
تصویر آئی اے این ایس
ایک بے حد حیران کرنے والا معاملہ گجرات کے سورت میں پیش آیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سورت میں سرکاری رہائشی اسکول میں ایک بیمار طالبہ کے علاج کے لیے جادو-ٹونا کا سہارا لیا گیا ہے۔ واقعہ کی خبر پھیلتے ہی ہنگامہ بڑھنے پر ریاستی حکومت نے ٹرائبل ڈیولپمنٹ کمشنر کو معاملے کی جانچ کرنے کا حکم دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سورت کے مڑھی گاؤں میں قبائلی لڑکیوں کے ووکیشنل ٹریننگ رہائشی اسکول کے ’واتسلیہ کنیا آشرم شالہ‘ کی ایک طالبہ بیمار پڑ گئی تھی، لیکن اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی جگہ ہاسٹل وارڈن نے تانترک کو بلایا جس نے ادارہ کی سبھی 140 لڑکیوں پر جادو-ٹونا کیا۔
جب یہ بات منکشف ہوئی تو معاملے نے طول پکڑ لیا اور حکومت پر چہار جانب سے سوال اٹھنے لگے۔ دانشوروں کے ایک گروپ نے اس پورے واقعہ کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ ’وگیان جتھہ‘ گروپ کے لیڈر جینت پنڈیا نے کہا ہے کہ حکومت کو رہائشی اسکول کے وارڈن اور ٹرسٹیوں کے خلاف مجرمانہ شکایت بھی درج کروانی چاہیے۔
اس معاملے پر ٹرائبل ڈیولپمنٹ کی انچارج اسسٹنٹ کمشنر انیتا نیال نے کہا کہ مجھے جادو ٹونا کے واقعہ کے بارے میں پتہ چلا اور میں اسکول پہنچی، جہاں اسٹوڈنٹس اور ٹیچرس دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھوں نے مہاشیوراتری کے موقع پر لال دھاگہ باندھا ہے۔ اس بارے میں ایک تفصیلی جانچ کی جائے گی اور رپورٹ ٹرائبل کمشنر کو سونپی جائے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔