راجستھان میں کھاد کے لیے کسان پریشان، خالی ہاتھ لوٹنے پر مجبور: اشوک گہلوت

اشوک گہلوت نے راجستھان میں کھاد کی قلت پر بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ گوداموں میں 3 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد کھاد کے باوجود کسان قطاروں میں خالی ہاتھ لوٹ رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>اشوک گہلوت/ فایل تصویر / قومی آواز / ویپن</p></div>
i

جے پور: راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر رہنما اشوک گہلوت نے ریاست میں کھاد کی قلت کو لے کر بی جے پی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی اضلاع میں کسان گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہنے کے باوجود کھاد حاصل کیے بغیر خالی ہاتھ واپس لوٹنے پر مجبور ہیں۔ گہلوت نے اسے محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ منصوبہ بند لوٹ قرار دیا۔

گہلوت نے منگل کو جاری ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی حکومت کے محکمہ زراعت کی ’’شرمناک تصویر‘‘ سامنے آ رہی ہے۔ ان کے مطابق ریاست کے گوداموں میں تین لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ کھاد موجود ہونے کے باوجود کسانوں کو اس کے حصول کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان کئی گھنٹے قطار میں کھڑے رہتے ہیں، لیکن آخرکار انہیں خالی ہاتھ واپس جانا پڑتا ہے۔

کانگریس رہنما نے مرکز اور ریاست کی بی جے پی حکومتوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دونوں حکومتیں کھاد کا وافر اسٹاک ہونے کا دعویٰ کر رہی ہیں، لیکن زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ان کے مطابق بھرت پور سمیت کئی اضلاع میں کسان کھاد کے لیے قطاروں میں دھکے کھا رہے ہیں۔


گہلوت نے کہا کہ کمزور مانسون کی وجہ سے راجستھان میں خریف کی بوائی پہلے ہی ہدف سے 14.88 لاکھ ہیکٹیئر پیچھے رہ گئی ہے۔ اب کھاد کی قلت نے کسانوں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں اور جو فصلیں بچی ہیں، ان کے بھی متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ بعض دکاندار جان بوجھ کر مصنوعی قلت پیدا کرکے کھاد کی کالابازاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کسانوں کے حصے کی کھاد صنعتوں کو بھیجے جانے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔

گہلوت نے مزید کہا کہ کسانوں کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ 266 روپے میں دستیاب یوریا کی بوری انہیں 500 روپے تک میں فروخت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سرکاری گوداموں میں کھاد دستیاب ہے تو وہ کسانوں تک کیوں نہیں پہنچ رہی۔

انہوں نے محکمہ زراعت کی جانب سے نگرانی کے لیے افسران اور ملازمین تعینات کیے جانے کو بھی ناکافی قرار دیا۔ گہلوت کے مطابق اگر یہ نگرانی کسانوں کو درپیش مسائل اور کالابازاری روکنے میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہی تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔


کانگریس رہنما نے حکومت سے سوال کیا کہ جو حکومت اپنے ہی گوداموں میں موجود کھاد کسانوں تک نہیں پہنچا سکتی، وہ خود کو کسان دوست حکومت کس بنیاد پر قرار دے سکتی ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کھاد کی تقسیم میں شفافیت لائی جائے، کالابازاری پر روک لگائی جائے اور کسانوں کو بروقت کھاد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔