قومی خبریں

گیا: تیز بارش نے بھوتہی ندی پر بنی پُلیا کو چوتھی بار بہا دیا، 12 گاؤں کا رابطہ منقطع، عوام پریشان

پُلیا ٹوٹنے سے جرواتری، ملاح ٹولہ، باگھا ڈاور اور کلامی سمیت کئی گاؤں کے لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔ یہ راستہ دیہی عوام کے لیے بازار، اسکول، کھیت اور دیگر ضروری کاموں تک پہنچنے کا اہم وسیلہ ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

 

بہار کے گیا ضلع واقع جھارکھنڈ سرحد سے ملحق علاقہ میں کئی دنوں سے ہو رہی تیز بارش نے دیہی عوام کی مشکلات کو بہت بڑھا دیا ہے۔ ڈمریا بلاک کی منجھولی پنچایت واقع جیواتری گاؤں میں بھوتہی ندی پر بنی عارضی پُلیا ایک بار پھر تیز پانی کے بہاؤ میں ٹوٹ گئی ہے۔ دیہی عوام کے مطابق ایک سال کے اندر یہ پُلیا چوتھی مرتبہ بارش کے پانی میں بہہ گئی۔ پُلیا ٹوٹنے سے تقریباً 12 گاؤں کے لوگوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔

جھارکھنڈ کی سرحد سے ملحق گیا کے اس علاقہ میں گزشتہ دنوں ہوئی شدید بارش کے بعد بھوتہی ندی کی آبی سطح اچانک بڑھ گئی ہے۔ ندی میں تیز بہاؤ کے سبب ہیوم پائپ ڈال کر بنائی گئی عارضی پُلیا پر پانی کا دباؤ بڑھ گیا اور وہ ٹوٹ گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ دن قبل ہی پُلیا پر ہیوم پائپ ڈال کر آمد و رفت کی بحالی ہوئی تھی۔ لوگ امید کر رہے تھے کہ برسات کے دوران انھیں راحت ملے گی، لیکن تیز بارش نے ایک بار پھر خستہ حال نظام کی قلعی کھول دی۔

پُلیا ٹوٹنے سے نظام ڈیہہ، جرواتری، ملاح ٹولہ، باگھا ڈاور اور کلامی سمیت تقریباً 12 گاؤں کے لوگوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ یہ راستہ دیہی عوام کے لیے بازار، اسکول، کھیت اور دیگر ضروری کاموں تک پہنچنے کا اہم وسیلہ ہے۔ پُلیا ٹوٹنے کے بعد دیہی عوام کے سامنے ندی پار کرنا مشکل ہے۔ تیز بہاؤ کے درمیان لوگوں کو پانی میں اتر کر مجبوری میں آمد و رفت کرنی پڑ رہی ہے، جس سے حادثہ کا خطرہ بھی بنا ہوا ہے۔

پُلیا ٹوٹنے کے سبب سب سے زیادہ متاثر اسکولی بچے ہو رہے ہیں، کیونکہ ان کی تعلیم کا نقصان ہو رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی بچوں کو پڑھائی کے لیے ندی پار کر کے اسکول جانا پڑ رہا ہے۔ بارش اور ندی کے تیز بہاؤ کے درمیان بچوں کا اس طرح ندی پار کرنا انتہائی خطرناک ہے۔ کسانوں کو بھی اپنے کھیتوں تک پہنچنے میں پریشانی ہو رہی ہے۔ روزمرہ کے سامان اور ضروری کاموں کے لیے بازار جانے والے لوگ بھی پُلیا ٹوٹنے سے پریشان ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر سال بارش کے موسم میں یہی مسئلہ سامنے آتا ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے عارضی طور پر ہیوم پائپ ڈال کر پُلیا بنا دی جاتی ہے، لیکن تیز بارش میں اس کی حالت پھر خستہ ہو جاتی ہے۔ دیہی عوام نے انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ سے عارضی پُل کی تعمیر کرانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ہر برسات میں انھیں یہ پریشانی نہ برداشت کرنی پڑے، لیکن ہنوز یہ مطالبہ پورا نہیں ہوا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔