نیپال بحران: مردہ خانوں میں نہیں بچی جگہ، لاشوں کی شناخت بھی مشکل، اب تک 547 لاشیں برآمد، 93 ہزار افراد مدد کے منتظر
نواکوٹ، دھادینگ اور نول پراسی کے مردہ خانوں میں جگہ کم پڑنے کے باعث کچھ لاشوں کو پڑوسی اضلاع میں بھیجا گیا ہے۔ چتوان میں بھی برآمد کی گئی لاشوں کی تعداد اسپتال کی گنجائش سے زیادہ ہو گئی ہے۔
نیپال میں سیلاب کے بعد صورت حال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ اب تک 547 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ حالانکہ غیر مصدقہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی ہے۔ تشویش ناک حالات کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلسل ملبوں سے لاشیں نکلنے کے سبب نیپال کے مردہ خانوں میں جگہ نہیں بچی ہے۔ نئی برآمد لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے الگ سے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں لوگوں کو اہل خانہ کی لاشوں کی شناخت کرنے میں بھی دشواری پیش آ رہی ہے۔ بھوٹے کوشی سیلاب میں بہہ جانے والے لوگوں کی لاشیں دریا کے بہاؤ کی سمت کافی دور مل رہی ہیں، جس سے حکام کے سامنے انہیں رکھنے اور ان کی شناخت کرنے کا چیلنج بڑھ گیا ہے۔ رسوا اور نواکوٹ سے بہہ کر آنے والی لاشیں نواکوٹ کے ساتھ ساتھ چتوان، تنہوں، نول پراسی اور دیگر علاقوں میں بھی ملی ہیں۔
نواکوٹ، دھادینگ اور نول پراسی کے مردہ خانوں میں جگہ کم پڑنے کے باعث کچھ لاشوں کو پڑوسی اضلاع میں بھیجا گیا ہے۔ چتوان میں بھی برآمد کی گئی لاشوں کی تعداد اسپتال کی گنجائش سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ان حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکام ایک عارضی سہولت مرکز بنا رہے ہیں۔ پوکھرا کے اسپتالوں نے بھی بتایا ہے کہ کئی اضلاع سے لاشیں آنے کے بعد ان کے مردہ خانے بھر رہے ہیں۔ چتوان میں برآمد کی گئی لاشوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سنبھالنے میں اسپتالوں کو ہو رہی پریشانی کے بعد حکام بھرت پور میں لاشیں رکھنے کے لیے ایک عارضی مرکز تیار کر رہے ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ بھرت پور میٹروپولیٹن سٹی-10 میں ودیوت روڈ پر واقع ’انڈسٹریل انٹرپرائز ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ‘ کی ایک خالی پڑی عمارت کو لاشیں رکھنے کے مقصد سے عارضی سہولت مرکز میں تبدیل کیا جائے گا۔ جمعرات کو چتوان کے چیف ڈسٹرکٹ افسر گنیش آریال کی صدارت میں ہوئی میٹنگ میں اس مرکز کو شروع کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ جمعرات کی صبح 9:30 بجے تک تریشولی اور نارائنی ندیوں کے چتوان والے حصے میں فشلنگ سے لے کر گولا گھاٹ تک 137 لاشیں برآمد کی جا چکی تھیں۔ لاشوں کی برآمدگی جمعہ کے روز بھی جاری ہے۔ آریال نے بتایا کہ چتوان کے اسپتالوں کے مردہ خانوں میں ایک ساتھ 30 سے 50 لاشیں رکھی جا سکتی ہیں۔ موجودہ گنجائش پر پہلے ہی دباؤ ہونے کے باعث امید ہے کہ عارضی مرکز میں تقریباً 250 لاشیں رکھنے کی جگہ مل جائے گی۔ اگر یہ گنجائش بھی کم پڑ جاتی ہے تو حکام نے اضافی متبادل کے طور پر دیوگھاٹ میں واقع برقی شمشان گھاٹ کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھرت پور میٹروپولیٹن سٹی اس عارضی سہولت مرکز کی مرمت کرے گا اور اسے ضروری سہولتوں سے لیس کرے گا۔ حکام کا منصوبہ کمروں کے اندر درجۂ حرارت کو کنٹرول کرنے، ایئر کنڈیشنر لگانے اور لاشوں کے گلنے سڑنے کے عمل کو سست کرنے کے لیے خشک برف کا استعمال کرنے کا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ چتوان ایسوسی ایشن آف انڈسٹریز، چتوان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور رتن نگر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری خشک برف کا انتظام کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ لاپتہ افراد کی تلاش میں خاندان چتوان پہنچ رہے ہیں۔ جیسے جیسے لاشیں مل رہی ہیں، سیلاب کے بعد سے لاپتہ افراد کے رشتہ دار رسوا، نواکوٹ، گورکھا اور دیگر اضلاع سے چتوان پہنچنے لگے ہیں۔ جمعرات کو جب ملازمین عارضی مرکز تیار کر رہے تھے، تب رشتہ دار لاپتہ اہل خانہ کے افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے وہاں پہنچ رہے تھے۔ یمن بانو چلچلاتی گرمی میں ایک خیمے کے سائے میں بیٹھی اپنی 2 دادی یا نانی کی خبر کا انتظار کر رہی تھیں، جو نواکوٹ کے تریشولی بازار میں رہتی تھیں اور سیلاب کے بعد سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو پایا تھا۔
اس درمیان ایک فکر انگیز خبر یہ سامنے آ رہی ہے کہ تقریباً 93 ہزار افراد نیپال میں مدد کے منتظر ہیں۔ جمعہ کے روز ’ریڈ کراس‘ کے ایک افسر کے مطابق کم از کم 93 ہزار لوگ ایسے ہیں جو نیپال میں سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور انھیں فوری مدد کی ضرورت ہے۔ ’ریڈ کراس‘ نے دوسری بار سیلاب آنے کے خطرہ کو دیکھتے ہوئے انتہائی تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ ایک افسر نے کہا کہ ممکنہ دوسرے سیلاب کو لے کر بے حد محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
