قومی خبریں

فرقہ وارانہ بیان بازی کے بجائے گنگا کی صفائی پر دھیان دیں، یوپی کی کابینی وزیر کو ایس پی نے بنایا نشانہ

ایس پی ترجمان نے یوپی وزیر بے بی رانی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں فرقہ وارانہ اور فسادی بیانات دینا بند کرنا چاہیے اور گنگا کی صفائی پر دھیان دینا چاہیے۔ انہیں سائنسی نقطہ نظر کو سمجھنا ہوگا۔

<div class="paragraphs"><p>سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو / آئی اے این ایس</p></div>

سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو / آئی اے این ایس

 

اتر پردیش کی بی جے پی حکومت میں کابینہ وزیر بے بی رانی موریہ کی جانب سے گنگا کی صفائی سے متعلق اکھلیش یادو کے بیان کو فرقہ وارانہ اور فسادی قرار دیئے جانے پر سماجوادی پارٹی (ایس پی) نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی سربراہ کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے ترجمان منوج کاکا نے ریاستی وزیر بے بی رانی موریہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں فرقہ وارانہ اور فسادی بیانات دینا بند کر دینا چاہیے اور گنگا کی صفائی پر توجہ دینی چاہیے۔ انہیں اکھلیش یادو کے سائنسی نقطہ نظر کو سمجھنا ہوگا۔

Published: undefined

منوج کاکا نے مزید کہا کہ ماں گنگا کا پانی تبھی بہتر ہوگا جب اس کے بی او ڈی اور سی او ڈی کی سطح 2 سے کم ہوجائے گی۔ کاکا نے یہ بیان لکھنؤ میں بے بی رانی موریہ کے ریمارکس کے جواب میں دیا۔ ایس پی ترجمان نے کہا کہ اکھلیش یادو نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ بائیو کیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ (بی او ڈی) اور کیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ (سی او ڈی) کی سطح بے حد ضروری ہے۔ صاف پانی میں دونوں کی سطح 2 ایم جی فی لیٹر سے کم ہوناچاہئے۔ یہی نہیں انہوں نے الزام لگایا کہ وارانسی اور کانپور سمیت کئی شہروں میں صنعتی فضلہ، سیور کا گندا پانی اور دیگر آلودگی براہ راست گنگا میں بہائی جا رہی ہے جو کہ ضابطوں کے خلاف ہے۔ اس پر کوئی بحث نہیں ہے۔

Published: undefined

ایس پی کے ترجمان نے مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ نمامی گنگے پر 55,000 کروڑ روپے خرچ ہوچکے ہیں لیکن حکومت ہند (سی اے جی) بھی کہتی ہے کہ کہ کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ انہوں نے بے بی رانی موریہ سے اپیل کی کہ فرقہ وارانہ بیانات دینے کے بجائے بہتر ہوگا کہ اکھلیش یادو کے سائنسی پہلوؤں پر تحقیق کریں۔ آپ کو پتا چلے کہ فسادی بیانات سے گنگا صاف نہیں ہوگی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined