نیپال سیلاب: ملبہ سے مستقل نکل رہی لاشیں، ہلاکتوں کی تعداد 469 پہنچی، 30 ممالک کے لاپتہ لوگوں کی تلاش جاری

نیپال پولیس کے مطابق اب تک تقریباً 1600 لوگوں کو ہیلی کاپٹر اور زمینی راستے سے محفوظ نکالا جا چکا ہے، لیکن اب بھی سینکڑوں لوگوں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>نیپال میں سیلاب کی تباہی کا منظر، تصویر یو این آئی</p></div>
i

نیپال اور تبت کی سرحد پر خوفناک سیلاب کی تباہی کو 3 دن گزر چکے ہیں، لیکن ملبے سے اب بھی لاشیں ملنے کا سلسلہ تھم نہیں رہا ہے۔ ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور تازہ ترین اطلاع کے مطابق اب تک 469 لاشیں برآمد ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس حادثہ میں تقریباً 30 ممالک کے شہری لاپتہ بتائے جا رہے ہیں، جن میں ہندوستان، امریکہ، چین، برطانیہ، آسٹریلیا، کناڈا، یوکرین سمیت کئی دیگر ممالک کے سیاح اور مزدور شامل ہیں۔ نیپال پولیس کے مطابق اب تک تقریباً 1600 لوگوں کو ہیلی کاپٹر اور زمینی راستے سے محفوظ نکالا جا چکا ہے، لیکن اب بھی سینکڑوں لوگوں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

نیپال پولیس کے مطابق اب تک 796 لوگوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعہ اور 796 لوگوں کو زمینی راستہ سے محفوظ نکالا جا چکا ہے۔ چتوان ضلع سے سب سے زیادہ 137 لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جبکہ رسوا، نواکوٹ، دھادینگ، گورکھا، تنہو اور نول پرسی اضلاع سے بھی بڑی تعداد میں لاشیں ملی ہیں۔ سیلاب نے 35 پل، 45 جھولا پل اور تقریباً 40 کلومیٹر سڑکیں تباہ کر دی ہیں۔ تریشولی اور دیوی گھاٹ جیسے پن بجلی منصوبوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔


تباہی کے بعد ایک نئی تشویش بھی سامنے آئی ہے۔ بھوٹے کوشی ندی کے بالائی حصے میں چوچین کھولا اور پوریپو تسانگپو ندیوں کے سنگم پر ملبہ جمع ہونے سے ایک نئی جھیل بن گئی ہے۔ چینی حکام کے مطابق جمعرات کی صبح تک اس جھیل میں تقریباً 20 لاکھ مکعب میٹر پانی جمع ہو چکا تھا، اور اگلے 3 دنوں میں 30 لاکھ مکعب میٹر مزید پانی اس میں آ سکتا ہے۔ اگر یہ قدرتی بند ٹوٹتا ہے تو نشیبی علاقوں میں ایک اور بڑا سیلاب آ سکتا ہے۔ نیپال کے محکمہ آب پاشی نے لوگوں سے ندی کے کناروں سے دور رہنے اور محفوظ مقامات پر رہنے کی اپیل کی ہے۔

اس درمیان نیپال کے وزیر اعظم بالین شاہ جمعرات کو نواکوٹ ضلع کی بدور میونسپلٹی پہنچے اور حالات کا جائزہ لیا۔ چین کے وزیر اعظم لی چیانگ نے بھی تبت کے گییرونگ علاقے کا دورہ کیا، جہاں چینی فوج کی ایک خصوصی ٹیم راحتی کام میں مصروف ہے۔ ان مشکل حالات کو دیکھتے ہوئے ہندوستان نے نیپال کی مدد کے لیے اب تک 47.5 ٹن راحتی سامان بھیجا ہے، جس میں دوائیں اور کھانے کے پیکٹ بھی شامل ہیں۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کاٹھمنڈو اور بیجنگ میں ہندوستانی سفارت خانوں کے ساتھ ایک میٹنگ کر کے حالات کا جائزہ لیا۔ اب تک 84 ہندوستانی شہریوں کو محفوظ نکالا جا چکا ہے، جن میں تریشولی-1 پن بجلی منصوبے کے 63 مزدور اور تمل ناڈو کے 21 لوگ شامل ہیں۔


قابل ذکر ہے کہ بدھ کو نیپال-چین سرحد کے قریب لانگ تانگ لرونگ پہاڑ کے نزدیک ایک گلیشیئر کا بڑا حصہ اچانک ٹوٹ گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی پہاڑ کی چٹانیں بھی کھسک گئیں اور بڑی مقدار میں برف، پتھر اور ملبہ نیچے وادی کی طرف بہہ نکلا۔ یہ ملبہ پہلے لھینڈے ندی میں گرا، جس سے ندی کا بہاؤ کچھ دیر کے لیے رک گیا۔ لیکن جیسے ہی یہ عارضی رکاوٹ ٹوٹی، پانی اور ملبے کا ایک بڑا سیلاب بھوٹے کوشی اور تریشولی ندی نظام سے ہوتا ہوا وسطی نیپال کے کئی علاقوں میں تباہی مچانے لگا۔

امریکی جیولوجیکل سروے ایجنسی (یو ایس جی ایس) نے اس کی تحقیقات کے بعد بتایا کہ ابتدا میں جسے 4.4 شدت (جسے کچھ رپورٹس میں 5.2 شدت بھی بتایا گیا ہے) کا زلزلہ سمجھا گیا تھا، دراصل وہ گلیشیئر کے ٹوٹنے اور ملبے کے بہاؤ سے پیدا ہونے والی حرکت تھی، نہ کہ زلزلہ۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف گلیشیئر نہیں بلکہ پہاڑ کے نیچے موجود چٹان کا بھی ایک حصہ تھا جو ٹوٹ کر گر گیا، جس کی وجہ سے تباہی اتنی بڑی ہوئی۔


کناڈا کی کیلگری یونیورسٹی کے ماہر ارضیات ڈین شوگر نے بتایا کہ جب انہوں نے سیٹلائٹ تصاویر دیکھیں تو واضح ہو گیا کہ یہ پہاڑ کی چٹان کا ایک بڑا حصہ تھا، جس نے گلیشیئر کے ساتھ مل کر وادی کو تباہ کر دیا۔ سائنس دانوں نے یہ بھی کہا کہ اس واقعہ کو براہ راست موسمیاتی تبدیلی سے جوڑنا ابھی جلد بازی ہوگی، لیکن گرم ہوتے موسم کی وجہ سے پہاڑوں کی پرما فراسٹ تہہ کمزور ہو رہی ہے، جس سے آنے والے وقت میں ایسے واقعات مزید ہو سکتے ہیں۔

بہرحال، نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق 26 اگست کو پیش آئے اس واقعہ کے بعد صرف نیپال میں 910 لوگ لاپتہ ہیں۔ ان میں 113 نیپالی سیاح، فوج اور پولیس کے 85 جوان اور رسوا ضلع کے 161 مقامی باشندے شامل ہیں۔ تبت کی جانب چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق 558 لوگ لاپتہ ہیں، جن میں 260 غیر ملکی شہری بتائے جا رہے ہیں۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ کے مطابق 288 ہندوستانی شہریوں سے بھی ابھی تک رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔ ان میں سے 73 لوگ ایک پن بجلی منصوبے میں کام کر رہے تھے، جبکہ باقی کئی لوگ کیلاش مانسروور یاترا پر گئے ہوئے تھے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اس کے 90 شہریوں کا کوئی سراغ نہ ملنے کی اطلاع دی ہے، تاہم اب تک کسی امریکی کی موت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور 3 لوگوں کو بچا لیا گیا ہے۔ ملیشیا کے 51، یوکرین کے 55، آسٹریلیا کے 39 اور برطانیہ کے 33 شہری بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کناڈا کے 25، جنوبی کوریا کے 9، سنگاپور اور جرمنی کے 8-8، روس کے 8، جنوبی افریقہ اور لاتویہ کے 6-6، جاپان اور نیوزی لینڈ کے 5-5، فرانس کے 4، بلجیم اور اسپین کے 3-3 شہری بھی لاپتہ ہیں۔ اٹلی، قزاقستان، پرتگال، آئرلینڈ اور نیدرلینڈز کے 2-2 شہری بھی لاپتہ لوگوں کی فہرست میں ہیں، جبکہ بیلاروس، فن لینڈ، ہنگری، اسرائیل، لتھوانیا، فلپائن، بلغاریہ، سوئٹزرلینڈ، سربیا اور سویڈن کے ایک ایک شہری لاپتہ بتائے گئے ہیں۔