موبائل پر گھنٹوں ریلز دیکھنا چھوڑیے، کتاب پڑھیے اور پیسے کمائیے، سنگاپور کی انوکھی پہل
سنگاپور کی انوکھی پہل کے بارے میں کافی باتیں ہو رہی ہیں اور یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا جا رہا ہے جب لوگ کتابوں کو چھوڑ کر ریلز اور شارٹس دیکھنے کے لیے فون اسکرین سے چپکے ہوئے ہوتے ہیں۔

سوچیے موبائل پر گھنٹوں ریلز دیکھنے کی عادت چھوڑ کر اگر کتاب پڑھنے پر آپ کو پیسے ملنے لگیں تو؟ سننے میں یہ کسی مزیدار آفر جیسا لگتا ہے، لیکن ایک ایسا ملک ہے جو پڑھنے کے لیے لوگوں کو پیسے دے رہا ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں سنگاپور کی، جو اب پڑھنے کی عادت کو فروغ دینے کے لیے کچھ ایسا ہی تجربہ کرنے جا رہا ہے۔ مقصد ہے لوگوں کو اسکرین پر ریلز اور شارٹس دیکھنے سے تھوڑا دور کرنا، کتابوں سے قریب لانا اور پڑھنے کو روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنانا۔
واضح رہے کہ سنگاپور میں ستمبر 2026 میں ایک نئی قومی پہل شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس کے تحت ملک میں پہلا ’نیشنل ریڈنگ منتھ‘ بھی آرگنائز کیا گیا ہے۔ نیشنل لائبریری بورڈ کا کہنا ہے کہ اس پہل کا مقصد خاص طور پر نوجوانوں اور ضعیفوں کے درمیان پڑھنے کی روایت کو پھر سے مضبوط کرنا ہے۔ اس مہم کی سب سے دلچسپ بات اس کا ریوارڈ سسٹم ہے۔ رپورٹ کے مطابق لوگوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اپنی روزانہ کی پڑھائی درج کرنے کے بدلے ورچوئل کوائن ملیں گے۔
خاص بات یہ ہے کہ ان کوائنز کو آگے چل کر نقد رقم میں بدلا جا سکتا ہے۔ یعنی کتاب پڑھنا اب صرف علم حاصل کرنے یا وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں رہے گا بلکہ اس کے لیے مالیاتی انعام بھی مل سکتا ہے۔ آج موبائل کی اسکرین پر کچھ ہی سیکنڈ میں نئی ویڈیو سامنے آ جاتی ہے۔ ایک ریل ختم ہوتے ہی دوسری شروع اور پھر تیسری۔ یہی مسلسل بدلتا ہوا مواد لوگوں کو طویل وقت تک اسکرین پر روکے رکھتا ہے۔ اس کے مقابلے کتاب پڑھنے کے لیے صبر، یکسوئی اور مسلسل توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
حالانکہ اس منصوبہ کے تحت کتاب پڑھ کر کوئی امیر نہیں بننے والا۔ 15 منٹ یا اس سے زیادہ پڑھنے پر روزانہ 20 ورچوئل کوائن ملیں گے۔ ایک دن میں صرف ایک ریڈنگ سیشن کا ہی کوائن ملے گا۔ 1000 کوائن جمع ہونے پر 1 سنگاپور ڈالر یعنی تقریباً 76 روپے ملیں گے۔ اس انوکھی پہل کے بارے میں کافی باتیں ہو رہی ہیں اور یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا جا رہا ہے جب لوگ کتابوں کو چھوڑ کر فون اسکرین سے چپکے ہوئے ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ سنگاپور کا یہ تجربہ صرف پڑھنے کی عادت کو فروغ دینے کی کوشش نہیں بلکہ ڈیجیٹل دور میں لوگوں کی توجہ کے دورانیے کو لے کر بھی ایک دلچسپ معاشرتی تجربہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ سنگاپور پہلے بھی نیشنل ریڈنگ موومنٹ جیسے اقدامات کے ذریعہ پڑھنے کی روایت کو فروغ دیتا رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں بھی اسمارٹ فون پر شارٹ ویڈیوز دیکھنے کا چلن تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ انسٹاگرام ریلز، یوٹیوب شارٹس اور دوسرے چھوٹے ویڈیو پلیٹ فارم لوگوں کے خالی وقت کا بڑا حصہ لے رہے ہیں۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اب بچے بھی کتابوں سے زیادہ فون پر وقت دے رہے ہیں۔ ایسے میں اگر کتاب پڑھنے کے بدلے انعام دینے کا منصوبہ شروع کیا جائے تو تبدیلی کی کچھ امید کی جا سکتی ہے۔
ہندوستان میں ٹی وی کے مقابلے انسٹاگرام ریلز کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ میٹا کے ایک سروے کے مطابق ریلز اب ہندوستان میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے شارٹ ویڈیو فارمیٹ میں شامل ہے۔ کمپنی نے 33 شہروں میں 3500 سے زیادہ لوگوں پر کیے گئے سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 95 فیصد صارف روزانہ ریلز دیکھتے ہیں۔ دوسری جانب 92 فیصد لوگوں نے ریلز کو اپنا پسندیدہ ویڈیو پلیٹ فارم بتایا ہے۔ میٹا کا دعویٰ ہے کہ ریلز کی پہنچ اب ٹی وی کے ساتھ ساتھ دوسرے انٹرٹینمٹ میڈیا سے بھی آگے نکل رہی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
