موبائل فون سے چپکے رہنے کی ’لت‘ ہر سال 20 ہزار بچوں کی لے رہی جان، ڈیریک اوبرائن نے حکومت سے قانون بنانے کا کیا مطالبہ
ڈیریک اوبرائن نے کہا کہ ’’مختلف تحقیقی رپورٹس سے اشارہ ملتا ہے کہ بچے اور نوجوان روزانہ کم از کم 8 گھنٹے موبائل فون اور اسکرین پر گزار رہے ہیں، جو سالانہ 100 دنوں سے زائد کے برابر ہے۔‘‘

ہر وقت ٹی وی یا موبائل کی اسکرین سے چپکے رہنے کی لت بچوں اور نوعمروں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔ ہر سال کم از کم 20 ہزار بچے اس کی وجہ سے خودکشی کر لیتے ہیں۔ یہ دعویٰ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈیریک اوبرائن نے جمعہ (27 مارچ) کو راجیہ سبھا میں کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس بحران کے حل کے لیے فوری کارروائی کرنی چاہیے۔
ایوان بالا میں وقفۂ صفر کے دوران یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا رکن نے کہا کہ مختلف تحقیقی رپورٹس سے اشارہ ملتا ہے کہ بچے اور نوجوان روزانہ کم از کم 8 گھنٹے موبائل فون اور اسکرین پر گزار رہے ہیں، جو سالانہ 100 دنوں سے زائد کے برابر ہے۔ دنیا کے 68 ممالک پہلے ہی اسکولوں میں موبائل فون پر پابندی عائد کر چکے ہیں۔ اسکرین کا حد سے زیادہ استعمال نیند میں خلل ڈالتا ہے، بے چینی کے خطرے کو بڑھاتا ہے اور موڈ میں تیزی سے تبدیلی کا سبب بنتا ہے۔ ساتھ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ موبائل فون یا اسکرین کے ضرورت کے مطابق استعمال کو فروغ دیا جائے، آف لائن سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور نوجوانوں کی ذہنی صحت اور ’ڈیجیٹل ایڈکشن‘ کے صحت پر اثرات کے بارے میں جامع تبادلہ خیال شروع کیا جائے۔
ڈیریک اوبرائن کے علاوہ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ دیپیندر سنگھ ہڈا نے بھی جمعہ کے روز حکومت سے بچوں اور نوجوانوں میں سوشل میڈیا اور آن لائن گیم کے بڑھتے ہوئے استعمال کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک قانون لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ لوک سبھا میں وقفۂ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کل بچے گھنٹوں ریل، ویڈیو گیم اور اسکرولنگ میں مصروف رہتے ہیں۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ بچوں اور نوعمروں میں کم عمری میں ہی اسمارٹ فون کی لت لگ رہی ہے، جس سے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس سے منسلک ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ نوجوانوں میں آن لائن سٹے بازی کا رجحان بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔
دیپندر سنگھ ہڈا نے مزید کہا کہ ایوی ایٹر جیسے کھیل میں ورچوئل جہاز کی پرواز کے ساتھ ساتھ پیسے بڑھنے کا لالچ دیا جاتا ہے۔ لُڈو جیسے کھیلوں میں بھی اب سٹے بازی ایک عام بات بن گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فیس بک اور انسٹاگرام جیسی سوشل میڈیا سائٹ پر سٹے پر مبنی کھیلوں کی کھلے عام تشہیر کی جا رہی ہے۔ کانگریس لیڈر کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے علاوہ ’سائبر بُلنگ‘ اور آن لائن ہراساں کرنے کے واقعات بھی ہو رہے ہیں اور ڈیٹا کی پرائیویسی سے متعلق انتہائی سنگین سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے ذکر کیا کہ دنیا کے کئی ممالک میں اس حوالے سے بہت سخت قوانین بنائے گئے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔