’نندی گرام ضمنی انتخاب میں کانگریس امیدوار ملن پردھان کو انتخاب لڑنے کی اجازت دی جائے‘، کلکتہ ہائی کورٹ کا حکم
کلکتہ ہائی کورٹ نے نندی گرام ضمنی انتخاب میں کانگریس امیدوار ملن پردھان کو انتخاب لڑنے کی اجازت دینے کی ہدایت دی۔ عدالت نے 2007 کے ایک مقدمے میں 12 اکتوبر تک ان کے خلاف کارروائی پر بھی روک لگا دی

کلکتہ ہائی کورٹ نے جمعرات کو مغربی بنگال کے نندی گرام اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب میں کانگریس امیدوار ملن پردھان کو مناسب طریقے سے انتخاب لڑنے کی اجازت دینے کی ہدایت دی۔ عدالت نے 2007 کے ایک مقدمہ میں ان کی گرفتاری کے معاملہ پر بھی اہم حکم دیتے ہوئے پولیس کو 12 اکتوبر تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔
خیال رہے کہ نندی گرام میں ضمنی انتخاب 6 اکتوبر کو ہونا ہے، جبکہ انتخابی مہم 4 اکتوبر کو ختم ہو جائے گی۔ ملن پردھان اس وقت دیگر مقدمات کے سلسلہ میں عدالتی حراست میں ہیں اور ایک نچلی عدالت نے انہیں 7 اکتوبر تک عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
جسٹس سوگت بھٹاچاریہ کی سربراہی میں سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ایسا کوئی دستاویز پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ 2007 کے کھجوری تھانہ کے مقدمہ میں ملن پردھان کے خلاف پروڈکشن وارنٹ مناسب طریقے سے نافذ کیا گیا تھا۔ عدالت نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ 2007 کے ایک پرانے مقدمہ میں تفتیشی افسر نے 19 ستمبر کو پردھان کو گرفتار ظاہر کرنے کی درخواست دی۔
عدالت نے کھجوری تھانہ کے کیس نمبر 45 میں پولیس کو 12 اکتوبر تک ملن پردھان کے خلاف مزید کارروائی نہ کرنے کی ہدایت دی اور واضح کیا کہ اس مقدمہ میں انہیں گرفتار تصور نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے ریاستی حکومت کے وکیل سے زبانی طور پر یہ بھی کہا کہ کانگریس امیدوار کو نندی گرام ضمنی انتخاب لڑنے کی اجازت دی جائے۔
ملن پردھان کے وکیل ایان بھٹاچاریہ نے عدالت کو بتایا کہ 22 ستمبر کی سماعت کے دوران ریاستی حکومت نے پردھان کے خلاف موجود مقدمات کے بارے میں جو معلومات دی تھیں، ان میں 2007 کے مذکورہ کھجوری مقدمہ کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق بعد میں اسی معاملے میں پردھان کو گرفتار ظاہر کر کے نچلی عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالتی حراست حاصل کی گئی۔
ریاست کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل راج دیپ مجمدار نے موقف اختیار کیا کہ کھجوری تھانہ کے مقدمہ میں کانتی اے سی جے ایم عدالت نے 19 ستمبر کو پروڈکشن وارنٹ جاری کیا تھا۔ ان کے مطابق مقدمہ میں قتل اور قتل کی کوشش سمیت کئی سنگین الزامات شامل ہیں۔
ریاستی حکومت نے یہ بھی بتایا کہ 2007 کے نندی گرام اور کھجوری میں زمین کے حصول کے خلاف ہونے والے احتجاج سے متعلق کئی مقدمات درج کیے گئے تھے۔ حکومت کے مطابق سابق حکومت نے 2020 میں ان میں سے بعض مقدمات واپس لے لیے تھے، تاہم ایک مفادِ عامہ کی عرضی کے بعد 2021 میں عدالت کے حکم پر انہیں دوبارہ بحال کیا گیا۔
ملن پردھان کو 18 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف درج مقدمات میں قتل، قتل کی کوشش، قتل کے ارادے سے اغوا، ثبوت مٹانے، غیر قانونی طور پر گھر میں داخل ہونے، مسلح ہنگامہ آرائی اور آرمز ایکٹ کے تحت الزامات شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے خلاف درج بعض مقدمات میں ضمانت کے لیے درخواستیں بھی دائر کر رکھی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
