دِشا سالیان کیس: بامبے ہائی کورٹ میں سماعت مکمل، ایف آئی آر کے مطالبہ پر فیصلہ محفوظ
دشا سالیان کی موت کے معاملے میں بامبے ہائی کورٹ نے ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست پر سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ عدالت نے انکوئسٹ پنچ نامہ اور موت سے متعلق شواہد پر سوالات اٹھائے

ممبئی: دشا سالیان کی موت کے معاملے میں بامبے ہائی کورٹ نے جمعہ کو سماعت مکمل کر لی اور ان کے والد ستیش سالیان کی جانب سے دائر اس درخواست پر فیصلہ محفوظ رکھا ہے، جس میں بیٹی کے ساتھ مبینہ عصمت دری اور قتل کا الزام عائد کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے دشا سالیان کے انکوئسٹ پنچنامہ سے متعلق متعدد سوالات اٹھائے۔ عدالت نے خاص طور پر اس بات پر سوال کیا کہ اسپتال کے پنچنامہ میں دشا کے جسم پر کپڑے نہ ہونے کا ذکر ہے تو پھر ان کے کپڑے کس نے اتارے تھے اور متعلقہ ڈاکٹر کا بیان کیوں ریکارڈ نہیں کیا گیا؟
سرکاری وکیل نے وضاحت کی کہ کپڑے نہ ہونے سے متعلق پنچ نامہ جائے وقوعہ کا نہیں بلکہ اسپتال کا ہے۔ انہوں نے عدالت میں دشا کی موت کے بعد اسپتال میں لی گئی تصاویر بھی پیش کیں، جن میں ایک تصویر میں ان کے جسم پر کپڑے ہونے کی بات سامنے آئی۔ ججوں نے تصاویر سے متعلق بھی سرکاری وکیل سے سوالات کیے۔
عدالت نے یہ بھی سوال کیا کہ اگر دشا اتنی اونچائی سے گری تھیں تو صرف منہ سے خون آنے اور چہرے پر نسبتاً کم چوٹیں نظر آنے کی کیا وجہ ہے۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ دشا منہ کے بل گری تھیں، جس کے نتیجے میں کھوپڑی میں فریکچر اور جبڑے میں شدید چوٹ آئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ دانتوں کے فریکچر کی اطلاع بھی موجود ہے اور ہر شخص کے بلندی سے گرنے کی صورت میں چوٹوں کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ وہ اس مرحلے پر کسی نتیجے پر نہیں پہنچ رہی، بلکہ یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ معاملے میں واقعی کوئی ایسی بات ہے جو شک پیدا کرتی ہو۔ سماعت کے دوران 15 جنوری 2024 کو دشا کے والد کی جانب سے دیے گئے بیان کا بھی حوالہ دیا گیا۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ اس بیان میں ستیش سالیان نے کہا تھا کہ ان کی بیٹی کی ایک ڈیل منسوخ ہو گئی تھی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے مالی نقصان کی وجہ سے انہیں لگتا ہے کہ اس نے خودکشی کی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ستیش سالیان کے بیانات اب تک 5 مرتبہ ریکارڈ کیے جاچکے ہیں اور ایک دوسرے معاملے میں بھی انہوں نے دشا کی موت پر کسی شبہ کا اظہار نہیں کیا تھا۔ سرکاری وکیل نے مزید کہا کہ میڈیکل رپورٹ میں جنسی حملے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا اور ڈاکٹروں کی جانچ میں بھی ایسا کچھ نہیں ملا۔ ان کے مطابق مختلف الزامات اور جوابی الزامات کی وجہ سے معاملے کی جانچ طویل عرصے تک جاری رہی۔
سرکاری وکیل نے بتایا کہ دشا سالیان روہت رائے کے ساتھ رہتی تھیں اور ان کا بیان بھی اہم ہے۔ ان کے مطابق روہت رائے نے دشا کو شدید ڈپریشن میں بتایا تھا اور کہا تھا کہ اسی وجہ سے انہوں نے خودکشی کی۔ سرکاری وکیل نے یہ بھی کہا کہ روہت رائے کے بیان میں دشا کے والد کے کردار سے متعلق بعض باتوں کا ذکر ہے، جنہیں ڈپریشن کی ایک وجہ بتایا گیا۔
حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اخبارات میں اشتہارات دے کر لوگوں سے اپیل کی گئی تھی کہ اگر کسی کے پاس کوئی شکایت یا معلومات ہوں تو وہ سامنے آئیں، لیکن کوئی شخص ایسی شکایت لے کر سامنے نہیں آیا۔ اس کے بعد آدتیہ ٹھاکرے کی جانب سے سینئر وکیل سدیپ پاسبولا نے دلائل پیش کیے۔ درخواست میں آدتیہ ٹھاکرے کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
آدتیہ ٹھاکرے کے وکیل نے کہا کہ جب راشد خان پٹھان نے شکایت دی تھی، اس وقت ستیش سالیان نے کوئی شکایت نہیں کی تھی۔ ان کے مطابق بعد میں سنی سنائی معلومات کی بنیاد پر من مانے الزامات عائد کیے گئے، جن کے پیچھے سیاسی دشمنی اور دیگر مقاصد ہو سکتے ہیں۔ وکیل نے رانے کا نام بھی لیا اور کہا کہ سیاسی مخالفین کی جانب سے یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے، جس میں رانے، ان کے بیٹے اور قومی میڈیا سے وابستہ ایک شخص شامل ہیں۔
انہوں نے عدالت سے درخواست مسترد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ درخواست حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ وکیل نے کہا کہ انہیں دشا کے والد سے پوری ہمدردی ہے اور انہیں اپنی بیٹی کی موت کے معاملے میں وضاحت اور اطمینان ملنا چاہیے، لیکن ان کی موت کے نام پر ہونے والی سیاست ختم ہونی چاہیے۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد بامبے ہائی کورٹ نے درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
