میرٹھ ایس ایس پی اور سول لائنز انسپکٹر پر تھرڈ ڈگری ٹارچر کا الزام، کسان رہنما کی ایک آنکھ شدید متاثر

میرٹھ میں بھارتیہ کسان یونین (بی آر امبیڈکر) کے صدر دگ وجے بھاٹی نے سابق ایس ایس پی اویناش پانڈے اور سول لائنز انسپکٹر پر حراست میں تھرڈ ڈگری ٹارچر کا الزام لگایا ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

میرٹھ: بھارتیہ کسان یونین (بی آر امبیڈکر) کے صدر دگ وجے بھاٹی نے میرٹھ کے سابق ایس ایس پی اویناش پانڈے اور سول لائنز انسپکٹر اکھلیش گوڑ پر حراست کے دوران تھرڈ ڈگری ٹارچر اور بے رحمی سے مارپیٹ کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ بھاٹی کا دعویٰ ہے کہ پولیس کی پٹائی سے ان کی ایک آنکھ شدید متاثر ہوئی ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق اس کی بینائی صرف 30 فیصد تک بحال ہو پائے گی۔

آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے دگ وجے بھاٹی نے کہا کہ للتہ گوتم قتل معاملے کو لے کر 8 جولائی کو ہوئے احتجاج میں وہ شامل نہیں تھے اور اس وقت نوئیڈا-غازی آباد میں تھے۔ اس کے باوجود انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ ان کے مطابق، بعد میں موہت نے ایس ایس پی سے بات کرتے ہوئے خود کو بے قصور بتایا، جس کے بعد دونوں کو ایس ایس پی سے ملاقات کے لیے بلایا گیا۔

بھاٹی کا الزام ہے کہ ایس ایس پی سے ملاقات کے دوران انہیں اور موہت کو ایک کیبن میں لے جایا گیا، جہاں 3-4 افراد نے کہنیوں سے مارا اور شدید پٹائی کی۔ ان کے مطابق جب وہ ایس ایس پی کے قدموں پر گر رہے تھے تو انہیں لات ماری گئی، جو ان کی آنکھ پر لگی۔


بھاٹی نے دعویٰ کیا کہ اس کے بعد سول لائنز انسپکٹر اکھلیش گوڑ کو بلایا گیا اور انہیں ایس او جی دفتر لے جایا گیا، جہاں مبینہ طور پر ٹانگیں باندھ کر الٹا لٹکایا گیا اور مارپیٹ کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کی چیخیں فون پر ایس ایس پی کو سنائی گئیں۔ یہ الزامات اس وقت سامنے آئے جب دگ وجے بھاٹی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں ان کی بائیں آنکھ سوجی ہوئی اور جسم پر چوٹ کے نشانات دکھائی دے رہے ہیں۔

یہ معاملہ 8 جولائی کو دلت مظاہرین کے احتجاج سے متعلق ہے، جو کالج طالبہ للتہ گوتم کے قتل کی تحقیقات پر سوال اٹھاتے ہوئے میرٹھ کلکٹریٹ پر احتجاج کر رہے تھے۔ احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین میں تصادم کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا اور 63 مظاہرین کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

دوسری جانب میرٹھ پولیس نے بھاٹی کے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق دگ وجے بھاٹی اور موہت جاٹو کے خلاف پہلے سے متعدد مقدمات درج ہیں اور دونوں متعلقہ تھانوں کے ہسٹری شیٹر ہیں۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ 19 اگست کو دونوں سول لائنز تھانے آئے تھے اور واپسی کے دوران ان کا اسکوٹر پھسل گیا، جس سے انہیں چوٹیں آئیں۔ پولیس کے مطابق دونوں نے خود اس واقعے کے سلسلے میں تحریری درخواست دی تھی، جسے شام 5 بج کر 31 منٹ پر جنرل ڈائری میں درج کیا گیا۔

دریں اثنا، معاملہ سامنے آنے کے بعد میرٹھ کے ایس ایس پی اویناش پانڈے کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ انہیں پولیس ڈائریکٹر جنرل ہیڈکوارٹر سے منسلک کیا گیا ہے، جبکہ جھانسی کے ایس ایس پی بی بی جی ٹی ایس مورتی کو میرٹھ کا نیا ایس ایس پی مقرر کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔