آئی آئی ٹی دہلی نے تیار کیا ہندوستان کا پہلا مقامی ’مائیکرو جی پی یو‘

آئی آئی ٹی دہلی کے محققین نے ہندوستان کا پہلا کام کرنے والا مقامی مائیکرو جی پی یو تیار کیا ہے، جو کم لاگت والے آلات، ڈسپلے، نیویگیشن اور صنعتی نظام میں استعمال ہو سکتا ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

نئی دہلی: آئی آئی ٹی دہلی کے محققین نے ہندوستان کا پہلا کام کرنے والا اور عملی طور پر دکھایا جا سکنے والا مقامی مائیکرو جی پی یو تیار کیا ہے۔ گرافکس پروسیسنگ یونٹ یعنی جی پی یو آج کے کمپیوٹر، موبائل اور دیگر الیکٹرانک آلات کا اہم حصہ ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشین لرننگ جیسی جدید ٹیکنالوجی میں بھی جی پی یو کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔

ہندوستان میں جی پی یو کی ضرورت بڑی حد تک درآمد کے ذریعے پوری ہوتی رہی ہے۔ آئی آئی ٹی دہلی کی یہ کوشش اسی درآمدی انحصار کو کم کرنے کی سمت ایک اہم قدم مانی جا رہی ہے۔ ادارے کے مطابق اس کی معلومات کے مطابق یہ ہندوستان کی کسی یونیورسٹی کی جانب سے تیار کیا گیا پہلا ایسا مقامی مائیکرو جی پی یو ہے جو کام کرنے کی حالت میں ہے اور جس کا عملی مظاہرہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

یہ مائیکرو جی پی یو آئی آئی ٹی دہلی کے شعبہ برقی انجینئرنگ کی ایک ٹیم نے تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کی قیادت ایم ٹیک کے طلبہ نَمّی آکاش اور ایم. روی تیجا نے کی، جبکہ پروفیسر جے دیو اور پروفیسر کوشک ساہا نے ان کی رہنمائی کی۔ اس ڈیزائن کو اسپارٹن-7 ایف پی جی اے پلیٹ فارم پر کامیابی سے نافذ کیا گیا ہے۔

محققین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو ایسے چھوٹے اور کم لاگت والے آلات میں استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں گرافکس یا ڈسپلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں صنعتی کنٹرول ڈسپلے، کم لاگت والے ہیومن مشین انٹرفیس، ای رکشا کے ڈیش بورڈ اور نیویگیشن سسٹم، چھوٹی ماہی گیری کی کشتیوں کے لیے اندرونِ ملک آبی راستوں کے نیویگیشن ٹرمینل اور تعلیمی ای بک ریڈر شامل ہیں۔


ٹیم کے مطابق یہ ایک پروگرام کیے جا سکنے والا گرافکس پروسیسر ہے، جسے مختلف ضروریات کے مطابق الگ الگ آلات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مستقبل میں اسے اے ایس آئی سی یعنی کسی مخصوص مقصد کے لیے تیار کی جانے والی چپ یا ایف پی جی اے جیسے پروگرام کیے جانے والے ہارڈویئر پر بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔

نَمّی آکاش اور ایم. روی تیجا نے بتایا کہ ان کا مقصد ایک ایسا چھوٹا لیکن حقیقی طور پر پروگرام کیے جا سکنے والا گرافکس پروسیسنگ نظام تیار کرنا تھا، جسے پہلے ایف پی جی اے پر نافذ کیا جا سکے اور بعد میں چپ کی شکل دی جا سکے۔ ان کے مطابق مقامی ہارڈویئر کی ایسی ٹیکنالوجی کم لاگت والے ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

آئی آئی ٹی دہلی اب اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے پر کام کر رہا ہے۔ منصوبے کے اگلے مرحلے میں 8 سے 16 کور والے ویکٹر طرز کے گرافکس پروسیسر کے ساتھ بہتر کمپائلر اور گرافکس سافٹ ویئر ٹولچین تیار کرنے کا منصوبہ ہے۔ ٹیم 65 نینو میٹر اے ایس آئی سی عمل کے ذریعے اس کا پروف آف کانسیپٹ بھی تیار کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔