عوام کو مہنگائی نے کیا بے حال، چینی-پیاز کے بعد ادرک اور لہسن کی قیمتوں میں بھی اضافہ
مرکزی حکومت کے ذریعہ جاری اعداد و شمار کے مطابق اگست میں خوردہ مہنگائی بڑھ کر 4.82 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ تھوک مہنگائی 9.92 فیصد پر پہچ گئی ہے۔

مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی کو بے حد پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ چینی، پیاز کے بعد ادرک اور لہسن بھی مہنگے ہو گئے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے تشویش پیدا کر دی ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ جاری اعداد و شمار کے مطابق اگست میں خوردہ مہنگائی بڑھ کر 4.82 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ تھوک مہنگائی 9.92 فیصد پر پہچ گئی ہے۔ جولائی میں خوردہ مہنگائی 4.45 فیصد تھی، اگست کا اعداد و شمار نئی سیریز میں اب تک سب سے زیادہ ہے۔ وہیں یہ اعداد و شمار ریزرو بینک (آر بی آئی) کے لیے بھی باعث تشویش ہے، کیوں کہ اس کا ہدف خوردہ افراط زر کو 4 فیصد رکھنے کا ہے۔ جس میں دونوں طرف 2 فیصد مارجن ہے۔ خوردہ اشیائے خوردونوش کی افراط زر اگست میں بڑھ کر 5.95 فیصد ہو گئی، جو جولائی میں 5.52 فیصد تھی۔ روزمرہ استعمال ہونے والی متعدد چیزیں مہنگی ہو گئی ہیں۔
پیاز کی قیمت میں اگست ماہ میں 48.27 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا تھا۔ چینی 30 فیصد، لہسن 43.6 فیصد اور ادرک 73.82 فیصد مہنگا ہوا تھا، جس کا اثر براہ راست گھریلو بجٹ پر پڑ رہا ہے۔ جبکہ ٹماٹر، آلو، بھنڈی اور پرول جیسی سبزیوں کی قیمتیں مستحکم ہیں۔ دیہی علاقوں میں خوردہ مہنگائی اگست میں 5.23 فیصد رہی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ 4.31 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یعنی شہروں کے مقابلے گاؤں میں مہنگائی کا اثر زیادہ دیکھا گیا۔ ریاستوں کی بات کرین تو تلنگانہ میں خوردہ مہنگائی سب سے زیادہ 6.27 رہی۔ وہیں میزورم میں یہ سب سے کم 2.35 فیصد درج کی گئی۔ صرف خوردہ بازار ہی نہیں، تھوک بازار میں بھی مہنگائی کا دباؤ بڑھا ہے۔ اگست میں تھوک مہنگائی (ڈبلیو پی آئی) 9.78 سے بڑھ کر 9.92 فیصد ہو گئی۔ نئی سریز جس میں 2022-23 کوبیس ایئر بنایا گیا ہے، اس میں یہ دوسری سب سے اونچی سطح ہے۔
ہول سیل فوڈ مہنگائی اگست میں 6.65 فیصد سے بڑھ کر 7.05 فیصد ہوگئی۔ مینیوفیکچرد پروڈکٹس کی مہنگائی بھی 8.29 فیصد سے بڑھ کر 8.37 فیصد ہو گئی، جو کہ اس سریز کی اب تک کی سب سے اونچی سطح ہے۔ سب سے بڑی تشویش ایندھن اور بجلی کے شعبے سے متعلق ہے۔ اس کی مہگائی 20.05 فیصد سے بڑھ کر 22.93 فیصد ہو گئی۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مستقبل میں مینوفیکچرنگ، نقل و حمل اور دیگر خدمات کی لاگت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ توانائی کی قیمتیں آنے والے دنوں میں چیلنج بن سکتی ہیں۔ مغربی ایشیا میں جاری تنازعات کے درمیان خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہندوستان کی معیشت کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگر خام تیل مہنگا رہتا ہے تو اس کا اثر ٹرانسپورٹ سے لے کر روزمرہ کے سامان کی لاگت تک پہچ سکتا ہے۔
کرسیل کے چیف اکانومسٹ دھرمکرتی جوشی نے کہا کہ توانائی کی اونچی قیمتیں آہستہ آہستہ پوری معیشت کی لاگت کے ڈھانچے میں شامل ہو جاتی ہیں۔ ان کے مطابق مضبوط اقتصادی ترقی سے مانگ بنی ہوئی ہے، جبکہ مغربی ایشیا کشیدگی نے ان پٹ لاگت کے دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔ اب ان اعداد و شمار کے درمیان سب سے زیادہ نظر ریزرو بینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی اگلی میٹنگ پر ہے۔ ایم پی سی کی میٹنگ 5 سے 7 اکتوبر تک ہوگی۔ اگست کی میٹنگ میں آر بی آئی نے مہنگائی کی تشویش کے درمیان اہم شارٹ ٹرم پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی تھی۔ آر بی آئی نے مالی سال 2026-27 کے لیے سی پی آئی مہنگائی 5 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
