دہلی ایس آئی آر: کم ووٹنگ والے علاقوں میں ڈیجیٹائزیشن بھی ہوا کم، ڈاٹا اینالیسس سے ہوا انکشاف!

دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کے ڈاٹا کے مطابق ڈیڑھ ماہ چلی اس کارروائی کے دوران تقریباً 97.51 لاکھ ووٹرز کے فارم جمع کر کے الیکشن کمیشن پورٹل پر اپلوڈ کیے جا چکے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>سی ای او دہلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے،&nbsp;تصویر&nbsp;<a href="https://x.com/CeodelhiOffice">@CeodelhiOffice</a></p></div>
i

دہلی میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے ڈرافٹ مرحلہ میں ایک پیٹرن سامنے آیا ہے۔ جن اسمبلی حلقوں میں 2025 کے اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ کم ہوئی تھی، وہاں ڈیجیٹائزیشن کی شرح بھی اوسط سے کم ہونے کا امکان ہے۔ اس سے وہاں کے ووٹرز کا ایک بڑا حصہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے باہر ہو سکتا ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی لائیو‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق دہلی میں 70 اسمبلی حلقے ہیں، اور ڈاٹا کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ 2025 کے انتخابات میں سب سے کم ووٹنگ والے 18 اسمبلی حلقوں میں سے 17 (جو مجموعی اسمبلی سیٹوں کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہیں) میں ڈیجیٹائزیشن شرح دہلی کی 67 فیصد اوسط سے کم تھا۔

یہ پیٹرن مجموعی طور پر ایس آئی آر عمل کے بارے میں الیکشن کمیشن کی وضاحت سے میل کھاتا ہے۔ جن علاقوں میں ایسے ووٹرز کی تعداد زیادہ ہے جو دوسری جگہ منتقل ہو گئے ہیں، جن کی موت ہو گئی ہے یا جو کسی دیگر وجہ سے نااہل ہیں، وہاں ووٹنگ کم ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ریویژن کے دوران ایسے ناموں کی شرح بھی زیادہ ہو سکتی ہے جنہیں ’ان کلیکٹیبل‘ (معلومات نہ مل پانے والے) کے طور پر چھانٹ دیا گیا۔


یہ اسمبلی حلقے پوری دہلی میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان میں امیر علاقے اور کم آمدنی والے علاقے دونوں شامل ہیں۔ تاہم اہم بات یہ ہے کہ ڈاٹا کا تجزیہ پوروانچلی یا مسلم آبادی والے علاقوں میں ایک جیسا پیٹرن نہیں دکھاتا ہے۔ جن 15 علاقوں میں پوروانچلی ووٹر ایک بڑی سیاسی طاقت مانے جاتے ہیں، ان میں سے 7 میں ڈیجیٹائزیشن کی شرح دہلی کی اوسط سے کم ہے، جبکہ 8 میں یہ اوسط سے زیادہ ہے۔

سامنے آئے ڈاٹا کے مطابق سنگم وہار میں ڈیجیٹائزیشن کی شرح 59 فیصد، براری میں 61 فیصد اور رٹھالا میں 64 فیصد ہے۔ لیکن پوروانچلی آبادی والے دوسرے علاقوں میں یہ شرح کافی زیادہ ہے۔ یہ شرح مٹیالا میں 76 فیصد، دوارکا میں 72 فیصد اور بابرپور میں 73 فیصد ہے۔


انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ کے ڈاٹا کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ جن 7 علاقوں میں مسلم آبادی کافی زیادہ ہے، وہاں بھی ڈیجیٹائزیشن کی شرح بہت کم نہیں ہے۔ 5 علاقوں میں یہ شرح شہر کی اوسط سے زیادہ ہے، جبکہ 2 میں یہ اوسط سے کم ہے۔ اوکھلا میں یہ شرح سب سے کم یعنی تقریباً 55 فیصد ہے، جبکہ چاندنی چوک میں 61 فیصد ہے۔ دوسری طرف مٹیا محل میں تقریباً 75 فیصد ووٹرز کا ڈاٹا ڈیجیٹائز کیا گیا ہے۔ بابرپور میں یہ شرح 73 فیصد اور مصطفیٰ آباد میں تقریباً 72 فیصد ہے۔

تاہم ایس آئی آر کے بعد کتنے لوگوں کے نام لسٹ سے ہٹائے گئے ہیں، اس کا پتہ 4 نومبر کو حتمی ووٹر لسٹ شائع ہونے کے بعد ہی چلے گا۔ ڈرافٹ لسٹ 31 اگست کو شائع ہونی ہے، جس کے بعد جن ووٹرز کے نام لسٹ میں نہیں ہیں، وہ اپنا نام شامل کروانے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ ڈاٹا جمع کرنے کا کام گزشتہ ہفتے ختم ہوا۔


دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کے ڈاٹا کے مطابق تقریباً ڈیڑھ ماہ چلی اس کارروائی کے دوران تقریباً 97.51 لاکھ ووٹرز کے فارم جمع کر کے الیکشن کمیشن پورٹل پر اپلوڈ کیے گئے۔ یہ تعداد دہلی میں ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے کے وقت لسٹ میں موجود 1.45 کروڑ ووٹروں کا 67 فیصد ہے۔ باقی بچے 47.58 لاکھ ووٹر، جو مجموعی ووٹرز کا تقریباً 33 فیصد ہیں، انہیں ’معلومات نہ مل پانے والے‘ زمرہ میں رکھا گیا ہے۔ اس زمرہ میں وہ ووٹرز شامل ہیں جو گھر پر نہیں ملے، کہیں اور منتقل ہو گئے یا جن کی موت ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی ڈپلی کیٹ اندراج اور ’دیگر وجوہات‘ سے لسٹ میں شامل لوگ بھی اس میں ہیں۔ ڈرافٹ لسٹ سے ان کے نام ہٹائے جا سکتے ہیں، تاہم لسٹ میں اصلاح کے عمل کے دوران انہیں اپنا نام شامل کروانے کا موقع ملے گا۔

واضح رہے کہ ایس آئی آر کے دوران بوتھ لیول افسران (بی ایل او) گھر گھر جا کر اینومریشن فارم تقسیم کرتے ہیں، ووٹرز کو انہیں بھرنے میں مدد کرتے ہیں اور بھرے ہوئے فارم جمع کرتے ہیں۔ اس کے بعد بی ایل او معلومات کو الیکشن کمیشن آف انڈیا کے آفیشل پورٹل پر اپلوڈ کرتے ہیں۔ اس عمل کو ڈیجیٹائزیشن کہا جاتا ہے۔ ڈیجیٹائزیشن ریٹ ان ووٹرز کے تناسب کو ظاہر کرتا ہے جن کے فارم اپلوڈ ہو چکے ہیں اور جن کے ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کا امکان ہے۔


صرف آدرش نگر اس پیٹرن سے الگ ہے، جہاں ووٹنگ 56 فیصد رہی، لیکن ڈیجیٹائزیشن ریٹ تقریباً 70 فیصد درج کیا گیا۔ مہرولی، جہاں سب سے کم 53 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی، وہاں تقریباً 59 فیصد ووٹروں کا ڈاٹا ڈیجیٹائز کیا گیا ہے۔ کستوربا نگر میں ووٹنگ 54 فیصد تھی، وہاں ڈیجیٹائزیشن ریٹ تقریباً 56 فیصد ہے۔ اسی طرح تغلق آباد میں ووٹنگ 56 فیصد تھی اور ڈیجیٹائزیشن تقریباً 52 فیصد ہے۔