
فائل تصویر، سوشل میڈیا
اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت نے انکیتا بھنڈاری قتل معاملہ کی جانچ سے متعلق کانگریس کے ذریعہ لگاتار کیے جا رہے مطالبہ کو آخر کار مان لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے انکیتا بھنڈاری قتل معاملہ کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کی سفارش کر دی ہے۔ جمعہ کے روز اس سے متعلق اعلان کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انکیتا کے والدین کی گزارش اور ان کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے اس معاملہ کی سی بی آئی جانچ کرانے کی منظوری دی ہے۔
Published: undefined
پشکر سنگھ دھامی کے ذریعہ اس اعلان کے بعد کانگریس نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’آخر کار بی جے پی حکومت کو جھکنا پڑا۔ انکیتا بھنڈاری کیس میں اب سی بی آئی جانچ ہوگی۔ انکیتا بھنڈاری کے اہل خانہ شروع سے ہی یہ مطالبہ کر رہے تھے، لیکن انا پرست بی جے پی حکومت ان کی سن نہیں رہی تھی۔‘‘ کانگریس نے مزید لکھا ہے کہ ’’جب ملک کی عوام اور کانگریس نے سڑک پر اتر کر انکیتا کیس میں سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا، تو بی جے پی حکومت کو جھکنا ہی پڑا۔‘‘
Published: undefined
کانگریس کا کہنا ہے کہ انکیتا بھنڈاری قتل کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کا یہ بھی مطلب ہے کہ بی جے پی حکومت نے جانچ میں لیپا پوتی کی تھی۔ کانگریس نے کہا کہ ’’ابھی یہ شروعات ہے... ہم انکیتا بھنڈاری کیس میں شامل ’وی آئی پی‘ اور ملزمین کو سزا دلا کر رہیں گے۔‘‘ اتراکھنڈ کے کانگریس صدر گنیش گودیال کا بیان بھی اس معاملے میں سامنے آ گیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’انکیتا بھنڈاری قتل کیس میں سی بی آئی جانچ کے مطالبہ کو قبول کر اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس کیس کی جانچ میں غلطیاں ہوئی ہیں۔‘‘
Published: undefined
کانگریس نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر اتراکھنڈ کانگریس صدر کا ویڈیو پیغام جاری کیا ہے، جس میں وہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ ’’یہ انکیتا بھنڈاری کے والدین کی جدوجہد کا ہی نتیجہ ہے کہ بی جے پی حکومت سی بی آئی جانچ کے لیے راضی ہوئی۔ یہ عوام کی جدوجہد اور کانگریس کی کوششوں کا بھی نتیجہ ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’کانگریس مطالبہ کرتی ہے کہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کی دیکھ ریکھ میں ہی سی بی آئی جانچ کی ہدایت دی جائے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined