نیپال میں منڈلایا 5 گناہ بڑا خطرہ، دھنڈے بازار کو فوراً خالی کرنے کا الرٹ جاری، آئندہ 90 منٹ بہت اہم
مقامی ضلع افسر کے مطابق انہیں اطلاع ملی ہے کہ گیرونگ بارڈر پورٹ کے اوپری حصے میں گلیشیئرز پگھلنے سے بنی جھیل نے اپنا کنارہ پار کر لیا ہے اور دریا کی سطح آب تیزی سے بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
نیپال میں 26 اگست کو آئے سیلاب کی تباہی سے لوگ ابھی سنبھل بھی نہیں پائے ہیں کہ نواکوٹ ضلع میں ایک بار پھر بڑے سیلاب کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ مشکل حالات کو دیکھتے ہوئے دھنڈے بازار اور آس پاس کے علاقوں میں پولیس نے لوگوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر جانے کی وارننگ دی ہے۔ حکام کے مطابق اوپری علاقوں سے پانی آنے کے بعد اگلے 20 سے 25 منٹ میں سیلاب کا پانی علاقے تک پہنچ سکتا ہے۔ حالانکہ ابھی اوپری علاقوں میں پانی نہیں پہنچا ہے، لیکن آئندہ 90 منٹ بہت اہم بتائے جا رہے ہیں۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ کی گراؤنڈ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھنڈے بازار میں پولیس اور انتظامیہ کی ٹیم لوگوں کو دریا کے کنارے سے ہٹاتی دیکھی گئی ہے۔ اس علاقہ میں اعلان کر کے لوگوں سے گھر اور دکانیں خالی کرنے اور محفوظ مقامات پر جانے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ پولیس نے لوگوں کو واضح طور پر خبردار کیا کہ خطرہ بڑھ رہا ہے اور کسی بھی طرح کی لاپروائی بھاری پڑ سکتی ہے۔
مقامی حکام نے بتایا کہ دریا کے کنارے موجود لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ پولیس مسلسل علاقے میں گشت کر کے لوگوں کو خبردار کر رہی ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ اوپری علاقوں میں پانی چھوڑے جانے یا کسی قدرتی واقعہ کی وجہ سے دریا کا بہاؤ اچانک بڑھ سکتا ہے۔ مقامی سطح پر حکام نے اس ممکنہ سیلاب کو پہلے کے مقابلے کئی گنا زیادہ سنگین قرار دیا ہے۔ کچھ ماہرین نے کہہ رہے ہیں کہ گزشتہ سیلاب سے آئی تباہی سے 5 گنا بڑا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متاثرہ علاقوں میں احتیاط کے طور پر فوری انخلا شروع کر دیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ نواکوٹ ان علاقوں میں شامل ہے، جو حالیہ بھوٹے کوشی-تریشولی سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ کئی سڑکیں اور پل پہلے ہی تباہ ہو چکے ہیں اور راحت و بچاؤ کا کام جاری ہے۔ ایسے میں دوبارہ شدید سیلاب آنے کے خدشے نے انتظامیہ کی تشویش بڑھا دی ہے۔ فی الحال پولیس اور مقامی انتظامیہ لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے میں مصروف ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور دریا کی سطح آب میں کسی بھی تبدیلی کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
نیپال میں سیلاب کے درمیان سرکاری چینی میڈیا ’سی سی ٹی وی‘ نے بتایا ہے کہ گیرونگ بارڈر پورٹ کے اوپری حصے میں گلیشیئرز پگھلنے سے بنی جھیل اب اوور فلو ہونے لگی ہے۔ مقامی ضلع افسر کے مطابق انہیں اطلاع ملی ہے کہ جھیل نے اپنا کنارہ پار کر لیا ہے اور دریا کی سطح آب بھی تیزی سے بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ اسی وجہ سے نیپالی فوج نے احتیاطی طور پر اگلے تقریباً 90 منٹ کے لیے ریسکیو آپریشن روک دیا ہے۔ یعنی جس جھیل میں پانی جمع ہونے اور اس کے ممکنہ طور پر پھٹنے سے متعلق پہلے ہی خطرہ بتایا جا رہا تھا، اب اسی جھیل سے پانی نیچے کی طرف نکلنا شروع ہو گیا ہے۔ اس سے نشیبی علاقوں میں اچانک پانی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور راحت و بچاؤ کی ٹیموں کو فی الحال انتہائی احتیاط برتنی پڑ رہی ہے۔
چین کی جانب سے کیے گئے سروے میں پتہ چلا ہے کہ جھیل میں اب تقریباً 25 لاکھ مکعب میٹر سے زیادہ پانی جمع ہو چکا ہے۔ ایک دن پہلے چینی انجینئرنگ ٹیم نے اس میں تقریباً 15 سے 20 لاکھ مکعب میٹر پانی ہونے کا اندازہ لگایا تھا۔ یعنی تھوڑے ہی وقت میں سطح آب اور پانی کی مقدار میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ چین نے پہلے اندازہ لگایا تھا کہ اگلے 3 دنوں میں تقریباً 30 لاکھ مکعب میٹر اضافی پانی اس جھیل میں پہنچ سکتا ہے۔ یہ تقریباً 1,200 اولمپک سائز کے سوئمنگ پول کے برابر پانی ہے۔ حکام نے اسی وجہ سے جھیل کے ٹوٹنے یا اس کے کنارے سے بڑے پیمانے پر پانی نکلنے کے حوالے سے سنگین انتباہ جاری کیا تھا۔ خطرہ بڑھنے کے بعد چین نے اپنے بچاؤ کارکنوں اور گاڑیوں کو بھی متاثرہ علاقے سے ہٹا کر محفوظ مقام پر بھیج دیا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق ممکنہ طور پر جھیل کے ٹوٹنے کے ساتھ پہاڑوں کے کھسکنے اور برفانی تودے گرنے جیسی دیگر آفات کا خطرہ بھی ہے۔
اس درمیان نیپال کے تریشولی علاقے میں دریا کی سطح آب بڑھنے کے بعد پولیس نے لوگوں کو الرٹ کرتے ہوئے محفوظ مقامات پر جانے کے لیے کہا ہے۔ نیپال پولیس کے افسر پی. چودھری نے بتایا کہ پانی کی سطح مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، اس لیے علاقے میں جاری تمام کام روک دیے گئے ہیں۔ ریسکیو آپریشن میں لگی گاڑیوں کو بھی واپس بلایا جا رہا ہے اور لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ’’ابھی مزید بھیانک سیلاب آنا باقی ہے۔‘‘ اس خدشہ کو دیکھتے ہوئے ہی کسی بھی خطرے سے بچنے کے لیے پورے علاقے میں چوکسی بڑھا دی گئی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
