قومی خبریں

گوتَم بدھ نگر میں کسانوں کا احتجاج، ’مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا‘، راکیش ٹکیت کا اعلان

گوتَم بدھ نگر میں کسانوں نے زیرِ التوا مطالبات کی تکمیل تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ راکیش ٹکیت نے 64.7 فیصد اضافی معاوضے، 10 فیصد پلاٹ سمیت دیگر مطالبات کی حمایت کی

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

گوتم بدھ نگر میں کسانوں نے اپنے دیرینہ اور زیرِ التوا مطالبات کی تکمیل تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کی جانب سے پیر کو منعقدہ کسان مہاپنچایت کے بعد بڑی تعداد میں کسان پیدل مارچ کرتے ہوئے یمنا اتھارٹی کے دفتر کے سامنے پہنچے اور دھرنے پر بیٹھ گئے۔ کسان رہنماؤں نے واضح کیا کہ مطالبات پر ٹھوس فیصلہ ہونے تک وہ احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

مہاپنچایت میں ضلع کے سیکڑوں گاؤں سے ہزاروں کسانوں کے علاوہ خواتین اور نوجوانوں نے بھی شرکت کی۔ کسانوں نے اپنے مسائل کے حل میں تاخیر پر انتظامیہ اور حکومت کے خلاف آواز بلند کی۔ بھارتیہ کسان یونین کے قومی ترجمان چودھری راکیش ٹکیت نے مہاپنچایت سے خطاب کرتے ہوئے کسانوں کے مطالبات کو فوری طور پر حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

مہاپنچایت کے بعد کسان جب پیدل مارچ کرتے ہوئے یمنا اتھارٹی کے دفتر کی جانب بڑھے تو، کسانوں کے مطابق، پولیس انتظامیہ نے انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی۔ اس پر کسان سڑک پر ہی بیٹھ گئے اور پولیس انتظامیہ و حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ بڑی تعداد میں کسانوں کے جمع ہونے کے باعث موقع پر کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا۔

راکیش ٹکیت نے کہا کہ جب تک کسانوں کے مطالبات پورے نہیں ہوں گے، دھرنا جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے کئی مسائل طویل عرصے سے زیرِ التوا ہیں اور متعلقہ اتھارٹیز کی جانب سے متعدد مرتبہ یقین دہانی کرائے جانے کے باوجود ان کا مستقل حل نہیں نکالا گیا۔ کسان رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ ان کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے، جس کے باعث ان میں ناراضی بڑھ رہی ہے۔

کسانوں نے اپنی اہم مانگوں میں 64.7 فیصد اضافی معاوضہ، 10 فیصد کسان کوٹے کے پلاٹ اور آبادی سے متعلق زیرِ التوا معاملات کا فوری تصفیہ شامل کیا ہے۔ اس کے علاوہ علاقے میں کھاد کی کالا بازاری پر روک لگانے، نہروں میں مناسب مقدار میں پانی فراہم کرنے اور بجلی کی بڑھی ہوئی شرحیں واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

کسانوں نے زمینوں کے غلط طریقے سے کیے گئے حصول (ایکویزیشن) کے معاملے میں بھی انتظامیہ سے پالیسی واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے جن کسانوں کی زمینیں حاصل کی گئی ہیں، انہیں ضابطے کے مطابق ان کے حقوق اور مناسب معاوضہ و فوائد ملنے چاہئیں۔

کسانوں نے جیور ایئرپورٹ میں مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے اور بے زمین کسانوں کو 120 مربع میٹر کے پلاٹ دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے سبب جن لوگوں کی زمینیں چلی گئی ہیں یا جو بے زمین ہوگئے ہیں، ان کی بازآبادکاری اور مستقبل کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

بھارتیہ کسان یونین کے مطابق کسان نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا اور یمنا، تینوں اتھارٹیز کے دفاتر کے باہر دھرنے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ کسان رہنماؤں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر مطالبات پر جلد مثبت فیصلہ نہیں کیا گیا تو احتجاج کو مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔