پریس کانفرنس کے دوران کانگریس ترجمان اتل لوندھے پاٹل (ویڈیو گریب)
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے داووس دورہ پر کانگریس کے ترجمان اتل لوندھے پاٹل نے پریس کانفرنس کر ریاستی حکومت سے کئی اہم سوال پوچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’سوئٹزرلینڈ کے داووس میں ہر سال ورلڈ اکنامک فورم منعقد ہوتا ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس دھوم دھام کے ساتھ داووس گئے اور اب کہہ رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں مہاراشٹر میں 30 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری آنے والی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’24-2023 میں جب ایکناتھ شندے وزیر اعلیٰ تھے، تب بھی 3 لاکھ 60 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری آنے کی بات ہوئی تھی۔ پھر جب شندے کو ہٹا کر فڑنویس وزیر اعلیٰ بنے تب 25-2024 میں 15 لاکھ کروڑ کی بات ہوئی اور اب 30 لاکھ کروڑ کی بات ہو رہی ہے۔‘‘ کانگریس ترجمان نے سوال کیا کہ ’’کیا وزیر اعظم بننے کے لیے یہ سرمایہ کاری بتائی جا رہی ہے؟ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 3 سال میں 50 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری آ چکی ہے، ایسے میں سارے مسائل ختم ہو جانے چاہیے تھے؟‘‘
Published: undefined
کانگریس ترجمان اتل لوندھے پاٹل نے ریاستی حکومت سے سوال پوچھا کہ ’’مہاراشٹر حکومت نے کتنے مفاہمت ناموں (ایم او یو) پر دستخط کیے اور کتنے تبدیل ہوئے؟ اس عمل کے تحت کتنے لوگوں کو لینڈ پارسل ملا ہے؟ کتنے مفاہمت نامے پروڈکشن میں تبدیل ہوئے اور کتنے لوگوں کو روزگار ملا؟ جن کمپنیوں کے ساتھ مفاہمت ناموں پر دستخط ہوئے ہیں، ان میں سے کتنی لسٹڈ یا رجسٹرڈ ہیں؟ ایم آئی ڈی سی، سی آئی ڈی سی او، ایم ایم آر ڈی اے کے پاس کتنی زمینیں دستیاب ہیں؟‘‘
Published: undefined
پریس کانفرنس کے دوران کانگریس ترجمان نے پوچھا کہ ’’مہاراشٹر میں سال 2018 میں میگنیٹک مہاراشٹر نام کا ایک پروگرام ہوا تھا۔ اس میں 16 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری آئی تھی، ساتھ ہی 8 لاکھ روزگار پیدا ہونے والے تھے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ صرف پونے میں 32 لاکھ کسانوں کے بچے سرکاری نوکری کی تیاری کر رہے ہیں۔ ہر سال وہ احتجاج کرتے ہیں، تب بھی روزگار نہیں مل رہا ہے۔‘‘ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’آخر عوام سے اس قدر جھوٹ کیوں بولا جاتا ہے؟ بی جے پی حکومت 2 سال میں 3 لاکھ کروڑ سے 30 لاکھ کروڑ تک کی سرمایہ کاری پر پہنچ گئی، ایسے میں کام زمین پر نظر کیوں نہیں آتا؟ میگنیٹک مہاراشٹر کا کیا ہوا، اس میں جو پروجیکٹ آئے تھے، کیا ان میں لینڈ پارسل ملا، کیا پروڈکشن شروع ہوا اور کیا روزگار ملا؟‘‘
Published: undefined
اتل لوندھے پاٹل نے مزید کہا کہ ’’میرے پاس ایک چارٹ ہے، اگر آپ اسے دیکھیں گے تو پتہ چلے گا کہ زمین تک نہیں ملی۔ یعنی صاف ہے کہ بی جے پی حکومت جھوٹ بول رہی ہے۔ اگر 5-4 سال میں لاکھوں کروڑوں کی سرمایہ کاری آ چکی ہے تو لاڈلی بہنا کو ہر ماہ 2100 روپے ملنا چاہیے، کسانوں کا قرض معاف ہونا چاہیے اور مہارشٹر حکومت کا قرض ختم ہو جانا چاہیے۔‘‘ ایسے میں سوال ہے کہ ’’کتنی کمپنیاں دیگر ممالک کی ہیں؟ کتنی کمپنیوں کے ایم ڈی، ڈائریکٹر مہاراشٹر یا باہر کے ہیں؟ جن کمپنیوں سے مفاہمت ناموں پر دستخط ہوئے، ان میں کتنی لسٹڈ ہیں؟ میگنیٹک مہاراشٹر کا کیا ہوا یا پھر کسی دباؤ کی وجہ سے مہاراشٹر کے حالات بہتر نہیں ہو رہے؟‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز