فارمیٹ سیریز کھیلنی ہے، پھر گھریلو میدان پر سری لنکا اور زمبابوے کے خلاف وائٹ بال میچ کھیلنے ہیں اور اس کے بعد آسٹریلیا کی میزبانی کرتے ہوئے 5 میچوں کی ٹیسٹ سیریز میں حصہ لینا ہے۔

ہندوستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے کہا کہ ’’میرے خیال میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ انگلینڈ سیریز کے بعد سے ہم نے کافی اچھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلی ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہماری ٹیم میں ابھی بہتری کی گنجائش نہیں ہے، کیونکہ ٹیسٹ کرکٹ میں جس طرح کی تبدیلیاں ہوئی ہیں، خاص طور پر روہت، وراٹ اور اشون جیسے کھلاڑیوں کے جانے کے بعد، ایسے کھلاڑیوں کی جگہ بھرنا ظاہر ہے کہ بہت مشکل ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ان کھلاڑیوں کے پاس جتنا ٹیلنٹ اور تجربہ تھا اور انہوں نے ریڈ بال کرکٹ میں ہندوستانی کرکٹ کے لیے جو کچھ بھی کیا ہے، اسے دیکھتے ہوئے ان کی جگہ لینا کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہوگا، اس لیے اس میں وقت لگے گا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم صحیح کھلاڑیوں کا ساتھ دیتے رہے تو شاید ہندوستانی کرکٹ طویل عرصے تک ریڈ بال کرکٹ میں اپنا غلبہ برقرار رکھے گی۔‘‘


گوتم گمبھیر نے یہ بھی کہا کہ ’’جب آپ ریڈ بال کرکٹ میں نئے کھلاڑیوں کو لاتے ہیں تو آپ ان کی عمر اور ان کے کھیلے گئے میچوں کی تعداد دیکھتے ہیں اور انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ٹیسٹ کرکٹ کتنی ضروری ہے، کیونکہ میرا ماننا ہے کہ جس ملک کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم مضبوط ہوتی ہے، وہی ملک کرکٹ میں مضبوط ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ریڈ بال کرکٹ اب بھی ہماری ترجیح ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔