
گجرات ہائی کورٹ / تصویر: آئی اے این ایس
نئی دہلی: گجرات ہائی کورٹ نے احمد آباد بم دھماکہ مقدمہ میں نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے 38 ملزمین کی پھانسی اور 11 ملزمین کی عمر قید کی سزا کی توثیق کر دی۔ دو رکنی بنچ، جس میں جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس سمیر دوے شامل تھے، نے تقریباً ایک سال تک روزانہ کی بنیاد پر اپیلوں کی سماعت کے بعد محفوظ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے سزا یافتہ ملزمین کی جانب سے دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے سیشن عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا۔
Published: undefined
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی قانونی امداد کمیٹی نے جمعیۃ علماء احمد آباد کے تعاون سے مجموعی طور پر 39 ملزمین کو قانونی امداد فراہم کی۔ یہ تمام ملزمین 2008 سے جیل میں بند ہیں اور ان کی گرفتاریاں مختلف ریاستوں، جن میں اتر پردیش، راجستھان، کیرالہ، کرناٹک، مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش شامل ہیں، سے عمل میں آئی تھیں۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ’ناقابل یقین اور مایوس کن‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی اور سزا یافتہ افراد کے دفاع کے لیے ملک کے ممتاز فوجداری وکلا کی خدمات حاصل کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوری ترجیح سپریم کورٹ سے پھانسی کی سزاؤں پر حکم امتناعی حاصل کرنا ہے، جس کے لیے وکلا کو ضروری تیاری کی ہدایت دے دی گئی ہے۔
Published: undefined
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ماضی میں بھی کئی ایسے مقدمات سامنے آئے جن میں نچلی عدالتوں اور ہائی کورٹ کے فیصلے سپریم کورٹ میں تبدیل ہوئے۔ انہوں نے اکشردھام مندر حملہ مقدمہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں بھی ابتدائی عدالتوں نے سخت سزائیں سنائی تھیں، لیکن بعد میں سپریم کورٹ نے تمام ملزمین کو بری کر دیا تھا۔ ان کے مطابق اسی طرح دیگر مقدمات میں بھی جمعیۃ علماء ہند کی قانونی پیروی کے نتیجے میں پھانسی کی سزائیں منسوخ یا تبدیل ہوئیں۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے بھی فیصلے کو چونکا دینے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ملزمین کے اہل خانہ اور وکلا کی مشترکہ نشست جلد منعقد کی جائے گی تاکہ آئندہ قانونی حکمت عملی طے کی جا سکے۔
Published: undefined
استغاثہ کے مطابق مقدمہ کے ملزمین پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر دھماکہ خیز مواد جمع کیا، سلسلہ وار بم دھماکوں کی منصوبہ بندی اور کارروائی میں حصہ لیا، جس کے نتیجے میں 56 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ ان پر ممنوعہ تنظیم انڈین مجاہدین اور سیمی سے وابستگی اور 2002 کے گودھرا فسادات کا بدلہ لینے کی نیت سے کارروائی کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔
یہ مقدمہ ہندوستانی عدالتی تاریخ کے منفرد مقدمات میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ 35 الگ الگ مقدمات کو یکجا کر کے ایک ہی عدالت میں سماعت کی گئی۔ اس مقدمے کی سماعت تقریباً 13 برس تک جاری رہی، جس دوران 1163 سرکاری اور 8 دفاعی گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے، جبکہ ایک ملزم وعدہ معاف گواہ بننے کے بعد مقدمے سے بری کر دیا گیا۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined