ماہِ رمضان میں شب و روز کی تنظیم کیوں ضروری؟… مفتی محمد مشتاق تجاروی
اگر رمضان المبارک کی قدر ہو گئی تو امید ہے کہ سال کے بقیہ ایام بھی بارآور ہوں گے، ورنہ زندگی تو برف کی طرح پگھل ہی رہی ہے۔

رمضان المبارک کا مہینہ سال کے افضل ترین مہینوں میں ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنی کتاب ہدایت کے نزول کے لیے اس ماہ مبارک کو منتخب فرمایا۔ وہ کتاب ہدایت جس پر عمل کرنے میں دنیا کی سرفرازی اور آخرت کی عظیم کامیابی مضمر ہے، جو رہتی دنیا تک کے لیے ہدایت ہے۔ جس کا حرف حرف مالک کائنات کا فرمان ہے، وہ عظیم کتاب اس ماہ مبارک میں نازل ہوئی۔ اس کلام الٰہی کی نسبت کا عالم یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اس مہینے کو اپنی ایک عظیم ترین عبادت یعنی روزے کے لیے منتخب فرما لیا۔ اس ماہ مبارک کے اندر روزے فرض کیے گئے، پھر اس کی عظمت کو اس طرح بڑھایا کہ اس میں عبادت کے اجر میں اضافہ کر دیا۔ اس ماہ مبارک میں فرض نماز کا ثواب ستر فرائض کے برابر ہو جاتا ہے اور نفل نماز کا ثواب فرض کے برابر ہو جاتا ہے۔ یعنی اپنے اجر و ثواب کے اعتبار سے ایک ماہ کی فرض عبادت ستر مہینوں کے برابر ہو جاتی ہے۔ اور رب کریم کی شان نرالی ہے، وہ نیتوں پر اجر و ثواب میں بھی اضافہ فرما دیتا ہے۔ چوں کہ قرآن مجید ایک رات میں بھی نازل ہوا تھا، اس لیے اس رات کا درجہ بڑھا کر اس کو کم و بیش ایک صدی، یعنی ہزار راتوں سے افضل بنا دیا اور اس کا نام ہی ’عزت کی رات‘ رکھ دیا۔ اس رات کو قیامت تک تقدیر کے فیصلے کرنے والی رات بنا دیا۔ اس رات میں سارے مبارک فیصلے ہوتے ہیں۔
شیطان انسانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ انسانوں کو اتنی عظیم فضیلت ملی تو اس کو کسی طرح گوارہ نہیں ہوتا۔ اس لیے اللہ نے اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے اس ماہ مبارک میں سرکش شیاطین قید کر دیے، تاکہ لوگ آسانی سے عبادت کر سکیں۔ غرض اس مہینہ کے فضائل بہت ہیں۔ ہر اعتبار سے یہ ماہ مبارک اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام ہے۔ یہ تربیت کا مہینہ بھی ہے، یہ جنت کمانے کا بھی مہینہ ہے، یہ شہر المواساۃ یعنی ہمدردی و غم خواری کا مہینہ بھی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس ماہ مبارک کی قدر کی جائے اور اس کو زندگی کے بقیہ ایام کی طرح رائیگاں نہ جانے دیا جائے۔ اگر اس ماہ مبارک کی قدر ہو گئی تو امید ہے کہ سال کے بقیہ ایام بھی بارآور ہوں گے، ورنہ زندگی تو برف کی طرح پگھل ہی رہی ہے۔
رمضان المبارک میں اپنے اوقات کی حسن ترتیب سال کے بقیہ دنوں کی حسن ترتیب بن سکتی ہے۔ اس لیے ان ایام کو ترتیب و تنظیم کے ساتھ گزارا جائے تو امید ہے کہ اس کے دیرپا فوائد ہوں گے اور دور رَس اثرات بھی مرتب ہوں گے۔
رمضان المبارک کے ایام کی ترتیب و تنظیم کے حوالہ سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ رمضان میں کم از کم کیا کرنا چاہیے۔ اس اعتبار سے وقت کی بہتر تنظیم ہو سکتی ہے۔ رمضان المبارک میں تکبیر اولیٰ کا اہتمام کرنا چاہیے، نوافل کی کثرت کرنی چاہیے، تلاوت کا معمول بڑھانا چاہیے۔ خاص رمضان میں قرآن مجید کا کچھ حصہ حفظ کرنے اور کچھ حصہ یا پورے قرآن کی تفسیر کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ اس کی کوشش کریں کہ اچھی عادتیں ڈالی جائیں اور بری عادتوں سے پرہیز کیا جائے۔ اس کے لیے کسی ایک عادت سے شروع کریں، چاہے ایک ماہِ رمضان میں ایک ہی اچھی عادت پڑے، لیکن اس کو شعور و فہم کے ساتھ کرنا چاہیے۔ اگر ایسا ہو سکا تو یقیناً یہ ایک عظیم کامیابی ہوگی۔ رمضان میں دوسروں کی مدد کرنا، غریبوں کی مالی مدد کرنا، رشتہ داروں سے حسن سلوک میں اضافہ کرنا، اپنے محلے اور شہر میں خاص طور پر اہتمام کرنا کہ کوئی شخص اس ماہ مبارک کی برکتوں اور عید کی خوشیوں سے محروم نہ رہے۔ تاہم وقت کی تنظیم کے حوالے سے چند مشورے یہ ہیں…
تکبیر اولیٰ کا اہتمام:
دفتری کام کرنے والوں میں خاص طور پر یہ عادت سی پیدا ہو گئی ہے کہ جب ٹھیک جماعت کھڑی ہونے کا وقت ہوتا ہے تب مسجد جاتے ہیں اور نماز مکمل ہوتے ہی مسجد سے باہر آ جاتے ہیں۔ رمضان المبارک میں اس کی تربیت کریں کہ جب مسجد سے اذان کی آواز آ جائے تب سوائے مسجد کی طرف رخ کرنے کے بقیہ کام چھوڑ دیں۔ اس طرح اطمینان سے سنت و نوافل بھی ادا ہوں گے اور تکبیر اولیٰ بھی مل جائے گی جس کی بڑی فضیلت ہے۔ اس کے ساتھ ایک کام یہ بھی کریں کہ پانچ نمازوں میں سے کسی ایک نماز میں سنت و نوافل سے فارغ ہونے کے بعد کچھ دیر مسجد میں بیٹھے رہیں، چاہے ذکر میں مشغول رہیں یا خالی بیٹھے رہیں۔ اس سے مسجد میں رہنے کی عادت پڑے گی۔ خیال رہے کہ روئے زمین پر مساجد سے زیادہ مقدس کوئی جگہ نہیں۔ یہاں اللہ کے پاک فرشتے رہتے ہیں، یہ دربارِ الٰہی ہے، یہاں اس کی رحمتیں برستی ہیں۔ آج اس کے دربار میں بیٹھیں گے تو کل کو اس کے بڑے دربار میں بیٹھنا آسان ہو جائے گا۔
نوافل میں اضافہ:
رمضان المبارک میں اللہ رب العزت نے اجر و ثواب میں اضافہ کیا ہے۔ اس کی اس عظیم نعمت کا شکرانہ یہ بھی ہے کہ اس کی عبادت میں اضافہ کر دیں۔ اس لیے رمضان المبارک میں نوافل میں اضافہ کرنا چاہیے، چاہے کم ہی ہو، لیکن یہ محسوس ہونا چاہیے کہ اضافہ کیا ہے۔
تلاوت کا خصوصی اہتمام:
رمضان المبارک کو قرآن مجید سے خصوصی نسبت ہے۔ اس لیے قرآن مجید اس ماہ مبارک میں نازل ہوا تو رمضان میں قرآن سے لگاؤ میں بھی اضافہ ہونا چاہیے۔ اگر عام دنوں میں ہم ایک پارہ پڑھتے ہیں تو رمضان میں اس کو دو پارہ کر دینا چاہیے۔ اسی طرح رمضان المبارک میں کچھ سورتوں یا آیتوں کے حفظ کرنے کا بھی معمول بنائیں۔ اس طرح کچھ آیات اور سورتوں کا ترجمہ و تفسیر پڑھیں اور اس نیت کے ساتھ پڑھیں کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کا جو حکم آیا ہے، اس کو اب زندگی بھر عمل کرتا رہوں گا۔ قرآن مجید میں احکام زیادہ نہیں ہیں۔ قرآن مجید ایک طرح سے انسانی ذہن کی تربیت کرتا ہے۔ قرآن مجید میں جن باتوں کا زیادہ ذکر ہے، ان میں توحید پر یقین رکھنا، آخرت کی جوابدہی کو یاد رکھنا، فرشتوں اور انبیا پر ایمان لانا، اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنا، اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا، ہر طرح کی پریشانی اور مصیبت میں اس سے ہی مدد مانگنا وغیرہ شامل ہیں۔ ان خوبیوں کی تربیت کے واقعات ہیں، مثالیں ہیں اور غور و فکر کی دعوت ہے۔ ان میں سے کوئی نعمت منتخب کر لیں اور اس کو معمول بنا لیں۔ مثلاً اللہ کا شکر ادا کرنا بڑی خوبی ہے۔ اس کا اہتمام کریں کہ ہر نماز کے بعد اس کی کسی ایک نعمت پر اس کا شکر ادا کریں گے۔ یقین جانیے کہ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت پر ہر دن شکر ادا کرنے کو معمول بنا لے اور غور و فکر کرتا رہے تو وہ ہر دن کسی نئی نعمت پر شکر ادا کرے گا۔ پچھلی نعمت کی باری نہیں آئے گی، اس لیے کہ اس کی نعمتیں بے حد و حساب ہیں۔ خود اس کا فرمان ہے کہ اگر اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو نہیں گن سکتے۔
تہجد کا اہتمام:
رمضان المبارک کے مہینے میں تہجد کا بھی خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ یہ بڑی قیمتی گھڑیاں ہوتی ہیں، لیکن ان کو ہم لوگ نیند کی غفلت میں گزار دیتے ہیں۔ رمضان المبارک میں سحری کی برکت سے اس وقت لوگ بیدار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے دس پندرہ منٹ اس کام کے لیے خاص رکھیں اور سحری سے قبل یا بعد چند رکعتیں ضرور ادا کریں اور اپنے لیے، سارے انسانوں کے لیے اور اپنے اعزا و اقارب کے لیے خصوصی دعا کا اہتمام کریں۔
رمضان المبارک کے ان مبارک ایام میں اگر وقت کی قدر کر لی تو ان شاء اللہ بڑا نفع ہوگا، ورنہ وقت تو گزر ہی جاتا ہے۔ وقت کی رفتار سب سے تیز ہے۔ وقت کی رفتار کو ناپنے کے لیے جتنے پیمانے بنے ہیں، اس کا نام گھنٹہ ہے، منٹ ہے، سیکنڈ ہے، اس سے بھی چھوٹا ہے، اور اس سے بھی چھوٹا ہے۔ یعنی اس کی رفتار کو نام تو دے سکتے ہیں، لیکن نہ اس کی مقدار کا تعین ہو سکتا ہے اور نہ اس کی رفتار کو روکا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ماہ مبارک کے طفیل عبادات کا اہتمام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری زندگیوں کو تبدیل کر دے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔